أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِىۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰٮنَا اللّٰهُ مِنۡهَا‌ ؕ وَمَا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا‌ ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا‌ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا‌ ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَـقِّ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے اللہ پر بہتان باندھ دیا اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہوگئے اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے اور ہمارے لیے دین میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے سوا اس کے کہ اللہ ہی چاہے جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا ہے، اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرما دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت شعیب نے کہا) بیشک ہم نے اللہ پر بہتان باندھ دیا اگر ہم تمہارے دین میں داخل ہوگئے اس کے بعد کہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے اور ہمارے لیے دین میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے سوا اس کے کہ اللہ ہی چاہے جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا ہے، اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کا فیصلہ فرما دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمای : اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے دین میں دخول سے محفوظ رکھا ہے اور ہمیں اب کفر میں داخل ہونے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہی ہو تو پھر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز میں اس کی حکمت بالغہ ہے، سو تم یہ طمع نہ کرو کہ اللہ کی مشیت میں یہی ہو تو پھر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے اور ہر چیز میں اس کی حکمت بالغہ ہے، سو تم یہ طمع نہ کرو کہ اللہ کی مشیت میں یہ ہوگا کہ وہ اپنے مخلص بندوں کو ایمان پر ثابت قدم نہیں رکھے گا اور وہ ہمیں گمراہی میں مبتلا کردے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلندو برتر ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں اور مومنوں کو مرتد کرنا چاہے اور ان کو کفر اور گمراہی میں ڈالنا چاہے یہ چیز اللہ کی حکمت کے خلاف ہے اور ہم نے ہر چیز اور ہر بات میں اللہ ہی پر توکل کرلیا ہے اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کو کافی ہے۔ ” ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ : اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اسے کافی ہے ” (الطلاق :3)

توکل کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

علامہ راغب اصفہانی متوفی 502 ھ نے لکھا ہے کہ توکل کے دو معنی ہیں ایک معنی ہے کسی کو والی بنانا اور دوسرا معنی ہے کسی پر اعتماد کرنا۔ (المفردات، ج 2، ص 689، مطبوعہ نکتبہ نزار مصطفی، مکہ المکرمہ)

علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی 986 ھ لکھتے ہیں : توکل یہ ہے کہ تمام معاملات کو اللہ کے حوالے کردیا جائے جو مسبب الاسباب ہے اور اسباب ادیہ سے قطع نظر کرلی جائے اور دوسری تعریف یہ ہے کہ جو چیز انسان کی طاقت سے باہر ہے اس میں سعی اور کوشش کو ترک کردیا جائے اور جو سبب اس کی طاقت میں ہے اس کے حصول کی سعی کی جائے اور یہ گمان نہ کرے کہ مسبب کا حصول اس سبب سے ہوا ہے بلکہ اس کے حصول کا اللہ کی جانب سے اعتقاد رکھے۔ اس کی ائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اس کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں، آپ نے فرمایا : اس کو باندھ کر توکل کرو۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2525، دار الفکر بیروت، جامع الاصول، ج 11، رقم الحدیث : 9505، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1418 ھ)

لوہے سے داغنے اور دم کرانے پر توکل سے بری ہونے کا اشکال :

بہ ظاہر اس حدیث کے معارض یہ حدیث ہے : حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے گرم لوہے سے داگ لگایا یا دم کرنے کو طلب کیا تو وہ توکل سے بری ہوگیا۔ (سنن الرمذی، رقم الحدیث : 2062 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 3865 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3490 ۔ مسند احمد، ج 4، ص 249، طبع قدیم۔ مسند احمد، ج 6، رقم الحدیث : 18225، طبع جدید۔ مسند حمیدی، رقم الحدیث : 763 ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج 8، ص 69 ۔ مسند عبد بن حمید، رقم الحدیث، 393 ۔ السنن الکبری للبیہقی، ج 9، ص 341 ۔ جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5634 ۔ شعب الایمان، ج 2، رقم الحدیث : 1165) اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ جس شخص نے علاج کی نیت سے اپنے کسی عضو پر گرم لوہے سے داغ لگایا یا کسی شخص سے دم کرایا تو وہ توکل سے بری ہوگیا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود علاج کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوا کرنے اور علاج کرانے کے متعلق احادیث :

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا : ہر بیماری کی دوا ہے پس جب کسی بیماری کی دوا حاصل ہوجائے تو وہ اللہ کے اذن سے تندرست ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم، الطب : 69، (2204) 5637 ۔ السنن الکبری للنسائی، ج 4، رقم الحدیث : 7556 ۔ مسند احمد، ج 3، ص 335، جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5627)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کی دوا بھی نازل کی ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5678 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث :3439 ۔ جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5630 ۔ السنن الکبری للنسائی ج 4، رقم الحدیث : 7555)

حضرت اسامہ بن شریک (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ! کیا ہم دوا کریں آپ نے فرمایا دوا کرو، کیونکہ اللہ نے جو بیماری بنائی ہے اس کے لیے دوا بھی بنائی ہے سوائے بڑھاپے کی بیماری کے۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 3855 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3436 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2045 ۔ السنن الکبری للنسائی، ج 4، رقم الحدیث : 7553 ۔ مسند الحمیدی، رقم الحدیث : 84 ۔ مسند احمد، ج 4، ص 278 ۔ جامع الاصول، ج 6، رقم الحدیث : 5628 ۔ الادب المفرد، رقم الحدیث : 291 ۔ صحیح ابن حبان، ج 13، رقم الحدیث : 6061 ۔ مصنف ابن ابی شیبہ ج 8، ص 1، 2 ۔ المعجم الکبیر، ج 1، رقم الحدیث : 469 ۔ سنن کبری للبیہقی، ج 9، ص 443)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سعد بن معاذ کو تیر کے زخم کی وجہ سے گرم لوہے سے داغ لگایا۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 3866 ۔ جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5684)

دو اور دم سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علاج کرانا :

سہل بن سعد (رض) سے سوال کیا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کس چیز سے علاج کیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا : اب اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا۔ حضرت علی (رض) ڈھال میں پانی لے کر آتے اور حضرت فاطمہ رضٰ اللہ عنہا اس سے زخم کو دھوتیں پھر چٹائی کو جلایا گیا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی گئی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 243 ۔ صحیح مسلم، جہاد : 100 (1790) 4561 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2092 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3464 ۔ مسند احمد، ج 8، رقم الحدیث : 22863 ۔ صحیح ابن حبان، ج 13، رقم الحدیث : 6578)

حضرت انس رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گردن کی دونوں جانبوں کی رگوں اور کندھوں کے درمیان فصد لگواتے تھے اور آپ سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو فصد لگواتے تھے۔ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری بہترین دوا فصد لگانا ہے) ۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5696 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2058، 3860 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3483 ۔ صحیح ابن حبان، ج 13، رقم الحدیث : 6077 ۔ مسند احمد، ج 4، رقم الحدیث : 12192 ۔ سنن کبری للبیہقی، ج 9، رقم الحدیث : 340 ۔ جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5674)

حضرت سلمی (رض) جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتی تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیر میں جب بھی کوئی چھالا یا زخم ہوتا تو آپ مجھے حکم دیتے کہ میں اس پر مہندی لگا دوں۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2054 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 3858 ۔ مسند عبد بن حمید، رق الحدیث : 1563 ۔ مسند احمد، ج 6، ص 462 ۔ جامع الاصول، ج 7، رقم الحدیث : 5645)

حضرت انس بن مالک رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوتے تو حضرت تو حضرت جبرئیل آ کر آپ پر ان کلمات سے دم کرتے باسم یبریک ومن کل داء یشفیک ومن شر حاسد اذا حسد و شر کل ذی عین۔ (صحیح مسلم، اطلب :39 (2185) 5595)

اشکال مذکور کا جواب :

جب ان متعدد احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیماری میں علاج کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ نے خود بھی بیماری میں علاج کیا ہے اور آپ پر دم کیا گیا ہے اور آپ نے صحابہ کا داغ لگانے سے علاج کیا ہے، تو واضح ہوگیا کہ دوا، دم اور علاج کے ذریعہ اسباب کی رعایت کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ کھانے کے ذریعہ بھوک کو دور کرنا اور پانی کے ذریعہ پیاس کو دور کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حراء میں کئی کئی دنوں کا کھانا لے کر جاتے تھے۔ ازواج مطہرات کو ایک سال کی خواراک فراہم کرتے تھے۔ جنگ احد میں آپ دو زرہیں پہن کر گئے تھے، بیماری میں علاج کرتے تھے، دم کراتے تھے۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ کسی مقصود کے اسباب کو حاصل کرنا توکل کے منافی نہیں ہے کیونکہ آپ سید المتوکلین ہیں، اور جس حدیث میں ہے کہ جس شخص نے گرم لوہے سے جسم کو داغا یا دم کرایا، وہ توکل سے بری ہوگیا۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ جس نے ان کو شفا کا قطعی اور یقینی سبب گمان کیا اور اس سے غافل ہوگیا کہ شفاء اللہ نے دینی ہے تو وہ توکل سے بری ہوگیا، اور جس نے یہ گمان کیا کہ یہ محض اسباب غالبہ ہیں اور شفا کی صرف اللہ سے سے امید رکھی تو اس کا توکل اپنے حال پر ہے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت مبارکہ سے ظاہر ہے۔

توکل کی تعریف پر ایک اور اشکال کا جواب : 

یہ حدیث بھی بہ ظاہر توکل کی تعریف کے خلاف ہے۔

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح کو خالی پیٹ ہوتے ہیں اور شام کو ان کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2351 ۔ جامع الاصول، ج 10، رقم الحدیث : 7619 ۔ مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث 205 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 4114 ۔ کتاب الزہد لابن المبارک، رقم الحدیث : 559 ۔ مسند ابو یعلی، ج 1، رقم الحدیث : 247 ۔ صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 730 ۔ المستدرک، ج 4، ص 318 ۔ حلیہ الاولیاء، ج 10، ص 69 ۔ شعب الایمان، ج 2، رقم الحدیث : 1182)

اللہ تعالیٰ پر کماحقہ توکل کرنے کا معنی یہ ہے کہ تم یہ یقین رکھو کہ ہر چیز کو وجود میں لانے والا صرف اللہ ہے اور کسی چیز کا ملنا یا نہ ملنا، نفع اور نقصان، فقر اور غنا، مرض اور صحت، امتحان میں کامیابی اور ناکامی، موت اور حیات اور ان کے علاوہ دوسری چیزیں سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اختیار میں ہیں۔ پھر اس یقین کے ساتھ اپنے مطلوب کو حاصل کرنے کے لیے اسباب کو بروئے کار لایا جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی شاد کام کرے گا جیسے وہ رندوں کو شاد کام کرتا ہے وہ صبح رزق کی تلاش میں خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ واپس آتے ہیں اس حدیث کا معنی یہ نہیں ہے کہ کسب کو ترک کردیا جائے کیونکہ پرندے بھی رزق کی تلاش میں سعی اور کسب کرتے ہیں۔

امام غزالی متوفی 505 ھ فرماتے ہیں قناعت اور توکل کے بعض مدعی بغیر زاد راہ کے سفر کرتے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ بدعت ہے، صحابہ اور سلف صالحین سے منقول نہیں ہے بلکہ سلف صالحین زاد راہ لے کر سفر کرتے تھے اور ان کا توک زاد راہ پر نہیں اللہ پر ہوتا تھا۔ (احیاء العلوم، ج 4، ص 221، مطبوعہ دار الخیر، بیروت، 1413 ھ)

حضرت شعیب (علیہ السلام) جب اپنی قوم کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے دعا کی : اے ہمارے رب ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ ان کی کافر قوم پر عذاب نازل فرمائے جس سے حضرت شعیب کا اور ان کے متبعین کا حق پر ہونا واضح ہوجائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 89