امام مسلم رحمہ اللہ کا امام بخاري کے ہاتھ اور پاوں چومنا:

امام مسلم کے شہر نیشاپور میں جب امام بخاری تشریف لائے اور امام مسلم ان کے پاس حاضر ہوئے تو امام مسلم نے امام بخاری کا ماتھا چوما اور پھر ان سے اجازت مانگی کہ:

دعني حتی أقبّل رجليک، يا أستاذ الأستاذين وسيد المحدّثين وطبيب الحديث في علله.

”اے استاذوں کے استاذ، سید المحدّثین اور عللِ حدیث کے طبیب! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے پاؤں کا بوسہ لے لوں۔”

اِمام بخاری اور امام مسلم کا یہ واقعہ ابن نقطہ نے ‘التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن والمسانید (1: 33)’میں، امام ذہبی نے ‘سیر اعلام النبلاء (12: 432، 436)’ میں، امام نووی نے ‘تہذیب الاسماء واللغات (1: 88)’ میں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمۃ فتح الباری (ص: 488)’ میں اور برصغیر کے نام ور غیر مقلد نواب صدیق حسن قنوجی نے ‘الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ (ص: 339)’ میں روایت کیا ہے۔

قال الحافظ في تغليق التعليق ٥/ ٤١٩ “إسناد هذه الحكاية صحيح”