أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا‌ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كٰرِهِيْنَ ۞

ترجمہ:

ان (شعیب) کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ! ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ضرور اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ، شعیب نے جواب دیا خواہ ہم اس کو ناپسند کرنے والے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ان (شعیب) کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا اے شعیب ! ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ضرور اپنی بستی سے نکال دیں گے یا پھر تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ، شعیب نے جواب دیا خواہ ہم اس کو ناپسند کرنے والے ہوں “

حضرت شعیب (علیہ السلام) پر کفر میں لوٹنے کے اعتراض کے جوابات :

قرآن مجید میں ہے اولتعودن فی ملتنا اس کا معنی ہے۔ ” یا پھر تم ہمارے دین میں واپس ہوجاؤ ” اس سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے ان کے دین میں شامل تھے۔ گویا آپ پہلے (العیاذ باللہ) کافر تھے۔ اس سوال کے متعدد جواب دیے گئے ہیں 

1 ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پیروکار ان کے دین میں داخل ہونے سے پہلے کافر تھے۔ سو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے حضرت شعیب کو تغلیبا ان کے پیروکاروں میں شامل کرکے یہ کہا کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ۔

2 ۔ کافر سرداروں نے عوام پر تلبیس اور اشتباہ ڈالنے کے لیے اس طرح کہا تاکہ لوگ یہ سجھیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے ان کے ہی ہم عقیدہ تھے اور پھر ان سے منحرف ہو کر کسی نئے دین میں داخل ہوگئے اور حضرت شعیب نے جواب بھی ان کے ایہام کے موافق دیا کہ اگر ہم تمہارے دین میں واپس آگئے۔

3 ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) ابتداء میں اپنے دین کو مخفی رکھتے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ سمجھا کہ وہ اپنی قوم کے دین پر ہیں۔ 

4 ۔ اس آیت میں عود صیرورت کے معنی میں ہے یعنی یا پھر تم ہمارے دین میں آجاؤ اور ہم نے اسی اسلوب پر اس آیت کا ترجمہ کیا ہے۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے طور استفہا انکار اور تعجب کے فرمایا کہ تم ہمیں اپنے دین میں داخل ہونے کے لیے کہتے ہو کیا تم ہمٰں ہماری مرضی اور پسند کے خلاف اپنے دین میں داخل کرلوگے، تم کو یہ علم نہیں کہ توحید کا عقیدہ ہمارے دلوں میں پیوست ہے اس کو کوئی نہیں نکال سکتا۔ تم ہمٰں اس بستی سے نکالنے کی دھمکی دیتے ہو تو سن لو کہ دین کی محبت کے مقابلہ میں وطن کی محبت کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 88