ٍانواع کتب حدیث

احادیث کی کتب مختلف انداز پر مرتب کی گئیں اور ہر قسم کو علیٰحدہ نام سے موسوم کیا گیا ہے لہذا ان کی معرفت بھی ضروری ہے ، انواع و اقسام مندرجہ ذیل ہیں: ۔

۱۔ جامع : – حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیں جس میں آٹھ چیزوں کا بیان ہو ۔

Xسیر X آداب X تفسیر X عقائد X فتن X احکام X اشراط X مناقب جیسے :۔ ٭جامع بخاری ٭جامع ترمذی

مسلم شریف پر بعض حضرات قلت تفسیر کی بنا پر جامع کا اطلاق نہیں کرتے ، اور بعض نے قلت کو نظر انداز کر کے اطلاق کیا ہے، جیسے شیخ مجدد الدین شیرازی ۔

۲۔ سنن : –حدیث کی وہ کتاب جس کی ترتیب ابواب فقہیہ کے اعتبار سے ہو اور صرف احادیث احکام ذکر کی جائیں ۔جیسے:۔X سنن ابو داؤد Xسنن نسائی Xسنن ابن ماجہ

۳۔ مسند :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں ہر صحابی کی روایات علیٰحدہ جمع کی جائیں ، راویوں کی ترتیب کبھی باعتبار فرق مراتب ہوتی ہے اور کبھی باعتباراسماء حروف تہجی کی ترتیب پر ۔جیسے ۔ Xمسند امام احمد Xمسند ابو داؤد طیالسی

۴۔ معجم : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں راویان حدیث کی ترتیب حروف تہجی پر احادیث جمع کی گئی ہوں، خواہ وہ راوی مصنف کے اپنے شیوخ ہوں یا صحابۂ کرام ۔جیسے :۔امام طبرانی کی معاجیم ثلاثہ ۔

۵۔ مستدرک :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی خاص کتاب کے مصنف کی رعایت کردہ شرائط کے مطابق رہ جانے والی احادیث کو جمع کیا گیا ہو ۔جیسے:۔ امام حاکم کی مستدرک

۶۔ مستخرج : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی دوسری کتاب کی احادیث کو اپنی ایسی سند سے روایت کرنا جس میں اس مصنف کا واسطہ نہ آتا ہو ۔جیسے:۔ مستخرج اسماعیلی علی البخاری مستخرج ابی عوانۃ علی مسلم

۷۔ جزء : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی ایک راوی کی روایات ، یا کسی ایک موضوع پر احادیث جمع کی جائیں ۔ جیسے :۔ جزء رفع الیدین للبخاری

۸۔ افرادو غرائب : – حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی ایک محدث کے تفرد ات کو جمع کیا گیا ہو ۔جیسے :۔ Xغرائب مالک Xکتاب الافراد للدارقطنی

۹۔ جمع:۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں چند کتب حدیث کی روایتوں کو بحذف سند و تکرار ذکر کیا گیا ہو۔جیسے:۔ الجمع بین الصحیحین للحمیدی

۱۰۔ زوائد : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی کتاب کی صرف وہ احادیث ذکر کر دی جائیں جو کسی دوسری کتاب سے زائد ہیں ۔جیسے :۔ مصباح الزجاجۃ فی زوائد ابن ماجہ للبوصیری ۔ اس میں وہ احادیث مذکور ہیں جو باقی صحاح ستہ میں نہیں ۔

۱۱۔ اطراف : ۔ وہ کتاب جس میں احادیث کا صرف ایک حصہ ذکر کیا جائے اور پھر اس حدیث کی کل یابعض سندوںکا ذکر کیا جائے ۔جیسے :۔ تحفۃ الاشراف بمعرفۃ الاطراف للمزنی۔ متوفی ۷۴۲ھ

۱۲۔ مفہرس:۔ وہ کتاب جس میں کسی ایک یا چند کتابوں کی احادیث کی فہرست دیدی جائے جس سے حدیث معلوم کرنا آسان ہو جائے ،جیسے:۔ المعجم المفہرس لالفاظ الحدیث النبوی ٭مفتاح کنوز السنۃ

۱۳۔ مصنف و مؤطا: – حدیث کی وہ کتاب جس میں ترتیب اابواب فقہ پر ہو اور احادیث مرفوعہ کے ساتھ موقوف و مقطوع احادیث بھی مذکور ہوں۔جیسے :۔ المصنف لعبد الرزاق المصنف لابن ابی شیبۃ , المؤطا لمالک کتاب الآثار لابی یوسف

۱۴۔ اربعین :۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں کسی خاص موضوع یا متعدد موضوعات پر چالیس احادیث جمع کی گئی ہوں۔ جیسے :۔ الاربعین لاحمد الاربعین للنووی۔

۱۵۔ غریب الحدیث : – وہ کتاب جس میں احادیث کریمہ کے کلمات کے لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کئے جائیں ۔ جیسے:۔ النہایۃ فی غریب الحدیث لابن الاثیر۔ مجمع بحار الانوار فی غرائب التنزیل و الآثار للفتنی

۱۶۔ علل: ۔وہ کتاب ہے جس میں ایسی احادیث ذکر کی جائیں جن کی سند میں کلام ہوتا ہے ۔  جیسے :۔ العلل للترمذی، کتاب العلل لابن ابی حاتم

۱۷۔ موضوعات: وہ کتاب جس میں موضوع احادیث کو جمع کیا جائے اور اصل حدیث موضوع کو ممتاز کر دیا جائے ۔ جیسے :۔ الموضوعات لابن الجوزی الموضوعات الکبری للقاری,اللالی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ

۱۸۔ مشہورہ : ۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث کی تحقیق جائے جو عام طور پر مشہور اور زبان زد خاص و عام ہیں ۔ جیسے :۔ المقاصد الحسنۃ للسخاوی

۱۹۔ تعلیقہ : ۔ وہ کتاب جس میں احادیث کی سند کو حذ ف کر دیا جائے اور اصل متن ذکر کیا جائے ۔جیسے :۔ المصابیح لللبغوی المشکوۃ للتبریزی,جمع الجوامع للسیوطی جمع الفوائد للمغربی

۲۰۔ ترغیب و ترہیب : ۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث جمع کی جائیں جن کا تعلق عقائد و اعمال میں ترغیب اور ان سے غفلت پر ترہیب سے ہو ۔جیسے:۔ الترغیب و الترہیب للمنذری ترغیب الصلوٰۃ للبیہقی

۲۱۔ مشیخہ : ۔وہ کتاب جس میں کسی شیخ کی مرویات کو جمع کر دیا جائے خواہ وہ کسی موضوع سے متعلق ہوں ۔ جیسے:۔ المشیخۃ لابن شاذان المشیخۃ لابن البخاری المشیخۃ لابن القاری

۲۲۔ اذکار:۔ وہ کتاب جس میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول دعائیں جمع کی جائیں ۔ جیسے :۔ الاذکار للنووی الحصن الحصین للجزری

۲۳۔ ناسخ و منسوخ : ۔وہ کتاب جس میں ناسخ و منسوخ احادیث بیان کی جائیں جیسے :۔ کتاب الاعتبار فی الناسخ و المنسوخ من الآثار للحازمی

۲۴۔ اوائل : ۔وہ کتاب جس میں احادیث کو حروف تہجی کی ترتیب پر جمع کیا جائے۔ جیسے :۔ الجامع الصغیر للسیوطی الفردوس للدیلمی

۲۵۔ شرح الآثار:۔ وہ کتاب جس میں ایسی احادیث بیان کی جائیں جو آپس میں متعارض ہیں اور پھر اس تعارض کو اٹھا یا جائے ۔ جیسے:۔ شرح معانی الآثار للطحاوی

۲۶۔ تفسیر ماثور : ۔وہ کتاب جس میں ایسی احادیث جمع کی جائی جو آیات قرآنیہ کی تفسیر سے متعلق ہیں ۔جیسے :۔ جامع البیان للطبری الدر المنثور للسیوطی

۲۷۔ صحیح :۔ حدیث کی اس کتاب کو کہتے ہیںجس کے مصنف نے صرف احادیث صحیحہ کو بیان کرنے کا التزام کیا ہو ۔ جیسے:۔ الصحیح للبخاری الصحیح لمسلم

۲۸۔ رسالہ : ۔ حدیث کی وہ کتاب جس میں جامع کے عناوین میں سے کسی ایک عنوان کے تحت احادیث جمع کی جائیں ۔ جیسے :۔ کتاب الزہد لاحمد

۲۹۔ امالی :۔جس کتاب میں شیخ کے املاء کراتے ہوئے فوائد حدیث ہوں ۔جیسے :۔ الامالی لمحمد

ٍ۳۰۔ تخریج : ۔ وہ کتاب جس میں کسی دوسری کتاب کی احادیث کی سند اور حوالہ درج کیا جائے ۔جیسے:۔ نصب الرایۃ للزیلعی التلخیص الحبیر لابن حجر,اور جیسے راقم الحروف کی ترتیب و پیش کش المختارات الرضویہ من الاحادیث النبویہ والآثار المر ویۃ المعروف بجامع الاحادیث۔

عصر حاضر میں تخریج کا عام طریقہ یہ ہے کہ کسی حدیث کے تعلق سے ان کتابوں کے اسماء، باب، جلد، صفحہ، مطبع، اور دیگر ضروری چیزوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جس سے اصل کی طرف رجوع میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ قدیم طرز پر صرف کتاب اور راوی کانام ضروری ہوتا تھا، بایں معنی امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے اپنی تصانیف میں پیش کر دہ اکثر احادیث کی تخریج خود کر دی ہے ، لہذا اس دور کے لحاظ سے جدید طرز پر ضرورت تھی جس کے لئے راقم الحروف کی کاوش ہدیہ ناظریں ہے۔ تفصیل کچھ اس طرح ہے ۔

امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ نے اپنی تصانیف میں جن احادیث کو بطور استدلال پیش فرمایا ہے وہ آپ کی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں، جہاں جس مسئلہ سے متعلق ضرورت پیش آئی ان کو نقل فرمایا ، ہم نے تمام احادیث کو آپ کی ان تمام تصانیف سے جو ہم کو اب تک دستیا ب ہوئیں جن کی تعداد تین سو کے قریب ہے نقل کیا ، پھر ان کو ابواب فقہیہ پر مرتب کیا ، جن احادیث کا ترجمہ نہیں تھا ترجمہ کیا ، ایسے مقام پر مرتب اور حد کا اشاریہ قائم کرتے ہوئے (۱۲م) لکھ یدیا ، اور جن احادیث کا ترجمہ اعلیٰ حضرت نے لکھا اور متن کی ضرورت ان کو نہ پیش آئی ہم نے کتاب کو مستقل اور یکساں بنانے کیلئے اصل کتابوں سے وہ احادیث لکھیں اور ترجمہ کو ان متون کے ساتھ ضم کر دیا ۔ اعلیٰحضرت کی جس کتاب سے ہم نے حدیث اخذ کی اس کا حوالہ وہیں لکھ دیا ۔ پھر حدیث کے حوالہ میں جن کتابوں کی نشاندہی اعلیٰحضرت نے کی تھی اگر وہ کتابیں ہمارے پاس موجود تھیں تو جلدو صفحہ کی وضاحت کرتے ہوئے نیچے حدیث نمبرکے مطابق لکھ دیا ، اور جو کتابیں نہیں تھیں ان کے اسماء کو حذ ف کر دیا ، البتہ کثیر حوالے وہ بھی ہیں جو ہم نے اصل پر زیادہ کئے ۔ اسی لئے بعض مقامات پر چالیس کتابوں کے حوالے بھی آپ کو ملیں گے ۔پھر تمام مآخذ و مراجع کی فہرست آخر میں لکھ دی ہے جس میں مطبع کی و ضاحت بھی کر دی گئی ہے ۔