حدیث ضعیف کا مرتبہ ؟؟

مدینہ منورہ کے ایک عالم ہیں ڈاکٹر خلیل ابراہیم ملا خاطر یہ حدیث کے بڑے ماہر ہیں ۔ عرب میں کچھ لوگوں نے یہ لکھا کہ حدیث ضعیف کو قبول ہی نہیں کرنا چاہیے۔ ماشااللہ انہوں نے اس موضوع پر پوری کتاب لکھی کہ حدیث ضعیف کا درجہ کیا ہے؟

میں حیران ہوا کے مدینے والے نے اپنے شہر سے ہی یہ کام لے لیا۔ اور اس کتاب کا نام انھوں نے خطورہ رکھا۔ یہ خطرہ سے ہے کہ حدیث ضعیف کا انکار کرنے سے تمہارے ایمان کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اصل میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ کی حاضری کی جو احادیث ہیں ان میں ضعف ہے۔ ایک زیادتی تو یہ کی گئی کہ ان احادیث کو موضوع قرار دے دیا گیا۔ موضوع کا مطلب ہے من گھڑت۔

ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔

تقریبا چھ سات ایسے لکھنے والے ہیں جو کہ نجدی ہیں ان کی کتابوں کے حوالے بھی دیے جا سکتے ہیں کہ انہوں نے لکھا کہ ان احادیث کو من گھڑت کہنا درست نہیں ہے۔

نواب صدیق الحسن بھوپالی اور دیگر کو پڑھ لیں۔ ان لوگوں نے باقاعدہ اس موضوع پر لکھا۔

اگر حدیث ضعیف بھی ہوں توضعیف کا معنیٰ بیمار نہیں ہوتا۔ یہ تو حدیث کا ایک درجہ ہے۔ حدیث ضعیف کا اگر درجہ پوچھنا ہو تو امام ابو حنیفہ سے پوچھو امام احمد بن حنبل سے پوچھو۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ساری دنیا کے عقلا جمع ہو جائیں تو ہم ان کی بات کو نہیں مانیں گے حدیث ضعیف کو مان لیں گے۔

کیا بات ہے۔ ایمان اس کو کہتے ہیں۔ اگر آپ حدیث ضعیف کو چھوڑ دیں تو آدھا دین تو سمجھو ختم ہو گیا۔

من گھڑت کو ہرگز نہ مانو مگر یاد رکھو من گھڑت بھی اس کو کہو کہ جس پر امت متفق ہو۔ کسی حدیث کو بعض اہل علم موضوع قرار دیتے ہیں اور بعض اس کی صحت کو ثابت کر دیتے ہیں۔ کیونکہ ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔ یہ جو ہم امام اعظم یا امام مالک کو مانتے ہیں ان کو ماننےکی ایک وجہ یہی ہے کہ ان کے سامنے پورا دین ہے ۔ مثلاً ایک آدمی ہے اس کو ایک لاکھ احادیث یاد ھیں اگر وہ کوئی مسئلہ بیان کرتا ہے اور کوئی دوسرا بندہ ہے جس کے پاس سطحی سا علم ہے تو ہم کس کی مانیں گے؟

فیصلہ کرو!

یہ جو ائمہ مجتہدین ہیں انکے ساتھ کسی کا مقابلہ نہیں۔ مثلاً امام بخاری ہیں ان کا امام اعظم کے ساتھ کیا مقابلہ ہے۔ وہ ماشااللہ مجتہد ہیں اوپر والا درجہ ہے۔

میں نے کسی صاحب سے یہ بات سنی کہ وہ کہنے لگے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میں نے جو کچھ پہلے لکھا ہے یعنی سابقہ لکھے ہوے کو ختم کر دوں ۔ اس کا انھوں نے اعتراف کیا۔اعتراف کرنا اچھی بات ہے میں نے ان سے کہا کہ آپ کو یہ اعتراف اس لیے کرنا پڑا کیونکہ آپ نے سابقہ لوگوں کو مانا نہیں اگر آپ امام مالک امام ابوحنیفہ یا داتا علی ہجویری کا مطالعہ کر لیتے تو آپ کو یہ اعتراف نہ کرنا پڑتا۔ کیونکہ ان کا علم وسیع ہے ان کے سامنے بہت کچھ ہوتا ہے مگر ہمارے سامنے چند چیزیں ہوتی ہیں۔چاہے وہ منسوخ ہی ہوں۔ مثلاً پہلے یہ مسئلہ تھا کہ اگر ٹخنوں کے نیچے کپڑا چلا جاے تو وضو ٹوٹ جاےگا۔ مگر اب نہیں ٹوٹتا کیونکہ وہ حدیث منسوخ ہوگئی تھی۔ ناسخ و منسوخ کی باقاعدہ بحثیں ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مولوی آپ کو کیا بتائیں گے۔ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہوگا۔ جتنے پیسے دو گے ویسا ہی مولوی ہوگا۔ تم نے مولوی کے ساتھ بدسلوکی کی ہے۔ تم نے مسجدوں کے میناروں کی تعمیر کی مگر محراب میں کھڑے ہونے والے مولوی کی تعمیر نہیں کی۔ حضور کا ارشاد مبارک موجود ہی کہ مساجد منڈیاں بناؤ. یعنی بغیر مینار کے کیونکہ وہ انسانیت کے پیغمبر ہیں۔لیکن ہمارا سارا زور مینار بنانے پر ہے

اقتباس خطبہ جمعہ ۔مفتی محمد خان قادری

Mufti Muhammad Khan Qadri Lahore