حکایت نمبر256: شانِ اولیاء

حضرتِ سیِّدُنا عمر بن وَاصِل علیہ رحمۃ اللہ القادر سے منقول ہے، ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سَہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا: ”اے ابو محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے عظیم بزرگ بھی ہیں جن کی صبح ”بصرہ” ہوتی ہے اورشام مکۂ مکرمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًامیں۔ کیا واقعی ایساہے ؟” فرمایا :” ہاں !اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں، جوپہلو کے بل لیٹے ہوتے ہیں اورکروٹ بدلتے ہیں تو جہاں چاہتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ۔” پھرکچھ دیر خاموش رہے اور فرمایا : ”کیا ہم دیکھتے نہیں کہ بادشاہ اپنے وزیروں اور مُشیروں میں سے جسے زیادہ فرمانبردار ، بہادر اور اچھی نیت والا دیکھتے ہیں اسے اپنے خزانوں کی چابیاں دے دیتے ہیں اوراجازت دے دیتے ہیں کہ امورِ مملکت میں جو چاہے کرو، تم بااختیار ہو۔ ”اسی طرح بندہ جب اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتارہتاہے ،جن کاموں کا حکم دیا گیاانہیں بجا لاتا ہے ۔ جن سے منع کیا گیا ان سے باز رہتاہے اورہر اس کام کو بخوشی کرتاہے جس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنا مُقَرَّبْ بنالیتا ہے ۔

اے لوگو!بے شک تم غفلت کا شکار ہو ۔ ارے! یہ دنیا تم سے رخصت ہونے والی اورتم اس سے کُوچ کرنے والے ہو۔ جلدی کرو، غفلت کی نیند سے بیدارہوجاؤ ۔ بے شک معاملہ (آخرت )بہت قریب ہے جو کچھ کرنا ہے جلدی جلدی کرلو۔

؎ کوچ، ہاں! اے بے خبر ہونے کو ہے کب تَلَک غفلت سحر ہونے کو ہے

کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا