حدیث نمبر :675

روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں کہ ہم وفدکی صورت میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎ تو ہم نے آپ کی بیعت کی اور اس کے ساتھ نماز پڑھی۲؎ اورہم نے آپ کوخبردی کہ ہماری زمین میں ہمارا گرجا ہے ہم نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے وضو کا غسالہ مانگا تو آپ نے پانی منگایا وضوکیا اورکلی کی پھریہ پانی ایک برتن میں بھردیا اورہم کو دیا فرمایاجاؤ۳؎ جب اپنے وطن کوپہنچوتو اپناگرجا توڑ ڈالو اوراس کی جگہ یہ پانی چھڑک دو۴؎ اوراُسے مسجد بنالو ہم نے عرض کیا کہ ہمارا شہر دور رہے اورگرمی سخت ہے پانی سوکھ جائے گا۵؎ فرمایا اسے اورپانی سے بڑھاتے رہو اس سے برکت ہی بڑھے گی۶؎(نسائی)

شرح

۱؎ یعنی اپنی قوم کے نمائندے بن کر ان سب کی طرف سے اسلام لانے اوراحکام سننے کے لیے۔

۲؎ یہ بیعت اسلام کہلاتی ہے۔آج کل عام بیعتیں بیعت توبہ ہوتی ہیں۔بیعت کی حقیقت یہ ہے کہ کسی مقبول کے ذریعہ رب سے کچھ معاہدے کرنا۔بیعت چارقسم کی ہے۔اس کی تفصیل ہماری کتاب “شانِ حبیب الرحمن”میں دیکھو۔حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنا بڑی نعمت ہے اسی لیے یہ حضرات اس کو فخریہ بیان کرتے ہیں۔

۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ پانی حضور علیہ السلام کے اعضاءشریف کا دھوون تھا جس میں خصوصیت سے ایک اور کلی بھی کردی گئی تھی،اورہوسکتا ہے کہ وضو کا پانی بچا ہو اور اس میں کلی کردی گئی جو برکت کے لیے ان کو دیا گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے تبرکات کو خزانۂ مخفی جانتے تھے اس لیے عاجزی سے مانگا کرتے تھے۔

۴؎ تاکہ اس کی برکت سے گزشتہ کفر کی گندگی جاتی رہے اورآئندہ تمہاری نمازیں زیادہ قبول ہوں،اورتمہاری یہ مسجد اورمسجدوں سے افضل ہو کیونکہ اس میں ہماراتبرک پہنچا ہے۔

۵؎ یعنی راستہ میں ہم برکت کے لیے پئیں گے،تاکہ مسجد کے ساتھ ہمارے دل بھی منوّرہوں اورگرمی سے بھی خشک ہوگا۔

۶؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس چیزکو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جسد مبارک سے مس ہوجائے تو تبرک بن جاتی ہے،لہذا خاک مدینہ تبرک بھی ہے شفا بھی۔دوسرے یہ ہے سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا غسالہ معنوی نجاستوں کوبھی دورکردیتا ہے۔تیسرے یہ کہ جس مسجد میں مختار کل ختم رُسُلْ صلی اللہ علیہ وسلم کاتبرک ہو وہ دوسری مسجدوں سے افضل ہے،یعنی مسجد وں میں سیدالانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف رکھے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔چوتھے یہ کہ بزرگوں کے تبرکات اورشہروں میں لے جانایابھیجنا سنتِ صحابہ ہے۔بعض لوگ عرسوں کا لنگر دور دور بھیجتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔مرقاۃ میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم امیر مکہ سے آبِ زمزم مدینہ منگایا کرتے تھے اب بھی آب زمزم ملک ملک پہنچتاہے۔پانچویں یہ کہ تبرک سے جو چیز مل جائے وہ تبرک بن جاتی ہے۔اب بھی آب زمزم میں اور پانی ملا کر پلایا جاتا ہے۔چھٹے یہ کہ مسلمان کفار کا عبادت خانہ نہیں گراسکتے ہیں،اگرکفارمسلمان ہوکرخودہی اپنا عبادت خانہ گراکروہاں مسجد بنا لیں توجائز ہے۔