حدیث نمبر :666

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوشخص کسی کو مسجدمیں گمی چیز ڈھونڈتے سنے ۱؎ تو کہہ دے خدا تجھے وہ چیزواپس نہ دے کہ مسجدیں اس لیئےنہیں بنی ہیں ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ چیخ کرشورمچاکرجس سے نمازیوں کی نمازوں میں خلل واقع ہو کیونکہ خاموشی سے گمشدہ چیزمسجد میں ڈھونڈھ لینا ممنوع نہیں جیسا کہ منشاء حدیث سے ظاہر ہے۔

۲؎ یعنی مسجدیں دنیاوی باتیں کرنے،شورمچانے کے لئےنہیں بنیں،یہ تو نماز اور اﷲ کے ذکر کے لیےبنی ہیں۔بہتریہ ہے کہ اس شورمچانے والے کو سناکر کہے تاکہ وہ اس سے باز آجائے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد میں بھیک مانگنا دیگر قسم کی دنیاوی باتیں کرنا منع ہے۔بلکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مسجد کے بھکاری کو خیرات نہ دو کہ یہ گناہ پر مدد ہے،حضرت علی مرتضٰی نے جو نماز کی حالت میں سائل کو انگوٹھی خیرات کی وہ سائل غالبًا مسجد سے باہرہوگا یا آپ مسجد کی علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھ رہے ہوں گے۔خیال رہے کہ نکاح،دینی وعظ،نعت خوانی،قاضیٔ اسلام کے فیصلے یہ سب چیزیں دینی ہیں،لہذا مسجدمیں جائز ہیں۔ان کے متعلق احادیث وارد ہیں،البتہ جماعت کے وقت جب پہلی جماعت ہورہی ہو یہ کام نہ کئے جاویں تاکہ نماز میں حرج نہ ہو بعدمیں کئے جاویں۔