علم جرح وتعدیل سے ناواقف انسان بنام ابو حمزہ کے جہالت بھرے چٹکلوں اور لطیفوں اور روایت یا ساریہ الجبل پر اعتراضات کا علمی جائزہ

بقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

ہم نےپچھلی پوسٹ میں اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ابوحمزہ کے اعتراضات کا جواب دیا تھا اور اسکےایک جھوٹ کو بھی واضح کیا تھا کہ بقول اسکے ساریہ الجبل والی روایت پر محدثین کا اختلاف ہے اور اسکو متقدمین میں سے کسی نے اپنی کتب میں نہیں لیا ہے

جب کہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اسکو متعدد محدثین جو ۴۰۰ھ میں یا اس سے پہلے کے محدثین نے اس روایت کو اپنی کتب میں لکھا ہے اس سے محدثین، مفسرین ،شارحین اور مورخین نے بغیر کسی اعتراض کے نقل کیا استدلال کیا ہے متقدمین سے متاخرین تک آج تک اس واقعے کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اولیاءاللہ کو رب تعالیٰ کشف کراتا ہے یہاں تک کہ وہابیہ کے محدث البانی اور انکے شیخ آل سعود ابن عثیمین کی کتب تک سے وہابیہ کی عوام جہلاء کو ثبوت دیے کہ اس واقعے پر کسی کا اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے لیکن ہماری پوسٹ پر کوئی بھی ایک وہابی نے حق کی طرف رجوع کرنے کی ہمت نہ کی کہ ایک واقعے کو صحیح ابن تیمیہ ، امام ابن کثیر ، انکا علامہ البانی وغیرہ صحیح قرار دے رہے ہیں تو یہ واقعہ واقعی ثابت ہوگا

اور ابن تیمیہ ، البانی اور ابن عثیمین وغیرہ اس بنام ابو حمزہ جاہل سے تو بڑے محققین ہونگے لیکن وہابیہ عوام کی جہالت کو ۲۱ توپوں کی سلامی جنہوں نے ابن تیمیہ ، ابن کثیر ، البانی ، اور امام ابن حجر عسقلانی کی توثیق کو دیوار پر دے مارا

اور آج کے ایک مجہول اسٹیکرباز کی اندھی اور جامد تقلید کرتے ہوئے اپنی جہالت پر مہرین لگوائیں ہیں

اب ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم نے اس پوسٹ میں ابو حمزہ کی جہالت کو چٹکلواور لطیفوں کا نام کیوں لیا ہے اور کیوں ہمیشہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اصول اور منہج محدثین سے نا صرف جاہل ہے بلکہ غضب کا نفس پرست انسان ہے

ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں امام بیھقیؒ نے باسند حسن یہی روایت پیش کی تھی جسکی سند و متن یوں ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ , ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , ثنا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ جَيْشًا , وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَا سَارِيَةُ: الْجَبَلَ، يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ بلخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد على مذهب السلف وأصحاب الحديث، امام بیھقیؒ)

اب اس سند میں وہابی میاں کو کوئی نئی علت تو معلوم نہ ہو سکی تو اپنی طرف سے ایک اعتراض گڑھ کر پھکی بنا دی جس پر وہابی عوام بڑے جوش و خروش سے چھلانگے لگا رہی تھی

سب سے پہلے اسکا اعتراض پیش کرتے ہیں

اسد المداری کو جواب:

1. مدار جی نے ایک ضعیف سند سے عبداللہ بن وھب کی سماع ک تصریح ثابت کی ہے۔

عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ

عبدالکریم الدیرعاقولی کے شیوخ میں احمد بن صالح المصری موجود ہی نہیں ہے۔پہلے عبدالکریم کے شیوخ میں احمد بن صالح کا نام تو نکا ل کردے۔اور یہ دو مختلف شہروں کے رہنے والے تھے تو دونوں کا سماع اور لقاء بھی ثابت کرے۔

الجواب:

جناب کے اعتراض سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس سند میں کوئی ضعیف راوی نہیں ہے جس میں سماع کی تصریح ہے بلکہ جناب نے یہ جہالت بکھیری ہے کہ احمد بن صالح کون ہے ؟

اور عبدالکریم کے شیوخ میں اسکا نام نہیں ہے اور انکا لقاء بھی ثابت کرو کیونکہ یہ دونوں مختلف شہروں کے تھے

لیکن وہابی میاں نےغور سے سند میں یہ نہیں دیکھا کہ عبدالکریم نے تو حدثنا کے ساتھ احمد بن صالح کہا ہے تو سماع کی تصریح تو سند میں موجود ہے تو لقاء اور کس سبزی کا نام ہے جس کا یہ ثبوت مانگ رہا ہے ؟؟

اگر یہ راوی عبدالکریم بن ہیثیم ثقہ ہےاور اس نے حدثنا سے تصریح کر دی ہے تو پھر کوئی علت ہی نہیں رہتی کیونکہ جب ثقہ ہے تو سماع ثابت ہو گیا اور اگر حدثنا بولا اور سماع ثابت نہ ہو تو یہ پھر کذاب بن جائےگا

جبکہ یہ راوی امام بخاری ابی داود اور صحاح ستہ کے اماموں کا شیخ اور ثقہ ثبت ہے

باقی رہا اسکا یہ اعتراض کہ یہ دونوں مختلف شہروں کے رہنے والے تھے تو اسکا جواب ویسے تو ہم خود بھی دے سکتے ہیں لیکن امام خطیب بغدادی سے اسکی جہالت کا رد کرتے ہیں امام خطیب بغدادی عبدالکریم بن ہیثیم کے ترجمہ میں لکھتے ہیں

5706- عبد الكريم بن الهيثم بن زياد بن عمران أبو يحيى القطان من أهل دير العاقول.

سافر إلى بغداد، وواسط، والبصرة، والكوفة، والشام، ومصر، وسمع مسلم بن إبراهيم الأزدي، وسليمان بن حرب، وإبراهيم بن بشار، وأبا نعيم الفضل بن دكين، وأبا الوليد الطيالسي، ومسددا وأبا عمر الحوضي، وأحمد بن عبد الله بن يونس، وعمرو بن عون، ومحمد بن عيسى ابن الطباع، وأبا بكر الحميدي، وأبا اليمان الحمصي، وأبا توبة الربيع بن نافع، وإبراهيم بن مهدي المصيصي، ومحمد بن أبي نعيم الواسطي، وإبراهيم بن منذر الحزامي، وحجاج بن إبراهيم المصري، وأحمد بن صالح، ويحيى بن الحماني، وأبا سلمة التبوذكي، وحيوة بن شريح المصري، وإبراهيم بن محمد الشافعي.

وأقام عبد الكريم ببغداد دهرا طويلا، وحدث بها حديثا كثيرا، روى عنه: أبو إسماعيل الترمذي، وموسى بن هارون الحافظ، وقاسم بن زكريا المطرز، وعبد الله بن محمد البغوي، ويحيى بن صاعد، والقاضي المحاملي، وإسماعيل ابن محمد الصفار، ومحمد بن عمرو الرزاز، وأبو عمرو ابن السماك، وحمزة بن محمد الدهقان، وأبو سهل بن زياد القطان في آخرين.

وكان ثقة ثبتا.

امام خطیب بغدادی کہتے ہیں کہ اس نے سفر کیا بغداد کی طرف ، وواسط، والبصرة، والكوفة، والشام، ومصر، وغیرہ میں سفر کیا پھر انکے مختلف شیوخ اور شاگردوں کا نام لکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ ثقہ و ثبت تھا

تو جناب کی جہالت کہ یہ دو مختلف شہر کے ہیں تو لقا ثابت کرو یہ کوئی علت ہی نہیں جب سند میں ثقہ راوی حدثنا سے سماع کی تصریح پیش کر دے اور سند بھی بالکل صحیح ہو

باقی رہا مسلہ یہ ہے کہ احمد بن صالح کون ہے اسکا تعین کیا جائے تو یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے کہ احمد بن صالح جو کہ ابو جعفر العروف ابن الطبری المصری ہیں جو کہ ثقہ ثبت ہیں اور یہ ابن وہب کے شاگرد ہیں

تو اعتراض تو کسی قسم کا بنتا ہی نہیں ہے جیسا کہ اسکے ترجمہ میں امام ذھبیؒ فرماتے ہیں :

40- أحمد بن صالح أبو جعفر بن الطبري المصري الحافظ سمع بن عيينة وابن وهب وعنه

البخاري وأبو داود وابن أبي داود وآخرون كتب عن بن وهبخمسين ألف حديث قال صالح جزرة كان رجلا جامعا يحفظ ويعرف الفقه والحديث والنحو مات 248 قلت هو ثبت في الحديث خ د (الکاشف، امام ذھبی)

امام ذھبی ؒ فرماتے ہیں : احمد بن صالح یہ ابو جعفر ابن الطبری المصری ہیں انہوں نے سماع کیا ہے ابن عیینہ ، ابن وہب وغیر ہ سے اور ان سے امام بخاری ، امام ابی داود وغیرہ سے سماع کیا ہے امام ذھبی کہتے ہیں یہ حدیث اور فقہ اور نحو کا امام تھا اور حدیث میں ثبت یعنی حجت تھا

وہابی میاں کے اعتراض اور ہمارے جواب سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس سند میں ابن وہب نےجو سماع کی تصریح پیش کی ہے وہ سند بالکل صحیح ہے نیز اور سند امام السلمی نے بھی بیان کی ہے جو جمہور بشمور سلفی محقق سنابلی اور الاثری کے یہ ثقہ ہے اور اس پر جرح باطل ہے

باقی اس پر اسکی جہالت پر مدلل رد پہلے موجود ہے نیز اوپر بھی سند صحیح سے ابن وہب سے سماع کی تصریح پیش کر دی ہے

اور یہ تھا بھی طبقہ اول کا مدلس جسکی روایت عن کے ساتھ بھی حجت ہوتی ہے جس پر پچھلی پوسٹ میں مدلل جواب دے چکے ہیں جسکے بعد وہابی میاں ہمارے علما ء کی کتب سے الزامی حولاجات کو نقل کر کے جان چھڑانے کی کوشش کی جس پر انکی تسلی آگے آئے گی

تو اب ہم سند دوبارہ پیش کرکے اپنا موقف پیش کرتے ہیں کہ سند امام بیھقی نے جو نقل کی تھی

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ(ثقہ ثبت الامام) , أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيّ(ثقہ)، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ ,(ثقہ ثبت ) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ,(ثقہ ) ثنا ابْنُ وَهْبٍ , (ثقہ الام )أَخْبرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ,(صدوق ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ (صدوق), عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ،

سند میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابن وہب نے سماع کی تصریح بھی پیش کر دی ہے یحییٰ بن ایوب سے

اور وہ ابن عجلا نسے اور وہ نافع سے

وہابی جاہل ابو حمزہ میاں نے ابن وہب کے شاگردوں میں لمبی لسٹ پیش کر دی جن میں متروک اور کذاب راوی تھے

تو جناب کو عرض تھی کہ روایت لینا مسلہ اور ہے اور ضعیف اور کذاب سے تدلیس کرنا مسلہ اور ہے

لیکن ان جاہل میاں نے ضعیف اور کذاب سے روایت لینے کو ان سے تدلیس کرنے کو ایک چیز بنا دیا

جبکہ یہ جہالت پیش کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی جب سماع کی تصریح ابن وہب نے بیان بھی کر دی اور ہم نے سند صحیح سے پیش بھی کر دی

اب چلتے ہیں ابو حمزہ کے یحییٰ بن ایوب پر کیے گئے اعتراضات کی طرف :

ہم نے جب اسکو امام ابن حجر عسقلانی سے صدوق کی توثیق پیش کی تو جناب نے امام ابن حجر کی کتب سے کچھ حوالاجات پیش کیے لیکن وہ بھی اسکے اپنے خلاف تھے لیکن جب عقل میں جہالت بھری ہوتو کچھ سمجھ نہیں آتا ہے اسکے پیش کیےگئے دلائل یہ تھے اور ہم اسکا ترجمہ بھی پیش کرتے جاتے ہیں تاکہ اسکی جامد مقلد عوام کو معلوم بھی ہو جس اسکی تحریر کو یہ میر ی چھترول قرار دے رہے ہیں اس میں انہی کے پلاسٹکی محقق کے خلاف باتیں ہیں

قال ابن حجر في «التلخيص الحبير» (2/47): “يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: فِيهِ مَقَالٌ، ولكنه صدوق”.

امام ابن حجر نے یحییٰ بن ایوب کے بارے کہا اس میں (معمولی) کمزوری ہے لیکن یہ صدوق (درجے) کا ہے

فی مقال چھٹے درجے کی معمولی جرح ہوتی ہے جس سے راوی ترک نہیں ہوتا منفرد روایت میں

اسکا اگلا حوالہ:

وقال في «موافقة الخبر الخبر في تخريج أحاديث المختصر» (1/155): “يحيى بن أيوب: صدوق له أوهام”.

یحییٰ بن ایوب یہ صدوق درجے کا ہے اور وہم کا شکار بھی ہو جاتا تھا

ونقل كلام الحاكم (2/208) في رواية أخرجها: “قال الحاكم: هذا حديث صحيح، وقد احتج البخاري بيحيى بن أيوب فهو على شرطه”.

امام حاکم نے کہا کہ امام بخاری نے ان سے احتجاج کیا ہے اور یہ حدیث انہی کی شرط پر ہے

اسکے بعد وہابی جی تعقب پیش کرتے ہیں :

فتعقبه بقوله: “قلت: لم يحتج البخاري بيحيى بن أيوب وهو الغافقي المصري وثقه جماعة، وقال النسائي: ليس بالقوي، وإنما يخرج له البخاري في المتابعات، ولم ينفرد به كما يوهمه كلام الحاكم، بل أخرج له مسلم أيضًا”.

وحسّن له في هذا الكتاب بعض الأحاديث: (2/80)، و(2/201).

میں کہتا ہون کہ امام بخاری نے یحییٰ بن ایوب سے احتجاج نہیں کیا ہے جو کہ الغافقی ہے اور اسکو جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام نسائی (متشدد ) نے لیس بالقوی قرار دیا ہے

(یاد رہے یہ بات وہابی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امام نسائی جسکو لیس بالقوی کہیں وہ انکے نزدیک صدوق درجے کا راوی ہوتا ہے کیونکہ اس سے اعلی ٰ درجے کی توثیق کی نفی ہوتی ہےفقط)

اور امام بخاری نے اس سے متابعت میں روایت لی ہے اسی طرح امام مسلم نے بھی

پھر فتح الباری سے وہابی میاں نے آدھی ادھوری باتیں لکھی ہیں

ونقل أقوال أهل العلم فيه في «مقدمة الفتح» (1/451) ثم قال: “اسْتشْهد بِهِ البُخَارِيّ فِي عدَّة أَحَادِيث من رِوَايَته عَن حميد الطَّوِيل، مَاله عِنْده غَيرهَا سوى حَدِيثه عَن يزِيد بن أبي حبيب فِي صفة الصَّلَاة بمتابعة اللَّيْث وَغَيره، وَاحْتج بِهِ البَاقُونَ”.

کہ امام بخاری نے ان سے متابعت میں روایت لی ہیں اور ان سے باقیوں نے احتجاج کیا ہے

اب ہم فتح الباری کے مقدمے سے اس راوی کے بارے امام ابن حجر سے اور اقوال بھی پیش کرتے ہیں جنکو چھپانے میں ہی وہابی میاں نے عافیت سمجھی

يحيى بن أَيُّوب الْمصْرِيّ الغافقي قَالَ بن معِين صَالح وَقَالَ مرّة ثِقَة وَكَذَا قَالَ التِّرْمِذِيّ عَن البُخَارِيّ وَقَالَ يَعْقُوب بن سُفْيَان كَانَ ثِقَة حَافِظًا وَقَالَ أَحْمد بن صَالح الْمصْرِيّ لَهُ أَشْيَاء يُخَالف فِيهَا وَقَالَ النَّسَائِيّ لَيْسَ بِالْقَوِيّ وَقَالَ مرّة لَيْسَ بِهِ بَأْس وَقَالَ أَبُو حَاتِم هُوَ أحب إِلَيّ من بن أبي الموَالِي وَمحله الصدْق يكْتب حَدِيثه وَلَا يحْتَج بِهِ وَقَالَ أَحْمد كَانَ سيىء الْحِفْظ وَقَالَ السَّاجِي صَدُوق يهم وَقَالَ الْحَاكِم أَبُو أَحْمد كَانَ إِذا حدث من حفظه يُخطئ وَمَا حدث من كِتَابه فَلَا بَأْس بِهِ قلت اسْتشْهد بِهِ البُخَارِيّ فِي عدَّة أَحَادِيث من رِوَايَته عَن حميد الطَّوِيل مَاله عِنْده غَيرهَا سوى حَدِيثه عَن يزِيد بن أبي حبيب فِي صفة الصَّلَاة بمتابعة اللَّيْث وَغَيره وَاحْتج بِهِ الْبَاقُونَ

(ہدی الساری مقدمہ فتح الباری)

یحییٰ بن ایوب المصری امام ابن معین نے کہا صالح ہے

پھر بعد میں کہا ثقہ ہے

اما م ترمذی نے بخاری سے بیان کیا ہے

اور یعقوب بن سفیان نے بھی بیان کیا ہے کہ ثقہ حافظ ہے

اور احمد بن صالح نے کہا کہ اس نے کچھ چیزوں میں مخالفت کی ہے

امام نسائی نے کہا یہ قوی نہیں ہے

اور بعد میں کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے

ابو حاتم نے کہا کہ یہ مجھے ابی الموالی سے زیادہ پسند ہے اور یہ سچ بولنے والا تھا اسکی احادیث لکھی جائے لیکن احتجاج نہ کیا جائے

(امام ابو حاتم متشدد ہیں متفقہ )

امام احمد نے کہا اس کے حافضے میں خرابی تھی

امام حاکم نے کہا جب یہ حافظے سے حدیث بیان کرے تو غلطیاں کرتا ہے لیکن جب کتاب سے بیان کرتے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے

یہ سب نقل کرنے کے بعد امام ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ :

میں کہتا ہوں یحییٰ سے امام بخاری نے استشہاد کیا ہے حدیث میں جو وہ حمید الویل سے بیان کرتے ہیں متابعت میں اور ان سے باقیوں نے احتجاج کیا ہے

اب کوئی اپنے ایمان سے بتائے اس پر کونسی ایسی جرح مفسر ہے تعدیل میں کہ یہ راوی احتجاج کرنے کے لائق نہیں ؟ جبکہ امام ابن حجر نے تصریح دی ہے کہ اس سے باقیوں نے احتجاج کیا ہے

تو ان سب میں امام ابن حجر نے وہی بات کی ہے جو کہ اس راوی کے صدوق درجے کے حساب سے ثابت ہو رہی ہے باقی رہا اس میں غلطی کرنے کا عنصر تھا تو اس کاجواب بھی امام ابن حجر ہی نے دیا ہے کہ یہ کس درجے کی غلطیاں کرتا تھا

جیسا کہ اس نے خود تقریب کا حوالہ دیا ہے

وقال في «التقريب» (ص588): “صدوقٌ ربما أخطأ”

امام ابن حجر لکھتے ہیں صدوق ربما خطا ء یعنی یہ صدوق درجے کا ہے اور کبھی کبھار خطاء کرتا تھا

اب کوئی بھی علم حدیث کا بنیادی علم رکھنے والا انسان ان الفاظ سے یہ جان سکتا ہے کہ یہ ربما خطاء کرنے والا صدوق درجے کا راوی ہے جسکی روایت حسن ہوگی جب یہ منفرد ہوگا

الا یہ کہ اسکی روایت میں کوئی علل یا ناقد خطاء ثابت نہ کر دے

جبکہ اس سے مروی ساریہ والی روایت کی توثیق تو امام ابن حجر عسقلانی نے کر رکھی ہے

اس جاہل اعظم کو چاہیے تھا کہ یہ ابن حجر عسقلانی سے مکمل اختلاف کر جاتا اور ڈھیٹ بن جاتا لیکن اس نے پھر بھی امام ابن حجر سے بیشک اسکے اپنے مخالف ہی اقوالات پیش کیے

جب یہ امام ابن حجر سے اس روایت کی توثیق کو قبول نہیں کر رہا ہے تو یہ کس منہ سے امام ابن حجر سے یحییٰ بن ایوب پر اقوال پیش کر رہا ہے اس منافقت کو ہم نہین سمجھ سکتے

ہم امام ذھبی ، امام ابن عدی ، امام ابن حجر سے

یحییٰ بن ایوب کو حسن الحدیث ، صدوق ثابت کر چکے ہیں

باقی امام عجلی کو متساہل کوفین کی توثیق میں ہم بھی مانتے ہیں لیکن ہم نے تو بقول انکے محقق زبیر زئی کے کہا تھا کہ معتدل امام عجلی نے بھی انکی توثیق کی ہے

جس پر جناب نے مفت میں اسٹیکر بازی شروع کر دی اور ویسے بھی کونسا اس راوی کی توثیق امام عجلی پر پھنسی ہوئی تھی

باقی رہا مسلہ اس سند میں یہ کہ :

ابن عجلان جو کا مسلہ تو اس پر ابن حبان کی طرف سے تدلیس کی جرح سے اسکو مدلس ثابت نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ امام ذھبی نے اسکے ارسال پر تدلیس کا لفظ استعمال کیا ہے

لیکن اما م طحاوی اور امام ابی حاتم سے تدلیس کی ثابت ہونے پر

یہ مدلس ثابت ہوتا ہے اور اسکی متابعت اور شواہد کئی اسناد سے ثابت ہیں

جسکی وجہ سے اسکی تدلیس مضر نہیں رہتی ہے

جیسا کہ یہ اصول انکو بھی معلوم ہے

اس واقعے کی متعدد اسناد یہ ہیں

525 – حدثنا أبو بكر بن خلاد قال: ثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا أحمد بن يونس قال: ثنا أيوب بن خوط، عن عبد الرحمن السراج، عن نافع أن عمر بعث سرية فاستعمل عليها رجلا يقال له: سارية. فبينا عمر رضي الله عنه يخطب يوم الجمعة فقال: يا سارية الجبل يا سارية الجبل فوجدوا سارية قد انحاز إلى الجبل في تلك الساعة يوم الجمعة وبينهما مسيرة شهر

527 – حدثنا سليمان بن أحمد قال: ثنا أبو يزيد القراطيسي قال: أنا أسد بن [ص:580] موسى قال: ثنا أبو معشر قال: ثنا نصر بن طريف قال: بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه بعثا وأمر عليهم سارية بن زنيم. قال: ” فبينا عمر يخطب يوم الجمعة إذ صرخ ثلاث صرخات يقول: يا سارية بن زنيم الجبل الجبل قد ظلم من استرعى الذئب الغنم. قال: فسمع ذلك فلما سمع عبد الرحمن بن عوف دخل على عمر فقال: كأنك أعرابي بينا أنت تخطب إذ صرخت ثلاث صرخات: يا سارية بن زنيم الجبل الجبل قد ظلم من استرعى الذئب الغنم فقال عمر: إنه وقع في روعي ألجأه العدو إلى الجبل قال: فلعل عبدا من عباد الله يبلغه صوتي قال: فجاء سارية بن زنيم من الجبل فقال: سمعت صوتا يوم الجمعة نصف النهار: يا سارية بن زنيم، الجبل الجبل، ظلم من استرعى الذئب الغنم

528 – حدثنا إبراهيم بن عبد الله ثنا محمد بن إسحاق قال: ثنا قتيبة بن سعيد قال الليث بن سعد، عن عمرو بن الحارث قال: ” بينا عمر بن الخطاب على المنبر يخطب يوم الجمعة إذ ترك الخطبة فقال: يا سارية الجبل مرتين أو ثلاثا ثم أقبل على خطبته فقال أولئك النظراء من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد جن إنه لمجنون هو في خطبته إذ قال: يا سارية الجبل فدخل عليه عبد الرحمن بن عوف وكان يطمئن إليه فقال: أشد ما ألومهم عليك أنك تجعل على نفسك لهم مقالا بينا أنت تخطب إذ أنت تصيح: يا سارية الجبل أي شيء هذا؟ قال: إني [ص:581] والله ما ملكت ذلك رأيتهم يقاتلون عند جبل يؤتون من بين أيديهم ومن خلفهم فلم أملك أن قلت: يا سارية الجبل ليلحقوا بالجبل. فلبثوا إلى أن جاء الرسول بكتابه أن القوم لحقونا يوم الجمعة فقتلناهم من حين صلينا الصبح إلى حين حضرت الجمعة ودار حاجب الشمس فسمعنا مناديا ينادي: يا سارية الجبل مرتين فلحقنا بالجبل فلم نزل قاهرين لعدونا حتى هزمهم الله وقتلهم فقال أولئك الذين طعنوا عليه: دعوا هذا الرجل؛ فإنه مصنوع له

(دلائل النبوہ ، ابو نعیم)

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر نے اسکی متعدد طریق بیان کیے ہیں ابن عجلان کے بغیر اور تبھی ابن عجلان سے مروی عن والی روایت کو انہوں نے حسن قرار دیا تھا

جیسا کہ وہابی میاں نے ہماری ایک مثال کو غلط ثابت کرنے کے لیے امام ابن حجر کا نافع سے ابن عجلان کی عن والی ایک روایت کو حسن قرار دینے پر اسکے مزید طریق بیان کیے تھے جسکا ہم کو معلوم تھا کہ یہ ایسا کرے گا اور پھر ہم اسکو جواب دینگے الاصابہ سے امام ابن حجر کی مکمل عبارت پیش کر کے امام ابن حجر لکھتے ہیں :

وأخرجها البيهقيّ في الدّلائل واللالكائي في شرح السنّة والزين «2» عاقولي في فوائده، وابن الأعرابي في «كرامات الأولياء» من طريق ابن وهب، عن يحيى بن أيوب، عن ابن عجلان، عن نافع، عن ابن عمر، قال:

وجّه عمر جيشا ورأس عليهم رجلا يدعى سارية، فبينما عمر يخطب جعل ينادي: يا سارية، الجبل- ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش، فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين، هزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية، الجبل- ثلاثا، فأسندنا ظهرنا إلى الجبل، فهزمهم اللَّه تعالى. قال: قيل لعمر إنك كنت تصيح بذلك.

وهكذا ذكره حرملة في جمعه لحديث ابن وهب، وهو إسناد حسن. وقد تقدّم أنهم كانوا لا يؤمّرون إلا الصّحابة.

وروى ابن مردويه، من طريق ميمون بن مهران، عن ابن عمر، عن أبيه- أنه كان يخطب يوم الجمعة، فعرض في خطبته أن قال: يا سارية، الجبل، بلخ۔۔۔

امام ابن حجر نے عجلان کی نافع سے روایت جو کہ عن والی ہے اسکو حسن قرار دیا ہے پھر امام ابن مردویہ کے طریق سے میمون بن مہران عن ابن عمر سے بھی طریق نقل کیا ہے

اس سے پہلے امام بیھقی اورامام اللالكائي، امام ابن عربی وغیرہ سے تخریج نقل کر کے اگلی سند بیان کی ہے

تو انکو نہیں پتہ تھا کہ ابن عجلان مدلس ہے اور نافع سے عن سے بیان کر رہا ہے

لیکن وہابی میاں امام ابن حجر اور امام ذھبی کی کتب سے جروحات نقل کرنا پیش کرتا ہے لیکن ان اماموں کا حکم قبول نہیں کرتا ہے

جو کہ ثابت کرتاہے کہ یہ منافقت سے بھرا ہوا ایک جاہل ا نسان ہے جسکو اپنی نفس پرستی پسند ہے

اسکے بعد اس نے امام ابن خلدون پر بھی جرح امام سخاوی سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے (جسکو یہ خود بدعتی صوفی کہتا ہے )

امام سیوطی سے ابن عجلان کو مدلس ثابت کرتا ہے اور امام سیوطی سے اس واقعے کی تعدیل کو نہیں مانتا ہے

اور مناظرے ہی مناظرے سے انکی طرف سے کیے گئے الزامی جوابات کی اسٹیکربازی کر کے پھر جہالت دیکھائی ہے جسکا جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم پوسٹ کو مختصر اور ایک ہی ٹاپک پر رکھنا چاہتے ہیں

دوسرا اس جاہل میاں نے پھر امام سفیان الثوری پر اسٹیکر بازی شروع کر دی جو کہ ٹاپک سے مماثلت نہیں رکھتی اور سفیان الثوری پر سوائے زبری زئی کے سارے اسکے شیوخ نے زبیر زئی کا بہترین رد لکھا ہے

جسکو یہ چھترول کہتے ہیں

باقی صدوق درجے کے راوی کی منفرد روایت کو قبول نہ کرنے پر اس جاہل نے پھر رنگ بازی کی جسکا جواب ہم نے زبیر زئی کی کتاب ہی سے پیش کر دیا ہے

باقی اسکی عقل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے امام ذھبی ، امام ابن حجر ، امام ابن خلدون کے مقابلے یہ مقالات سعید ، مناظرے ہی مناظرے اور آج کے علامہ حضرات کی کتب سے اسٹیکر بازی شروع کر دی کیونکہ جب دلائل سے اسکو چپ کرایا جائے تو یہ پھر الزامی اسٹیکربازی شروع کر دیتا ہے اور کوئی تحقیقی بات نہیں کر سکتا جیسا کہ اس نے پچھلی پوسٹ پر کیا ہے اور اسکے غیر ضروری اور جہالت پر مبنی اسٹیکر بازی کا جواب چاہتے ہوئے بھی نہیں دیا کہ لوگ اس روایت پر علمی گفتگو کو آسانی سے سمجھ سکیں

خلاصہ تحقیق:

یحییٰ بن ایوب حسن الحدیث اور صدوق درجے کا راوی ہے

ابن وہب نے سماع کی تصریح پیش کی ہوئی ہے

اور ابن عجلان کی نافع سے متابعت کئی اسناد سے ثابت ہیں

اور اس روایت کی تحسین پر محدثین کا اجماع ہے

دعاگو:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی