أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا (اے لوگو ! ) اگر تم نے شعیب کی اتباع کی تو تم ضرور نقصان اتھانے والوں میں سے ہوگے

تفسیر:

90 ۔ 93:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا (اے لوگو ! ) اگر تم نے شعیب کی اتباع کی تو تم ضرور نقصان اتھانے والوں میں سے ہوگے۔ سو ان کو ایک ہولناک آواز (زلزلہ) نے پکڑ لیا اور صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ مردہ پڑے تھے۔ جن لوگوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی (وہ صفحہ ہستی سے اس طرح مٹ گئے) گویا کہ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے، جن لوگوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے تھے۔ پھر شعیب ان سے کنارہ کش ہوگئے اور کہا اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے تھے اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی، تو اب میں کافروں (کے عذاب) پر کیوں کر افسوس کروں “

نزول عذاب سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نبوت کی صداقت :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت شعیب کی تکذیب کی۔ اس آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے لوگوں سے کہا : اگر تم نے شعیب کی اتباع کی تو تمہیں نقصان ہوگا۔ اس کا ظاہر میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے لوگوں سے کہا : اگر تم نے شعیب کی اتباع کی تو تمہیں نقصان ہوگا۔ اس کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اتباع کے بعد تم کو وہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو تم ناپ تول میں کمی کے ذریعہ حاصل کرتے تھے۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ تم دین میں گھاٹے میں رہوگے، کیونکہ ان کے نزدیک حضرت شعیب (علیہ السلام) کا دین باطل تھا۔ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان پر زلزلہ کے عذاب کو بھیجنے کا ذکر فرمایا کیونکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب اور مخالفت کے بعد وہ عذاب کے مستحق ہوچکے تھے۔ اس عذاب میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دین کی صداقت کی کئی دلیلیں ہیں۔ اول یہ کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ سے عذاب آیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی دعوت برحق تھی۔ ثانی یہ کہ یہ عذاب صرف حضرت شعیب کے مخالفین پر آیا ان کے موافقین پر نہیں آیا۔ پھر اس میں مزید اعجاز یہ ہے کہ یہ عذاب اس قوم پر نازل ہوا جو ایک شہر میں رہتی تھی یہ عذاب آسمان سے نازل ہوا اور صرف ان لوگوں پر نازل ہوا جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کے منکر اور مخالف تھے اور ان پر نازل نہیں ہوا جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کے منکر اور مخالف تھے اور ان پر نازل نہیں ہوا جو حضرت شعیب کے متبعین تھے حالانکہ وہ سب اکٹھے رہتے تھے۔ اس کے بعد حضرت شعیب ان لوگوں کے درمیان سے چلے گئے اور حضرت شعیب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کرچکے تھے اور مکمل نصیحت کرچکے تھے، اس لیے فرمایا : اب میں ان پر افسوس کیسے کروں !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 90