اس شان سے وہ بزم میں شب جلوہ گر ہوا

کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

❤️❤️❤️

اس شان سے وہ بزم میں شب جلوہ گر ہوا

پروانۂ جمال چراغِ قمر ہوا

❤️❤️❤️

تم چھپ گئے تو رازِ محبت نہ چھپ سکا

پردہ تمہارا عاشقوں کا پردہ دَر ہوا

❤️❤️❤️

دل اپنی راہ ہوش و خرد اپنی راہ تھے

وہ جلوۂ جمال جو پیش نظر ہوا

❤️❤️❤️

وہ نالہ سن کے ہنسنے لگے بزمِ غیر میں

مجھ کو یہ انتظار کہ کتنا اَثر ہوا

❤️❤️❤️

کیا خاک اُن کی بزم میں جانے کا لطف ہو

جب وہ کہیں کہ آپ کا آنا کدھر ہوا

❤️❤️❤️

توڑے گا شوقِ دید پر اے دل قیامتیں

وہ آفتابِ حشر اگر جلوہ گر ہوا

❤️❤️❤️

مرغانِ قدس صدقے ہوئے صورتِ تَدرُو

ہنگامہ گرم کن جو وہ رشکِ قمر ہوا

❤️❤️❤️

ایسا گما کہ پھر نہ پتا آج تک چلا

عاشق کا دل بھی ہائے کسی کی کمر ہوا

❤️❤️❤️

تیرِ نگاہ تھا سببِ اِزدیادِ عشق

تیری طرف سے اور مرے دل میں گھر ہوا

❤️❤️❤️

افسوس صدمے سہ کے دلِ سخت جاں میرا

پتھر ہوا مگر نہ ترا سنگِ دَر ہوا

❤️❤️❤️

وہ محو نغمہ صبح شب وصل اور یہاں

فریاد صورِ نالۂ مرغِ سحر ہوا

❤️❤️❤️

وہ ڈر کر اور غیر سے مل بیٹھے بزم میں

اچھا ہمارے نالۂ دل کا اَثر ہوا

❤️❤️❤️

آزارِ عاشقی متعدی ہے اے حسنؔ

روتا ہوں اُس کو میں جو مرا چارہ گر ہوا

❤️❤️❤️