أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِىٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا تو ہم نے (اس نبی کی تکذیب کے باعث) اس بستی والوں کو تنگی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ فریاد کریں

تفسیر:

94 ۔ 95: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” ہم نے جس بستی میں بھی کوئی نبی بھیجا تو ہم نے (اس نبی کی تکذیب کے باعث) اس بستی والوں کو تنگی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ فریاد کریں۔ پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا حتی کہ وہ خوب پھلے پھولے اور انہوں نے کہا ہمارے باپ دادا پر بھی تنگی اور فراخی آتی رہی ہے، سو ہم نے ان کو اچانک گرفت میں لے لیا اور ان کو پتا بھی نہیں چلا “

مشکل الفاظ کے معانی :

قریۃ : وہ جگہ جس میں لوگ اجتماعی طور پر رہتے ہوں، اس کا اطلاق شہروں اور دیہاتوں دونوں پر ہوتا ہے۔ 

الباساء : شدت اور مشقت۔ مثلا جنگ کی مشقت، ناپسندیدہ، اور ناگوار چیز۔ اس کا اطلاق زیادہ تر فقر اور جنگ کی مصیبت پر ہوتا ہے۔ 

الضراء : وہ چیز جو انسان کے نفس یا اس کی معیشت میں ضرر پہنچائے۔ مثلاً مرض، اس کا مقابل السراء اور النعماء ہے۔ 

یضرعون : اس کا معنی ضعف اور ذلت ہے۔ اس سے مراد تذلل اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنا۔ 

عفوا : عفو کا معنی ہے کسی چیز کو حاصل کرنے کا قصد کرنا۔ گناہ سے درگزر کرنا، کسی چیز میں زیادتی کا قصد کرنا، یا زیادہ ہونا، یہاں یہی مراد ہے۔ 

رنج اور راحت کے نزول میں کافروں اور مسلمانوں کے احوال اور افعال کا فرق : اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی قوموں پر ان کے کفر اور تکذیب کی وجہ سے عذاب نازل کرنے کا ذکر فرمایا تھا اور اس آیت میں ایک عام قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ جس بستی میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس بستی والوں کی طرف کوئی رسول بھیجا اور پھر اس بستی والوں نے اس رسول کی تکذیب کی تو پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ کی اور جب وہ تنبیہ کے باوجود اپنی سرکشی سے باز نہیں آئے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ملیامیٹ کرنے کے لیے عذاب بھیج دیا اور جن اقوام پر عذاب بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے پہلے ذکر کیا ہے وہ صرف ان اقوام کی خصوصیت نہ تھی۔ 

اور تمام قوموں کی یہ سرشت رہی ہے کہ پہلے اللہ ان کو تنگی، بیماری اور قحط کی آفتوں میں مبتلا کرتا ہے۔ پھر ان کو فراخی اور صحت عطا فرماتا ہے اور خشک سالی دور فرما دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کو پہچانیں اور اس کی نعمتوں کی قدر کریں اور اس پر ایمان لائیں۔ لیکن جب وہ ان نعمتوں سے ا چھی طرح فائدہ اٹھا لیتے ہیں، ان کی تعداد اور ان کے مال میں زیادتی ہوجاتی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ایسا ہمیشہ سے ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے، کبھی ان پر برے دن آتے تھے اور کبھی اچھے دن۔ یہ اللہ کی قدرت اور وحدانیت یا اس کے رسول کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ کافر مصیبت سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ راحت پر شکر ادا کرتے ہیں، اور مومن کی کیفیت اس کے بالکل برعکس ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے اس کے ہرحال میں خیر ہے اور یہ صفت مومن کے سوا اور کسی میں نہیں ہے، اگر اس کو راحت پہنچتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے خیر ہے۔ اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔ (صحیح مسلم، زہد : 64 (2999) 7365، مسند احمد، ج 4، ص 332، سنن دارمی، رقم الحدیث : 2780، جامع الاصول، ج 9، رقم الحدیث : 7012)

حضرت ابوہریرہ رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن مرد اور مومن عورت کی جان، مال اور اولاد پر ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں حتی کہ وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2407 ۔ مسند احمد، ج 3، رقم الحدیث : 8918، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 913 ۔ المستدرک، ج 1، ص 346)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں اپنے بندے کی دنیا میں دو آنکھیں لے لیتا ہوں تو میرے نزدیک اس کے لیے جنت کے سوا اور کوئی جزا نہیں ہے۔ (صیح البخاری، رقم الحدیث : 5653 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2408 ۔ جامع الاصول، ج 6، رقم الحدیث : 4625)

حضرت جابر رضٰ اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اہل عافیت جب مصیبت اٹھانے والوں کا ثواب دیکھیں گے تو یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کی کھال کو دنیا میں قینسچی سے کاٹ دیا جاتا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2410 ۔ المشکوۃ، رقم الحدیث : 1570 ۔ الترغیب و الترہیب، ج 4، ص 282)

پس مسلمانوں کو چاہیے کہ جب ان پر مصائب آئیں تو وہ یہ یقین کریں کہ یہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ہیں اور ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں گے۔ وہ ان مصائب پر صبر کریں اور ان پر واویلا نہ کریں اور حرف شکایت زبان پر نہ لائیں اور جب ان پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو تو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اگر انہوں نے رنج و راحت کے ایام کو گردش دوراں اور زمانہ کی عادت پر محمول کیا تو پھر ان کا یہ عمل کافروں کے عمل کے مشابہ ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 94