أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا‌ ۚ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَكُمۡ‌ ۖوَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہر راستہ پر اس لیے نہ بیٹھو کہ ایمان والوں کو ڈراؤ اور اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکو اور اس (سیدھے) راستہ کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرو، اور یاد کرو جب تم تعداد میں کم تھے تو اللہ نے تم کو زیادہ کردیا، اور غور سے دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔

تفسیر:

85 ۔ 86: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہر راستہ پر اس لیے نہ بیٹھو کہ ایمان والوں کو ڈراؤ اور اللہ کے راستہ پر چلنے سے روکو اور اس (سیدھے) راستہ کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرو، اور یاد کرو جب تم تعداد میں کم تھے تو اللہ نے تم کو زیادہ کردیا، اور غور سے دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ اگر تمہاری ایک جماعت اس (دین) پر ایمان لائی جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی، تو صبر کرو حتی کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے “

ڈرا دھمکا کر ناجائز رقم بٹورنے والے :

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے مدین کو راستہ پر بیٹھنے سے منع فرمایا کیونکہ وہ راستہ پر بیٹھ کر ایمان والوں کو ڈراتے تھے اور اللہ کے راستہ پر چلنے سے لوگوں کو روکتے تھے۔

حضرت ابن عباس، قتادہ اور مجاہد نے بیان کیا ہے کہ وہ ان راستوں پر بیٹھ جاتے تھے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی طرف جاتے تھے اور جو لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی طرف جانا اہتے تھے ان کو روکتے تھے اور کہتے تھے ان کے پاس نہ جاؤ وہ کذاب ہیں، جیسا کہ قریش نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کرتے اور یہ اس آیت کا ظاہری معنی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : اس سے مراد ڈاکہ ڈالنا ہے جو لوگ راستہ پر چلنے والے مسافروں کو ڈرا دھمکا کر لوٹ لیتے ہیں۔ اس کی پوری تفصیل اور تحقیقی المائدہ : 33 میں گزر چکی ہے۔

بعض علماء نے کہا : اس زمانہ میں اس سے مراد ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے ہیں جو لوگوں سے جبراً وہ وصول کرتے ہیں جو شرعاً ان پر لازم نہیں ہیں۔ ہمارے زمانہ میں حکمرانوں نے ہر چیز پر انواع و اقسام کے ٹیکس عائد کیے ہوئے ہیں اور عوام کے ٹیکسوں سے صدر، وزیر اعظم، وفاقی وزراء، گورنر اور صوبائی وزراء کی رہائش کے لیے عالی شان محل نما بنگلے اور کوٹھیاں ہیں۔ ان کے سفر کرنے کے لیے خصوصی طیارے ہیں۔ یہ سال میں ان گنت مرتبہ بیرونی دوروں پر جاتے ہیں اور اپنے ساتھ خوشامدیوں کے ٹولے کو لے جاتے ہیں اور ان کو شاپنگ کے لیے بڑی بڑی رقمیں دی جاتی ہیں۔ ان کے اللوں تللوں پر مشتمل اخراجات لاکھوں روپیہ سے متجاوز ہیں۔ غریب عوام کے کھانے کے لیے روتی بمشکل میسر ہوتی ہے، سر چھپانے کے لیے چھت کا سایہ حاصل کرنا بہت کٹھن ہے اور یہ عوام کے خون پسینے سے کمائی ہوئی رقم سے جبراً ٹیکس وصول کرکے بےدردی سے اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ قومی منصوبوں کے نام پر عالمی بینک سے قرض لیتے ہیں اور اس رقم کو اپنی عیاشیوں میں خرچ کردیتے ہیں اور قوم کو قرض میں گرفتار کردیتے ہیں۔ 

ہمارے زمانہ میں غنڈے، مسٹنڈے اور دہشت گرد دکانوں اور گھروں سے زبردستی بھتہ وصول کرتے ہیں۔ فطرانہ، زکوۃ اور چرم ہائے قربانی 9 بھی جبراً وصول کرتے ہیں اور اس رقم کو اسلحہ خریدنے اور اپنی رنگ رلیوں اور عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ گاڑیاں چھین کر ڈاکے ڈالتے ہیں اور قتل و غارت گری کی وارداتیں کرتے ہیں۔ وہ بھی اس آیت کے عموم میں داخل ہیں۔ 

قوم شعیب کو ترگیب اور ترہیب :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کا یہ قول نقل فرمایا : اور یاد کرو جب تم تعداد میں کم تھے تو اللہ نے تم کو زیادہ کردیا۔ اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ ان کو اللہ کی اطاعت پر برانگیختہ کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ان کو دور رہنے کی ترگیب دی جائے۔ اس آیت کے تین محمل ہیں۔ ایک یہ کہ تم عدد میں کم تھے تو تم کو تعداد میں زیادہ کردیا۔ دوسرا یہ ہے تمہارے پاس مال کم تھا تو تم کو زیادہ مال عطا کیا اور تیسرا یہ کہ تم جسمانی طور پر کمزور تھے تو تم کو طاقتور کردیا۔ 

اس کے بعد فرمایا : غور سے دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ پہلی آیت میں ان کو ایمان لانے کی ترگیب دی تھی اور اس آیت میں ان کو ترہیب کی ہے اور ایمان نہ لانے پر ڈرایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 86