🔎غیر مسلم ماہر کی خدمات کا حصول ؟

قال ابن أبي حاتم : حدثنا كثير بن شهاب حدثنا محمد – يعني ابن سعيد بن سابق – حدثنا عمرو بن أبي قيس عن سماك بن حرب عن عياض : أن عمر أمر أبا موسى الأشعري أن يرفع إليه ما أخذ وما أعطى في أديم واحد ، وكان له كاتب نصراني ، فرفع إليه ذلك ، فعجب عمر [ رضي الله عنه ] وقال : إن هذا لحفيظ ، هل أنت قارئ لنا كتابا في المسجد جاء من الشام؟ فقال : إنه لا يستطيع [ أن يدخل المسجد ]فقال عمر : أجنب هو؟ قال : لا بل نصراني . قال : فانتهرني وضرب فخذي ، ثم قال : أخرجوه ، ثم قرأ : ( يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء [ بعضهم أولياء بعض ومن يتولهم منكم فإنه منهم إن الله لا يهدي القوم الظالمين ]

📗 تفسیر ابن كثير

🌻 (مکمل سند کے بعد )

امیر المؤمنين عمر فاروق نے جناب ابو موسی اشعری کو لکھا کہ تمام لین دین ایک جگہ لکھ کر بھیجیں ۔

جناب اشعری کے پاس ایک بڑا ماہر عیسائی اکاؤنٹینٹ تھا ۔ اس نے وہ سارا کھاتہ بڑے عمدہ طریقے سے بنایا۔ جناب اشعری اس سب کے ساتھ امیر المومنین کے پاس آ گئے ۔ سیدنا حضرت عمر اس حساب کو دیکھ کر بوجہ خوشی کے ششدر سے ہوگئے اور فرمایا . اس كو بلاؤ ۔ وہ پڑھ کر بھی سنا دے ۔

جناب اشعری نے کہا کہ وہ مسجد کے اندر نہیں آ سکتا ۔

فرمایا کیوں؟ کیا وہ جنبی ہے ؟ عرض کیا ، نہیں بلکہ نصرانی ہے ۔ اشعری کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی حضرت عمر نے ڈانٹ پلائی اور میری ران پر ایک لگا بھی دی اور فرمایا ۔ اس کی چھٹی کروا دو ۔

پھر یہ آیت تلاوت کر کے سنائی ۔

( يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء بعضهم أولياء بعض ومن يتولهم منكم فإنه منهم إن الله لا يهدي القوم الظالمين ]

👈 اے ایمان والو! ہرگز نہ بناؤ یہود و نصاری کو دوست ۔ وہ آپس میں باہم دوست ہیں ۔ ( اس تنبیہ کے بعد ) جو بھی ان کے ساتھ دوستی لگائے تو یقینا وہ انہی میں سے ہے ۔ یقینا اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا ۔

🕋 فقیر خالد محمود کہتا ہے کہ یہ آپ کے ، ہم سب کے رب کا فرمان ہے ۔ اسے پڑھیئے اور حضرت سیدنا عمر کی طرح اس کی بنیادی تعلیم اور اس کے اندر اسلام اور اہل اسلام کی بقاء کے مخفی راز کو سمجھئے ۔ رب کے ان کے ظالم اور محروم ہدایت ہونے کے قطعی فیصلہ کو پڑھ لیجئے ۔

پھر اس کے بعد بھی اگر ان کے ساتھ دوستی کرنا ہے تو اپنے متعلق رب العالمین کے واضح اور اٹل حکم کی روشنی میں اپنے مذہب و ایمان کا فیصلہ بھی خود ہی کر لیں ۔

مولوی بیچارہ تو اپنی تعلیم و تربیت کے تحت آپ کو ، آپ کے رب کے فرامین بار بار سنا ہی سکتا ہے ۔ اور سناتا ہی رہے گا ۔

بشکریہ شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کراچی