یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَاؕ-قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ(۱۳۰)

اے جنوں اور آدمیوں کے گروہ کیا تمہارے پاس تم میں کے رسول نہ آئے تھے تم پر میری آیتیں پڑھتے اور تمہیں یہ دن (ف۲۵۹) دیکھنے سے ڈراتے (ف۲۶۰) کہیں گے ہم نے اپنی جانوں پر گواہی دی (ف۲۶۱) اور انہیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا اور خود اپنی جانوں پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے (ف۲۶۲)

(ف259)

یعنی روزِ قیامت ۔

(ف260)

اور عذابِ الٰہی کا خوف دلاتے ۔

(ف261)

کافِر جن اور انسان اقرار کریں گے رسول ان کے پاس آئے اور انہوں نے زبانی پیام پہنچائے اور اس دن کے پیش آنے والے حالات کا خوف دلایا لیکن کافِروں نے ان کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے ۔ کفّار کا یہ اقرار اس وقت ہو گا جب کہ ان کے اعضاء و جوارِح ان کے شرک و کُفر کی شہادت دیں گے ۔

(ف262)

قیامت کا دن بہت طویل ہو گا اور اس میں حالات بہت مختلف پیش آئیں گے ۔ جب کُفّار مومنین کے انعام و اکرام اور عزّت و منزلت کو دیکھیں گے تو اپنے کُفر و شرک سے منکر ہو جائیں گے اور اس خیال سے کہ شاید مُکر جانے سے کچھ کام بنے یہ کہیں گے ” وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ” یعنی خدا کی قَسم ہم مشرک نہ تھے ، اس وقت ان کے مونہوں پر مُہریں لگا دی جائیں گی اور ان کے اعضاء ان کے کُفر و شرک کی گواہی دیں گے ۔ اسی کی نسبت اس آیت میں ارشاد ہوا ” وَشَھِدُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَنَّھُمْ کَانُوْ کَافِرِیْنَ ”۔

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ(۱۳۱)

یہ (ف۲۶۳) اس لیے کہ تیرا رب بستیوں کو (۲۶۴) ظلم سے تباہ نہیں کرتا کہ ان کے لوگ بے خبر ہوں (ف۲۶۵)

(ف263)

یعنی رسولوں کی بعثت ۔

(ف264)

ان کی معصیت اور ۔

(ف265)

بلکہ رسول بھیجے جاتے ہیں وہ انہیں ہدایتیں فرماتے ہیں ، حُجّتیں قائم کرتے ہیں ، اس پر بھی وہ سرکشی کرتے ہیں تب ہلاک کئے جاتے ہیں ۔

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ(۱۳۲)

اور ہر ایک کے لیے (ف۲۶۶) ان کے کاموں سے درجے ہیں اور تیرا رب ان کے اعمال سے بے خبر نہیں

(ف266)

خواہ وہ نیک ہو یا بد ۔ نیکی اور بدی کے درجہ ہیں انہی کے مطابق ثواب و عذاب ہو گا ۔

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِؕ-اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ(۱۳۳)

اور اے محبوب تمہارا رب بے پرواہ ہے رحمت والا اے لوگو وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (ف۲۶۷) اور جسے چاہے تمہاری جگہ لائے جیسے تمہیں اوروں کی اولاد سے پیدا کیا (ف۲۶۸)

(ف267)

یعنی ہلاک کر دے ۔

(ف268)

اور ان کا جانشین بنایا ۔

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍۙ-وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ(۱۳۴)

بیشک جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے(ف۲۶۹) ضرور آنے والی ہے اور تم تھکا نہیں سکتے

(ف269)

وہ چیز خواہ قیامت ہو یا مرنے کے بعد اٹھنا یا حساب یا ثواب و عذاب ۔

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۳۵)

تم فرماؤ اے میری قوم تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آخرت کا گھر بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآىٕنَاۚ-فَمَا كَانَ لِشُرَكَآىٕهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآىٕهِمْؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(۱۳۶)

اور (ف۲۷۰) اللہ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کیے ان میں اُسے ایک حصہ دارٹھہرایا تو بولے یہ اللہ کا ہے ان کے خیال میں اور یہ ہمارے شریکوں کا (ف۲۷۱) تو وہ جو ان کے شریکوں کا ہے وہ تو خدا کو نہیں پہنچتا اور جو خدا کا ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچتا ہے کیا ہی بُرا حکم لگاتے ہیں (ف۲۷۲)

(ف270)

زمانۂ جاہلیت میں مشرکین کا طریقہ تھا کہ وہ اپنی کھیتیوں اور درختوں کے پھلوں اور چوپایوں اور تمام مالوں میں سے ایک حصّہ تو اللہ کا مقرر کرتے تھے اور ایک حصہ بُتوں کا ، تو جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے تھے اس کو تو مہمانوں اور مسکینوں پر صَرف کر دیتے تھے اور جو بُتوں کے لئے مقرر کرتے تھے وہ خاص ان پر اور ان کے خادموں پر صرف کرتے اور جو حصّہ اللہ کے لئے مقرر کرتے اگر اس میں سے کچھ بُتوں والے حصہ میں مل جاتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر بُتوں والے حصّہ میں سے کچھ اس میں سے ملتا تو اس کو نکال کر پھر بُتوں ہی کے حصّہ میں شامل کر دیتے ۔ اس آیت میں ان کی اس جہالت اور بدعقلی کا ذکر فرما کر ان پر تنبیہ فرمائی گئی ۔

(ف271)

یعنی بُتوں کا ۔

(ف272)

اور انتہا درجہ کے جَہل میں گرفتار ہیں ، خالِق مُنعِم کے عزت و جلال کی انہیں ذرا بھی معرفت نہیں اور فسادِ عقل اس حد تک پہنچ گیا کہ انہوں نے بے جان بُتوں پتّھر کی تصویروں کو کارسازِ عالَم کے برابر کر دیا اور جیسا اس کے لئے حصّہ مقرر کیا ایسا ہی بُتوں کے لئے بھی کیا ، بے شک یہ بہت ہی بُرا فعل اور انتہا کا جہل اور عظیم خَطا و ضلال ہے ، اس کے بعد ان کے جہل اور ضلالت کی ایک اور حالت ذکر فرمائی جاتی ہے ۔

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ(۱۳۷)

اوریوں ہی بہت مشرکوں کی نگاہ میں ان کے شریکوں نے اولاد کا قتل بھلا کردکھایا ہے (ف۲۷۳) کہ انہیں ہلاک کریں اور ان کا دین ان پر مُشْتَبہ کردیں (ف۲۷۴) اور اللہ چاہتا تو ایسا نہ کرتے تو تم انہیں چھوڑ دو وہ ہیں اور ان کے اِفتراء

(ف273)

یہاں شریکوں سے مراد وہ شیاطین ہیں جن کی اطاعت کے شوق میں مشرکین اللہ تعالٰی کی نافرمانی اور اس کی معصیت گوارا کرتے تھے اور ایسے قبائح افعال اور جاہلانہ افعال کے مرتکب ہوتے تھے جن کو عقلِ صحیح کبھی گوارا نہ کر سکے اور جن کی قباحت میں ادنٰی سمجھ کے آدمی کو بھی تردُّد نہ ہو ، بُت پرستی کی شامت سے وہ ایسے فسادِ عقل میں مبتلا ہوئے کہ حیوانوں سے بدتر ہو گئے اور اولاد جس کے ساتھ ہر جاندار کو فطرۃً مَحبت ہوتی ہے شیاطین کے اِتّباع میں اس کا بے گناہ خون کرنا انہوں نے گوارا کیا اور اس کو اچھا سمجھنے لگے ۔

(ف274)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ لوگ پہلے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے دین پر تھے شیاطین نے ان کو اغوا کر کے ان گمراہیوں میں ڈالا تاکہ انہیں دینِ اسمٰعیلی سے منحرف کرے ۔

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ﳓ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِؕ-سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۱۳۸)

اور بولے (ف۲۷۵) یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی (ف۲۷۶) ہے اسے وہی کھائے جسے ہم چاہیں اپنے جھوٹے خیال سے (ف۲۷۷) اور کچھ مویشی ہیں جن پر چڑھنا حرام ٹھہرایا (ف۲۷۸) اور کچھ مویشی کے ذبح پر اللہ کا نام نہیں لیتے (ف۲۷۹) یہ سب اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے عنقریب وہ انہیں بدلہ دے گا اُن کے افتراؤں کا

(ف275)

مشرکین اپنے بعض مویشیوں اور کھیتیوں کو اپنے باطل معبودوں کے ساتھ نامزد کر کے کہ ۔

(ف276)

ممنوع الاِنتِفاع ۔

(ف277)

یعنی بُتوں کی خدمت کرنے والے وغیرہ ۔

(ف278)

جن کو بحیرہ ، سائبہ ، حامی کہتے ہیں ۔

(ف279)

بلکہ ان بُتوں کے نام پر ذَبح کرتے ہیں اور ان تمام افعال کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ انہیں اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ۔

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَاۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُؕ-سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْؕ-اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(۱۳۹)

اور بولے جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے وہ نِرا(خالص) ہمارے مَردوں کا ہے (ف۲۸۰) اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب (ف۲۸۱) اس میں شریک ہیں قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان باتوں کا بدلہ دے گا بے شک وہ علم حکمت والا ہے

(ف280)

صرف انہیں کے لئے حلال ہے اگر زندہ پیدا ہو ۔

(ف281)

مرد و عورت ۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُـوْۤااَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِؕ-قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠(۱۴۰)

بے شک تباہ ہوئے وہ جو اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں احمقانہ جہالت سے (ف۲۸۲) اور حرام ٹھہراتے ہیں وہ جو اللہ نے انہیں روزی دی (ف۲۸۳) اللہ پر جھوٹ باندھنے کو (ف۲۸۴) بے شک وہ بہکے اور راہ نہ پائی(ف۲۸۵)

(ف282)

شا نِ نُزول : یہ آیت زمانۂ جاہلیت کے ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی لڑکیوں کو نہایت سنگ دلی اور بے رحمی کے ساتھ زندہ درگور کر دیا کرتے تھے ، ربیعہ و مُضَر وغیرہ قبائل میں اس کا بہت رواج تھا اور جاہلیت کے بعض لوگ لڑکوں کو بھی قتل کرتے تھے اور بے رحمی کا یہ عالَم تھا کہ کتّوں کی پرورش کرتے اور اولاد کو قتل کرتے تھے ، ان کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ تباہ ہوئے ۔ اس میں شک نہیں کہ اولاد اللہ تعالٰی کی نعمت ہے اور اس کی ہلاکت سے اپنی تعداد کم ہوتی ہے ، اپنی نسل مٹتی ہے ، یہ دنیا کا خسارہ ہے ، گھر کی تباہی ہے اور آخرت میں اس پر عذابِ عظیم ہے تو یہ عمل دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہوا اور اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر لینا اور اولاد جیسی عزیز اور پیاری چیز کے ساتھ اس قسم کی سَفّاکی اور بے دردی گوارا کرنا انتہا درجہ کی حَماقت اور جَہالت ہے ۔

(ف283)

یعنی بحیرے ، سائبہ ، حامی وغیرہ جو مذکور ہو چکے ۔

(ف284)

کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ایسے مذموم افعال کا اللہ نے حکم دیا ہے ان کا یہ خیال اللہ پر اِفتراء ہے ۔

(ف285)

حق و صواب کی ۔