سجدہ ٔ سہو کے متعلق اہم و ضروری مسائل

مسئلہ: فرض اور نفل دونوں نمازو ںمیں سجدہ ٔسہو کے واجب ہونے کا ایک ہی حکم ہے یعنی نفل نماز میں بھی کوئی واجب ترک ہونے سے سجدۂ سہو واجب ہے ۔ (عالمگیری، بہارشریعت،حصہ ۳ ، ص ۵۰)

مسئلہ: سجدہ سہو اس وقت واجب ہے کہ وقت میں گنجائش ہو اور اگر وقت میں گنجائش نہ ہو مثلاً نمازِ فجر میں غلطی ہونے کی وجہ سے سجدۂ سہوواجب ہوا ۔ نمازی نے پہلا سلام پھیرا اور سجدہ ٔ سہو نہ کیا تھاکہ آفتاب طلوع کر آیا تو سجدہ ٔ سہو ساقط ہوگیا ۔( ردالمحتار ،بہار شریعت ، حصہ ۴، ص ۴۹)

مسئلہ: جمعہ و عیدین کی نماز میں اگر سجدہ ٔ سہو واجب ہوا تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ ٔسہو نہ کرے کیونکہ اگر امام سجدہ ٔ سہو کرتا ہے اور مجمع کثیر ہے تو مقتدیوں کی کثرت کی وجہ سے خبط و افتنان کا اندیشہ ہے یعنی مقتدیوں میں گڑبڑی پھیلنے اور فتنہ ہونے کا اندیشہ ہو تو علمائے کرام نے سجدہ ٔ سہو کے ترک کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ جمعہ کی نماز میں سجدہ ٔ سہو ترک کرنا اولیٰ یعنی بہتر ہے ۔ (درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۳ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۸۹)

مسئلہ: تعدیل ارکان مثلاً قومہ یاجلسہ بھول جانے سے بھی سجدہ ٔ سہو واجب ہوتاہے ۔ (عالمگیری، بہار شریعت، حصہ ۴ ص ۵۰)

مسئلہ: اگر ایک نماز میں چند واجب ترک ہوئے تو بھی صرف ایک مرتبہ ہی سجدہ ٔ سہو کرنا کافی ہے۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۰)

مسئلہ: کوئی ایسا واجب ترک ہوا جو واجبات نماز سے نہیں بلکہ اس کا وجوب امر خارج سے ہے تو اس واجب کے ترک ہونے سے سجدہ ٔ سہو واجب نہیں مثلاً قرآن مجید ترتیب کے موافق پڑھنا واجبات تلاوت سے ہے ، واجباتِ نماز سے نہیں لہذا اگر کسی نے نماز میں خلافِ ترتیب قرآن مجید پڑھا تو تلاوت کا واجب ترک ہوا ۔اس لئے سجدۂ سہو واجب نہیں ۔ (ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۴۹)

مسئلہ: اگر کسی نے نماز میں بھول کر خلاف ترتیب قرآن مجید پڑھا تو نماز میں حرج نہیں اور سجدہ ٔ سہو کی ضرورت نہیں اور اگر قصداً خلاف ترتیب پڑھاتو سخت گنہگار ہوگالیکن نماز پھر بھی ہوگئی اور سجدہ ٔ سہو کی اب بھی ضرورت نہیں ۔ ترتیب اُلٹا کر نمازمیں قرآن مجید پڑھنا حرام ہے لہٰذا اس پر لاز م ہے کہ توبہ کرے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱۳۲ ، ص ۴۳۷ ،ص ۸۸)