حضرت سیدنا عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضى الله تعالى عنهما و ارضاهما عنا ، چھوٹی عمر کے صحابہ میں سے ہیں ۔ آپ بے انتہاء سخی تھے ۔ آپ کا لقب ہے

” بحر الجود “

آپ کے والد گرامی سیدنا جعفر بھی خوب سخی تھے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ کا ایک لقب ” الجواد ابن الجواد ” بھی ہے ۔

ایک بار آپ اپنے مزرعہ کو دیکھنے کے لیئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ ایک مزرعہ میں یہ منظر دیکھا کہ ایک غلام روٹی کھا رہا ہے اور اس کے سامنے ایک کتا بھی بیٹھا ہے اور وہ غلام ایک نوالہ اپنے منہ میں رکھتا ہے اور ایک کتے کے آگے ڈالتا ہے ۔

حضرت کچھ دیر یہ دل کو لبھانے والا منظر دیکھ دیکھ حیران ہوتے رہے ۔

پھر پوچھا ، آپ کس کے غلام ہیں ؟

وہ بولا : مُصعب بن زبير کا ۔

حضرت نے پوچھا : یہ باغیچہ ؟

غلام : انہی کا ہے .

فرمایا : مجھے بہت عجیب لگا کہ ایک لقمہ خود کھا رہے تھے اور ایک اس کتے کو دے رہے تھے۔!

غلام : مجھے بہت شرم سی آتی ہے کہ کوئی امید بھری نظریں میرے پر جمی ہوں اور میں اپنے آپ کو ان دے ترجیح دوں !! .

ایسا مثالی جواب سن کر بجائے آگے جانے کے واپس مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو پڑے اور سیدھے گئے جناب مصعب کے پاس ، غلام اور جاگیر دونوں خرید کر پھر واپس غلام کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا :

کالو ! ( پیار کا انداز) مُصعب سے میں نے تجھے خرید لیا ہے .

وہ غلام لپک کر کھڑا ہوا اور بولا : الله مجھے آپ کے لیئے نیک نصیب بنائے .

حضرت عبد اللہ : میں نے یہ جاگیر بھی ساتھ ہی خرید لی ہے .

غلام : الله اس کی مکمل خیر آپ کو عطا فرمائے .

حضرت : اور میں اللہ کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ لوجه الله تم آزاد ہو .

غلام : الله اپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ..

حضرت : اور اللہ ہی کو گواہ بنا کے میں کہتا ہوں کہ یہ تمام جاگیر میری طرف سے تمہیں هديہ ہے ..

غلام : الله اپ کو جزاء احسن دے اور اب میں الله کو بھی اور آپ کو بھی گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ اب یہ جاگیر میری طرف سے فُقراء کے لیئے وقف ہے ۔

اب جناب عبد اللہ ایک بار پھر سے واپس مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو پڑتے ہیں اور کہہ رہے ہیں

: *( غلام بھی ہم سے زیادہ کریم اور سخی ہے )*”

.

*فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ فی الوقت یہ واقعہ

حافظ شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي

المتوفى 748 هـ 1374 م کی کتاب

سير أعلام النبلاء 13 / 363 سے ہے ۔

سیرت کی متعدد کتب میں اس سے بھی بڑھ کر ایمان افروز واقعہ آپ ہی کا موجود ہے

کہ ایک غلام کے پاس تین روٹیاں ہیں ۔ کھانے بیٹھا تو ایک کتا کہیں سے آ گیا ۔ اس نے ایک ایک کر کے وہ تینوں روٹیاں کتے کو ڈال دیں ۔

پوچھا ۔ روزانہ مالک کی طرف سے کیا کھانا ملتا ہے ؟

3 روٹیاں ، غلام نے جواب دیا ۔

فرمایا وہ تینوں تو تم نے کتے کو کھلا دیں ۔

غلام بولا ۔ میں آج بھوکا رہ لوں گا ۔ در اصل یہ علاقہ کتوں کا ہے نہیں ۔ کتے یہاں ہوتے نہیں، یہ بھوک کا مارا ، امید رزق لیئے کسی اور علاقے سے آیا ہے تو اب مجھے شرم آئی کہ وہ اتنی دور سے آس امید لگائے آیا ہے اور اس کی بھوک ابھی باقی ہو اور میں کھانے لگ جاؤں ۔

بے ساختہ حضرت کے منہ سے نکلا ، سخی تو یہ ہیں، ہم تو سخاوت کے نام پر ملامت ہیں ۔

جی یہ ہمارے ہی ، مسلمانوں کے ہی اسلاف ہیں

بشکریہ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کراچی