حدیث نمبر :673

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اپنی کچھ نمازیں اپنے گھروں کے لئےمقررکرو ۱؎ اورگھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کہ فرض مسجدمیں پڑھو اورسنت ونفل گھر میں آکر یا نماز پنجگانہ مسجد میں پڑھو اورنمازتہجد،چاشت وغیرہ گھر میں،تاکہ نماز کا نورگھروں میں رہے اورعورتوں وبچوں کوتمہیں دیکھ کرنماز کا شوق ہو،نیز گھر کی نماز میں ریاءکم ہوتی ہے۔

۲؎ یعنی قبرستان کی طرح انہیں نماز سے خالی مت رکھو یا گھروں میں مردے دفن نہ کرو۔خیال رہے کہ گھر میں دفن ہونا حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات سے ہے،پھرحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما کو یہ شرف نصیب ہوا۔دوسروں کو شہرسے باہرقبرستان ہی میں دفن کرنا چاہیئے۔بعض لوگ اپنی تعمیر شدہ مسجدیا مدرسے میں اپنی قبر کی جگہ رکھتے ہیں اور وہیں دفن کئے جاتے ہیں اور وہ اس حدیث کی زد میں نہیں آتے کیونکہ اس سے وہ جگہ قبرستان نہیں بن جاتی۔”قبورًا”میں اسی طرف اشارہ ہے نہ ان کی قبر کھودکر لاش نکالناجائزکہ بعددفن میت نکالنا جائز نہیں،الا لحق ادمی۔