مشہور روایت یا ساریہ الجبل کرامت حضرت عمر بن خطابؓ پرجمہور محدثین سے تصحیح و تحسین او راس پر باطل اعتراضات کرنے والے علم جرح و تعدیل سے نابلد نادان ابو حمزہ کا اصولی رد

اس واقعے کی متعدد اسناد ہیں جس کا اقرار فریق مخالف کو بھی ہے لیکن اس نے کیا جہالت دیکھائی کہ ہر ہر روایت چاہے جس میں کوئی مجہول ہو ، کو ئی مدلس ہو یا کوئی بقول اسکے ضعیف ہو تو اسکا علیحدہ علحدہ رد کر کے بغیر ضعف کی علت پیش کیے کہ ضعف قلیل ہے یہ شدید بس سب پر اس نے اسٹیکربازی کر کے اپنی عوام جو اسکی اسٹیکر بازی کو تحقیق سمجھ کر تالیاں بجاتے ہیں اسکی اسٹیکر بازی کو من و عن سچ سمجھتے ہوئے تقلید جامد کرتے ہیں اور کبھی علماء کی کتب کی طرف نظر ہی نہیں کرتے کیونکہ یہ توٹھہرے غیر مقلد تو کسی بھی مسلے پر کسی بھی نوعیت کا اختلاف علماء ، مفسرین و محدثین سے کر لیں انکو کون روک سکتا ہے کیونکہ جب یہ ہیں ہی غیر مقلدین اور خود تحقیقی جراثیم سب میں پائے جاتے ہیں تو چاہے جسکی علمی اوقات ہو یا نہ ہو تحقیق کرنے کی وہ سب ریڈی میڈ محقق بنے بیٹھے ہیں اور ان میں سب خیر سے مجتہد سے کب مرتبے پر تو فائز نہیں ہیں

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عام غیر مقلدین اپنے منہ بولے محققین کی اسٹیکر بازی دیکھ کر اسکو تحقیق کانام دیکر اندھی دھند مانتے جاتے ہیں جسکا ثبوت ویسے تو ہم کئی بار دے چکے ہیں لیکن اس بار تو انکے محقق بنام ابو حمزہ نے ڈھیٹ پن کی انتہا کر دی اور جسکو امام محمد بن ادریس اور امام عبداللہ بن ادریس میں فرق کی تمیز نہیں ہے وہ اکیلا منہ اٹھا کر جمہور محدثین کے خلاف کھڑا ہو گیا

اور جھوٹ یہ بولا کہ جو یہ واقعہ حضرت عمر سے منسوب ہے یہ ضعیف ہے کچھ علماء نے اسکی تحسین کی ہے لیکن علماء کا اس میں اختلاف ہے

تو ہمارا اسکو چلینج ہے جتنے محدثین سے ہم اس واقعے کی تحسین پیش کریں گے انکے درجے زیادہ نہیں تو کم از کم ۵ محدثین پیش کر دے جنہوں نے اس واقعے کو غیر ثابت مانا ہو۔

خیر ہم اس کی ایک سند امام بیھقیؒ سے پیش کرتے ہیں

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ , ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , ثنا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ جَيْشًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ، قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ , فَسَأَلَهُ , فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقِينَا عَدُوَّنَا فَهَزَمُونَا وَإِنَّ الصَّائِحَ لَيَصِيحُ، يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، فَشَدَدْنَا ظُهُورَنَا بِالْجَبَلِ , فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ، فَقِيلَ لِعُمَرَ: إِنَّكَ كُنْتَ تَصِيحُ بِذَلِكَ. قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَحَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ بِذَلِكَ. وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا كُنَّا نُنْكِرُ وَنَحْنُ مُتَوَافِرُونَ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَكَأَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ [ص:315] مَلَكًا يُسَدِّدُهُ، وَعنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ الْقَوْلَ فَنَنْتَظِرُ مَتَى يَقَعُ قَالَ الشَّيْخُ: وَكَيْفَ لَا يَكُونُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ , فَإِنْ يَكُنْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فَهُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ أَصْلٌ فِي جَوَازِ كَرَامَاتِ الْأَوْلِيَاءِ،

(الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد على مذهب السلف وأصحاب الحديث، امام بیھقیؒ)

یاد رے اس سند میں امام بیھقی نے ابن وہب (جو بقول ابو حمزہ کے مدلس ہے ) اخبرنی کے الفاظ سے سماع کی تصریح پیش کر ددی ہے

اور امام بیھقی نے اس روایت کی توثیق بھی کر رکھی ہے ان الفاظ کے ساتھ کہ وھذا الحدیث اصل فی جواز کرامات اولیا

اب جب تک اس سند میں کوئی علت قادعہ پیش نہیں کریگا تو امام بیھقی کی تصحیح ثابت رہے گی دیگر جمہور محدثین کی تائید میں

اب ہم اسکے اعتراضات کو مختصر شکل میں پیش کر کے اصولی جواب پیش کرتے ہیں

پہلا اعتراض :(ابو حمزہ کی طرف سے)

1. ابْنُ وَهْبٍ

یہ مدلس ہے اور اور یہ متروک الحدیث، ضعیف الحدیث، مجہولین ، متہم بالکذاب سے بھی روایت لیتے تھے، تو اسطرح انکا عنعنہ سخت مضعر ہے۔

عبداللہ بن وہب کے شیوخ میں محمد بن عمر بن واقد الواقدی (کذاب) اور یحییٰ بن ایوب(سئ الحفظ) دونوں موجود ہیں اور یہ دونوں سے روایت کرتا تھا ، اور اسنے مدلس ہونے کی وجہ سے واقدی سے یا ساریہ الجبل والی روایت سن کر یحیی بن ایوب الفافقی کے سر منڈ دی ہے۔

الجواب:

ابو حمزہ نے سب سے پہلا اور بڑا خطر ناک جھوٹ یہ بولا کہ ابن وہب ایسا مدلس ہے جو ضعیف ، کذاب اور متروک راویوں سے تدلیس کرتا تھا

اور پھر حمزہ جہالت کی حدیں پر کرتے ہوئے علل کا امام بن کر یہ فیصلہ دیتا ہے کہ اس نے یہ واقعہ اپنے شیخ واقدی(بقول اسکے کذاب) سے سن کر اسکو یحییٰ بن ایوب الفافقی کے سر منڈ دیا ہے

سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ابن وہب پر تدیس کا الزام کس نے لگایا ہے ؟

اور امام ابن حجر عسقلانی نے اسکو مدلسین کے کن طبقات میں رکھا ہے ؟ نیز محدثیین نے کیا اسکی معنعنہ روایت پر کبھی تدلیس کی جرح کی ہے یا نہیں ؟

امام ابن حجر عسقلانیؒ نے طبقات المدلسین میں مدلسین کے طبقات بنائے ہیں اور انہوں نے پہلے طبقے کی جو تعریف کی ہے وہ یہ ہے

(۱(الاولى من لم يوصف بذلك الا نادرا كيحيى بن سعيد

کہ اس میں وہ راویان ہیں جن پر تدلیس کا الزام صرف یحییٰ بن سعد صاحب طبقات نے لگایا ہے

(اور انکا شیخ واقدی اور بقول وہابی محقق ابن سعد کی جرح پر منفرد طور پر یقین نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ اپنے شیخ واقدی کی تقلید کرتا تھا لیکن اس روایت کو ضعیف ثابت کرنے کے لیے اس نے واقدی کے شاگرد کی بات من و عن مان لی )

لیکن یہ مدلس ہوتا تب بھی اسکو کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ امام ابن حجر عسقلانی نے اسکو طبقہ اولا میں درج کیا ہے اور طبقہ ثانیہ تک مدلسین کی معنعنہ روایت قبو ل ہوتی ہے

اور امام ابن حجر عسقلانی کی طبقات المدلسین پر محدثین و محققین کا اجماع ہے سوائے زبیر زئی کے جسکا رد اسکے اپنے شیوخ اور دوسرے محققین نے اچھے طریقے سے کیا تھا سفیان الثوری کے مسلےمیں جو کہ ابھی قابل ذکر نہیں ہے

پہلی بات ہم نے یہ روایت سماع کی تصریح سے پیش کر دی یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا

دوسری بات اگر یہ عن سے بھی بیان کرتا سماع کی تصریح نہ بھی دیتا تو اس پر الزام ابن سعد نے لگایا جو واقدی کا شاگرد ہیں اور وہابی محقق میاں بھی مانتا ہے کہ ابن سعد کی منفرد جرح پر یقین نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ واقدی کی تقلید کرتا ہے

تیسری بات اگر مدلس ثابت ہو بھی جائے تو طبقہ اولاکا مدلس ہے جسکی روایت اسکی معنعنہ ضعیف ہوتی ہی نہیں ہے

اب چلتے ہیں اسکی جہالت بھرے اگلے اعتراض پر

دوسرا اعتراض:(ابو حمزہ کی طرف سے)

.يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ،

یہ راوی جمہور محدثین کی جرح کے مطابق مجروح ہے، اور اسکی صرف متابعت اور شواہد میں روایت قبول کی جائیگی اس سے احتجاج نہیں کیا جائیگا۔

الجواب:

یہ جمہور کی پھکی زبیر زئی میاں نے تھوک کے حساب سے اپنے غیر کے مقلدین کو مفت میں بانٹ کر گئے تھے کیونکہ غیر مقلدین جب کسی روایت کو ضعیف ثابت کرنا ہے تو جرح چاہے راوی پر مبہم ہو یا مفسر ہو یا جرح قابل قبول نہ ہو بس اسکے ساتھ لفظ جمہور لگا کر اپنے چیلوں کو چرن بیچ دو کیونکہ چیلوں نے بھی تو آگے اندھی واہ واہ کرنی ہوتی ہے انکو کونسی تمیز ہے تحیقق کو جاچنے کی

خیر اس راوی پر ہم محدثین کا فیصلہ پیش کرتے ہیں اور متاخرین ناقدین کا بھی جو متقدمین کی آراہ کو بہتر جاننے والے ہیں

امام عجلی (جسکو زبیر زئی میاں معدل امام مانتا تھا ) نے انکو ثقات میں درج کیا ہے

1791- يحيى بن أيوب3: “مصري”، ثقة.

(الثقات امام عجلی)

اپنی پوسٹ میں جو اس نے اپنی مرضی کی آدے ادھورے حکم پیش کیے ناقدین کے جیسا کہ اس نے الجرح والتعدیل سے امام ابی حاتم (متشدد ) کی جرح مبہم تو پیش کی لیکن متشدد امام یحییٰ بن معین سے توثیق چھپا لی

ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال يحيى بن ايوب – 3] المصرى صالح.

وقال مرة: ثقة.

نا عبد الرحمن قال سئل ابى عن يحيى بن ايوب أحب إليك أو ابن أبى ابى الموالى؟ فقال: يحيى بن ايوب احب إلى، ومحل يحيى الصدق يكتب حديثه ولا يحتج به.

(الجرح والتعدیل)

یعنی امام یحییٰ بن معین یحییٰ بن ایوب کے بارے کہتے ہیں صالح اور پھر کہتے ہیں ثقہ

پھر حمزی میاں نے امام احمد جو بھی جارحین میں شمار کیا ہوا تھا جبکہ امام احمد سے اسکی توثیق بھی مروی ہے

وقال أحمد بن محمد: سمعت أبا عبد الله، وذكر يحيى بن أيوب المصري. فقال: كان يحدث من حفظه، وكان لا بأس به،

)العلل)

کہ یحییٰ بن محمد یہ حفظ سے روایت بیان کرتا تھا اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے

اس کے بعد امام ابن عدی جو کہ معتدل امام ہیں غیر مقلدین کے نزدیک بھی ان سے اسکا ترجمہ پیش کرتے ہیں

2113- يحيى بن أيوب الغافقي المصري، يكنى أبا العباس.

حدثنا محمد بن علي، حدثنا عثمان بن سعيد، قال: قلت ليحيى بن معين الليث أحب إليك أو يحيى بن أيوب فقال الليث أحب إلي ويحيى ثقة

ويقال إنه كان قاضيا بها، ولا أرى في حديثه إذا روى عنه ثقة أو يروى هو عن ثقة حديثا منكرا فأذكره، وهو عندي صدوق لا بأس به

(الکامل فی الضعفاء)

امام ابن عدی کہتے ہیں : یحییٰ بن معین یحییٰ بن ایوب ثقہ ہے

اور ابن عدی اپنا فیصلہ دیتے ہیں کہ یہ قاضی تھا اور جب اسکی مروی روایت میں یہ ثقہ سے بیان کر رہا ہوں اور اس سے بھی ثقہ راوی بیان کرنے والا ہو تو میں نے کوئی اسکی منکر روایت نہیں دیکھی ہے اور یہ صدوق اوار لا باس بہ ہے

اب ہم امام ذھبی سے امام احمد کی جرح سئی الحفظ کا رد پیش کرتے ہیں :

212- 59/ 5 ع- يحيى بن أيوب الإمام العباس الغافقي المصري فقيه أهل مصر ومفتيهم: حدث عن أبي قبيل حي بن هانئ ويزيد بن أبي حبيب وبكير بن الأشج وجعفر بن ربيعة وربيعة الرأي وحميد الطويل وخلق، وعنه ابن وهب وزيد بن الحباب وأبو عبد الرحمن المقرئ وسعيد بن أبي مريم وسعيد بن عفير وخلق كثير حتى أن شيخه ابن جريج روى عنه. قال ابن عدي هو من فقهاء مصر وعلمائهم، وقال: كان قاضيا بها وهو عندي صدوق. وقال ابن يونس: كان أحد الطلابين للعلم حدث عن أهل الحرمين والشام ومصر والعراق. قال يحيى بن معين: صالح الحديث. وقال أحمد بن حنبل سيئ الحفظ قلت حديثه في الكتب الستة، وحديثه فيه مناكير. قال سعيد بن عفيز وغيره: مات سنة ثمان وستين ومائة رحمه الله تعالى.

(تذکرہ الحفاظ امام ذھبی)

امام ذھبی اس راوی کو تذکرہ الحفاظ میں شامل کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ فقہا میں سے تھا ، اور انکے نزدیک یہ صدوق ہے ، اور ابن یونس نے کہا کہ وہ حدیث کی طلب کرنے والے طالبین میں سے تھا ، یہ اہل حرمین ، شام، مصر اور عراق سے روایتیں نقل کرتا تھا ، اور امام یحییٰ بن معین (متشدد) کہتے ہیں کہ صالح الحدیث ہے ، امام احمد نے کہا کہ اسکا حاففظہ خراب تھا

اس پر امام ذھی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں ، کہ اسکی ورایات کتب الستہ میں موجود ہیں اور اسکی روایات میں مناکیر (صرف) ہیں

اس کے بعد امام ذھبی نے خود انکو اپنی اس تصنیف میں درج کیا ہے جن میں صدوق اور صالح الحدیث راویان ہیں

371- “ع” يحيى بن أيوب المصري”3″:

صدوق”1″، قال النسائي: “ليس بذاك القوي””2″، وقال الدَّارَقُطْنِيّ: “في بعض حديثه اضطراب””3″، “سيء الحفظ””4”.

(من تكلم فيه وهو موثوق أو صالح الحديث)

امام ذھبی نے اس پر شدید جروحات رد کرتے ہوئے صدوق درجے کا راوی قرار دیا

نیز امام ذھبی سیر اعلام اپنی آخری تصنیف میں اس پر تمام جروحات اور تعدیل نقل کرنے کے بعد فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں

1 – يحيى بن أيوب أبو العباس الغافقي * (ع)

الإمام، المحدث، العالم الشهير، المصري، ينسب في عداد موالي مروان بن الحكم.

قلت: له غرائب ومناكير يتجنبها أرباب الصحاح، وينقون حديثه، وهو حسن الحديث.

(امام ذھبی ، سیر اعلام النبلاء)

یحییٰ بن ایوب الامام محدث ، العالم، مصری میں کہتا ہوں اسکی روایات میں نکارت اور غریب روایتیں تھیں ، اس کو ارباب صحاح نے روایات میں لیا ہے ، اور یہ حسن الحدیث درجے کا راوی ہے

1110 – ” يا سارية الجبل، يا سارية الجبل “

(سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، البانی)

امام دارقطنی کی بھی اس جرح مفسر نہین ہے نیز ان سے توثیق بھی ثابت ہے

3816 – يحيى بن أيوب الغافقي، أبو العباس المصري.

• قال الدَّارَقُطْنِيّ: إسماعيل بن جعفر أحفظ من يحيى بن أيوب، وإسماعيل بن عياش. «العلل» 2 183.

• وقال الدَّارَقُطْنِيّ: ثقة. «العلل» 5 الورقة 21.

• وقال في بعض أحاديثه اضطراب. «السنن» 1 98.

(موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني في رجال الحديث وعلله)

امام دارقطنی ایک جگہ اس پر اور راویوں کو مقدم کرتے ہیں

ایک جگہ اسکو ثقہ کہتے ہیں

اور ایک جگہ جرح مبہم کرتے ہیں کہ اسکی بعض روایات میں اضطراب تھا

اور بعض کی وجہ سے راوی کو مطلق رد نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ قلیل ضعف کی وجہ سے مطلق توثیق رد نہیں ہوتی ہے

آخر میں ہم امام الناقدین حافظ ابن حجر عسقلانی سے بھی اسکی توثیق کا فیصلہ پیش کرتے ہیں

3014 – (ع) (هـ) يحيى بن أيوب الغافقي (4: 362/ 9462).

=========

[مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال]

رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ):

– (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة.

– (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه.

-ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف.

(لسان المیزان)

امام ابن حجر نے اسکے نام کے ساتھ (ھ) کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اسکو صدوق درجے کا راوی قرار دیا ہے

تو ہم مزید تفصیل سے جانے بہتر اتنے حوالے جناب کے جمہور والے چرن کی پھکی کو فلاپ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے متقدمین سے بھی توثیق دیپھر متاخرین جو ہم سے زیادہ علم و معارفت رکھتے ہیں ان سے بھی فیصلہ پیش کر دیا

اب اسکا اگلا اعتراض دیکھتے ہیں

تیسرا اعتراض : (حمزی کی طرف سے )

3ابْنِ عَجْلَانَ

محمد بن عجلان راوی مدلس ہے، اور نافع سے روایت کرنے میں مضطرب ہے اور امام مالک نے اسکے محدث ہونے سے انکار کیا ہے۔

الجواب:

ابن عجلان پر تدلیس کا الزام امام ان حبان نے لگایا ہے

اور امام ذھبی اور امام ابن حبان کے نزدیک ارسال اور تدلیس ایک چیز ہے جس سے زبیر زئی اور وہابی حضرات بھی اختلاف رکھتے ہیں

اور اصل بات یہ ہے کہ ابن حبان نے اس پر الزام ارسال کرنے کا لگایا ہے جو کہ تدلسی نہیں ہوتی ہے

کیونکہ جمہور کے نزدیک تدلیس سے مراد راوی اپنے شیخ سے ملاقات اور سماع کرتا ہوں لیکن ایک خاص روایت میں اسکا سماع ثابت نہ ہو جسکی وجہ سے وہ بیچ کا ضعیف راوی چھپا کر اگلے راوی کا نام لے لے

اور ارسال میں راوی کی ملاقات ہی ثابت نہیں ہوتی ہے

جیسا کہ امام ذھبی ابن عجلاس کے ترجمے میں میزان میں کہتے ہیں :

مجھے نہیں معلوم کہ اسکی ملاقات براہ راست حضرت انس سے ہوئی تھی یانہیں یا ان سے تدلیس کرتے ہوئ ےروایت کرتا تھا

یعنی امام ذھبی بھی اسکے بارے ارسال کی جرح کی ہے اور ارسال اور تدلیس کو ایک چیز سمجھتے

تو یہ راوی مدلس ہے ہی نہیں بلکہ ارسال کرتا تھا اور جبکہ محمد بن عجلان نافع کا تو شاگرد ہے اور اصحاب نافع میں مشہور تھا

تو تدلیس والا اعتراض بھی اسکا باطل ہوا

باقی رہی جرح یہ کہ نافع سےبیان کرنے پر اسکی روایات میں اضطراب ہوتا ہے اور یہ جرح کرنے والے امام یحییٰ بن سعید القطان ہیں جو کہ متشدد ہیں لیکن جرح بہت شدید ہے

لیکن یہ جرح کرنے میں امام یحییٰ ن سعید القطان کو خطاء ہوئی تھی

جسکی تفصیل امام ذھبی نے میزان اور سیر اعلام میں بیان کی ہے

اور جمہور محدثین نے بھی امام یحییٰ کی اس جرح کو قبول نہیں کیا ہے

اسکی وجہ امام ذھبی میزان میں درج کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

امام مالک نے جو کہا محمد بن عجلان کے بارے کہ وہ عالم نہیں

امام ذھبی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں امام مالک نے یہ بات اس وقت کہ تھی جب ان تک ابن عجلان کے حوالے سے یہ حدیث پہنچی تھی

خلق اللہ آدم علی صورته :اللہ نے آدم کو اپنی صور پر پیدا کیا ہے

اس روایت میں ابن عجلان کی متابعت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں اور یہ روایت صحیح میں بھی موجود ہے ۔ امام بخاری نے ابن عجلان کے حالات میں کتاب الضعفاء میں بیان کیا ہے علی بن ابو وزیر نے امام مالک کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے ابن عجلان کا ذکر کرتے ہوئے یہ روایت ذکر کی ۔ اما م بخاری بیان کرتے ہیں : یحییٰ قطان کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں ہے مگر یہ کہ میں نے ابن عجلان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ، سعید مقبری نے اپنے والد کے حوالے سے حضر ت ابو ہریرہ سے اور ایک شخص کے حوالے سے حضرت ابو ھریریہ سے روایت نقل کی ہے ، تو وہ اختلاط کا شکاور ہو گیا اور اس نے ان دونں روایات کو حضرت ابو ھریرہ سے منقول قرار دے دیا ، امام بخاری کی کتاب الضففاء کا جو نسخہ میر ے پاس ہے اس میں اس طرح تحریر ہے اور میرے پاس دوسری جگہ یہ تحریر ہے ، ابن عجلاس نے سعید کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے حضرت ابو ھریرہ سے اور ایک شخص کے حوالے سے حضرت ابو ھریرہ سے روایت نقل کی ہے ، تو یہ اسکے سامنے اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس نے ان دونوں احادیث کو حضرت ابو ہریرہ سے منقول قرار دے دیا

امام ذھبی پھر کہتے ہیں : قلت

یعنی میں کہتا ہوں یہ زیادہ مناسب ہے ورنہ اس میں اوعتراض قطان پر آئے گا وہی جو مقبری کے بارے میں ہے اور مقبری صدوق ہے اس نے اپنے والد کے حوالے سے حضر ت ابو ہرہر سے بھی روایات نقل کی ہے

اب عجلان بلند مرتبے کے حامل ائمہ میں سے اور نیک اور پرہیز گارلوگوں میں سے ایک تھے

(میزان الاعتدال)

یہی وجہ ہے کہ یحییٰ بن سعید الطقان نے ان پر ابی ہریرہ اور نافع سے روایات میں اضطراب کی جرح کر دی جو کہ انکی غلط فہمی تھی

اور جسکا رد امام ذھبی نے کر دیا اور امام ابن حجر اور دیگر محدثین نے بھی امام یحییٰ کی یہ جرح قبول نہیں کی ہے

اسی طرح امام ذھبی المغنی میں محمد بن عجلان کو درج کرتے ہوے اس پر یحییٰ کی ان تمام جروحات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

قلت وذکرہ البخاری فی کتاب الضعفاء له، وھو حسن الحدیث

(المغنی ، امام ذھبی )

امام ذھبی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے انکو الضعفاء میں حالات بیان کیے ہیں یہ (محمد بن عجلان) حسن الحدیث ہے

یعی امام یحییٰ کی طرف سے اس پر نافع اور ابو ھریرہ کے حوالے سے جرح رد ہے

اسی طرح امام ذھبی محمد بن عجلان پر تمام جروحات نافع اور ابو ھریرہ سے روایت کرنے پر یحییٰ بن سعید القطان کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وقت ذکرت ابن عجلان فی المیزان ، فحدیثه ان لم بلغ الرتبة الصحیح، فلا ینخط من رتبهالحسن

(سیر اعلام)

اما م ذھبی فرماتے ہیں کہ میں نے میزان میں تفصیل لکھی ہے اسکی روایات صحیح درجے کی نہیں ہے تو حسن درجے سے کم بھی بالکل نہیں ہے

جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے اپنی بہت تصانیف میں ابن عجلان کی نافع سے روایت پر توثیق کر رکھی ہے ہم ایک حوالہ پیش کرتے ہیں امام ابن حجر لکھتے ہیں :

رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بن عجلَان عَن نَافِع عَن بن عُمَرَ فِي آخِرِ هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ أَخْرَجَهَا بن مَاجَهْ مِنْ طَرِيقِهِ بِلَفْظِ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ وَسَنَدُهُ حَسَنٌ

(ابن حجر عسقلانی، فتح الباری)

یہ تو تھا حال حمزی میاں کی احمقانہ اعتراضات کا جواب

اور دوسری بات اس واقعے کی اسناد بھی متعدد ہیں جن سے اسکو تقویت ملتی ہے

اور ویسے بھی تدلسی کا الزام وارد ہی نہیں ہوتا جب شاہد اور موجود ہیں بیشک مجہولین ہی کیوں نہ ہوں

خیر اب ہم پیش کرتے ہیں اس روایت کو جمہور نے قبول کیا ہے کس ایک جید محدث مفسر نے اسکو ضعیف یا باطل قرار نہیں کیا ہے

امام بیھقی

علامہ بن تیمیہ

امام ابن حجر عسقلانی

امام ابن کثیر

امام ابن خلدون

علامہ شوکانی

امام ملا علی قاری

امام المناوی

امام سیوطی

امام سخاوی

امام ا بن الجوزی

علامہ البانی

وہابی سلفی محقق ابن عثیمین مفتی سعودی

انکےعلاوہ اور بہت لمبی لسٹ ہے جن جن محدثین کا نام لینا مشکل ہے ہم نے اختصار سے کچھ نام لے لیے ہیں جن میں کچھ تو غیر مقلدین کے مجتہدین ہیں

امید ہے ہماری تحریر پڑھ کر جو لوگ دن رات تقلید کا انکار کرتے رہتے ہیں دیکھتے ہیں ہمارے ثبوت کے ساتھ پیش کردہ دلائل کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے اپنے محقق کا رد کرتے ہیں یا وہابی وہابی کھیلتے ہیں

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی