قرأت کی وہ غلطیاں جن کی وجہ سے سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔

مسئلہ: فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اور وتر ، سنت و نفل نماز کی کسی بھی رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ (الحمد شریف ) کی ایک آیت بھی پڑھنابھول گیا یا سورت سے پہلے دو مرتبہ الحمد شریف پڑھی یا الحمد شریف کے ساتھ سورت ملانا بھول گیا یاالحمد شریف سے پہلے سورت پڑھی اور الحمد شریف کو بعد میں پڑھا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ص ۵۰ ، اور فتاوٰی رضویہ ،جلد۳ ، ص ۱۲۳ و ۱۳۴ )

مسئلہ: الحمد شریف پڑھنا بھول گیا اور سورت شروع کردی ، تو اگر بقدر ایک آیت پڑھ چکا تھاپھر یاد آیا تو الحمد شریف پڑھ کر سورت پڑھے اور سجدہ ٔ سہو واجب ہے۔( عالمگیری)

مسئلہ: اگر الحمد شریف پڑھنا بھول گیا اور صرف سورت پڑھ کر رکوع میں چلاگیا اوراسے رکوع میںیارکوع سے کھڑا ہونے کے بعد یاد آیا توالحمد شریف پڑھ کر پھر سورت پڑھے اور رکوع کا اعادہ کرے اور نماز کے آخر میں سجدہ ٔسہو کرے ۔ ( المگیری)

مسئلہ: کسی نے بقدر فرض قرأت کی تو مگر بقدر واجب قرأت نہ کی اور رکوع میں چلا گیا یعنی جس رکعت میں سورہ ٔ فاتحہ کے ساتھ کسی سورت کاملانا لازمی تھا یعنی واجب تھا اس میں صرف سورہ ٔ فاتحہ پڑھی اور سورت ملائے بغیر رکوع میں چلاگیاتو حکم یہی ہے کہ رکوع سے لوٹے اورپھر سے سورہ ٔفاتحہ پڑھ کر سورت ملا کر پھر دوبارہ رکوع کرے اور نماز کے آخر میں سجدہ ٔ سہو کرے ۔ اس صورت میں اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ پہلارکو ع ساقط ہوگیا۔ ( ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۱)

مسئلہ: بھول کر فرض کی پچھلی رکعتوں میں یعنی ظہر ، عصر اور عشاء کی تیسری و چوتھی رکعت میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں الحمد شریف کے ساتھ سورت ملائی تو سجدہ ٔ سہو نہیں بلکہ اگر قصداً بھی سورت ملائی توبھی حرج نہیں مگر امام کو ایسا نہ کرنا چاہئے ۔ یونہی اگر پچھلی رکعتوں میں الحمد شریف نہ پڑھی تو بھی سجدہ ٔ سہو نہیں۔( عالمگیری ، بہارشریعت ، حصہ ۴ ، ص۵۱، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۷)

مسئلہ: نماز میں قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود میں کسی جگہ قرآن کی کوئی آیت یہاں تک کہ بسم اللہ پڑھنا بھی جائزنہیں ۔ اگر رکوع یا سجدہ یاقعدہ میں قرآن کی کوئی آیت پڑھی تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( عالمگیری ، بہارشریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۱ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۱۳۴)

مسئلہ: نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ ٔ تلاوت کا نماز میں ادا کرنا اور فی الفور (یعنی فوراً) ادا کرنا واجب ہے ۔ اگر سجدہ ٔ تلاوت کرنا بھول گیا یاتین آیت کے پڑھنے کے وقت کی مقدار جتنی یا زیادہ دیر کی تو سجدہ ٔ تلاوت بھی کرے اور سجدہ ٔ سہو بھی کرے۔ ( عالمگیری ، درمختار ، غنیہ ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، جلد ۴ ، ص ۵۱ ،اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۶۵۳)

مسئلہ: اگر امام نے ان رکعتوں میں کہ جن میں قرأت آہستہ آواز سے کرنا واجب ہے مثلاً ظہر و عصر کی سب رکعات اور مغرب کی تیسری اور عشاء کی پچھلی دو میں سے کسی بھی رکعت میں بھول کر بلند آواز سے قرآن عظیم پڑھا اور اس کی کم از کم مقدار کہ جس سے فرض قرأت ادا ہوجائے اور وہ ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں ایک آیت ہے یعنی اگر صرف ایک آیت جتنا بھول کر بلند آواز سے پڑھ دیا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہوگا اور اگر اس قدر قصداً ( جان بوجھ) کر بآواز بلند پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے ۔ ( غنیہ ، تنویر الابصار ، بحرالرائق ، ہدایہ ، تاتارخانیہ ، عنایہ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۹۳)

مسئلہ: سورہ ٔ فاتحہ کے بعد سورت سوچنے میں اتنی دیر لگائی کہ تین مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہہ لیا جائے تو قرأت میں تاخیر ہونے یعنی الحمد شریف کے ساتھ سورت ملانے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ترک واجب ہوا لہٰذا سجدہ ٔ سہو کرنا واجب ہے ۔ کیونکہ الحمد کے ساتھ فوراً سورت ملانا واجب ہے ۔( تنویرا لابصار ، غنیہ ، محیط ، عالمگیری ، ردالمحتار اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص۲۷۹ ، ص ۶۳۰)

مسئلہ: پہلی دو(۲) رکعتوںمیں قیام میں سورۂ فاتحہ کے بعد تشہد(التحیات) پڑھا تو سجدہ سہو واجب ہے اور اگر سورہ ٔ فاتحہ سے پہلے پڑھا تو سجدہ ٔ سہو واجب نہیں ۔ اور پچھلی دو رکعتوں میں سورہ ٔفاتحہ کے پہلے یا بعد میں تشہد پڑھا تو سجدہ سہو واجب نہیں ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۳)

مسئلہ: اگر قیام میں سورہ ٔفاتحہ ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھی تو سجدہ ٔسہو واجب ہے ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۷۵)

مسئلہ: امام نے جہری نماز یعنی جن میں بلند آواز سے قرأت واجب ہے یعنی فجر کی دونوں رکعتیں ، مغرب اور عشاء کی پہلی دونوں رکعتوں میں بقدر ایک آیت پڑھنے کے آہستہ قرأت کی تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( ردالمحتار ، غنیہ ، عالمگیری ، درمختار ، بہارشریعت ، حصہ۴، ص ۵۴)

مسئلہ: منفرد نے یعنی ا کیلے نمازپڑھنے والے نے سِرّی ( جس میں قرأت آہستہ پڑھنا واجب ہے )نماز میں بلند آواز سے پڑھا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے اور اگر جہری نماز ( جس میں بلند آواز سے قرأت پڑھنا واجب ہے ) میں آہستہ پڑھا تو سجدہ ٔ سہو نہیں ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۴، ص ۵۴)