خلاف ترتیب افعالِ نماز ادا کرنے سے سجدہ سہو واجب ہے

مسئلہ: جو افعال نماز میں بالترتیب طے شدہ ہیں ان میں ترتیب (Sequence) واجب ہے ۔ اگر کسی سے خلاف ترتیب فعل واقع ہوا تواس پر سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ مثلاً قرأت سے پہلے رکوع کردیا تو ضروری ہے کہ رکوع کے بعد قرأت کرلے اور دوسری مرتبہ رکوع کرے اور اگر رکوع کے بعد بھی قرأت نہ کی اور سجدہ میںچلاگیا تونماز فاسد ہوگئی کیونکہ قرأت کرنے کا فرض ہی ترک ہوگیا اور اگر رکوع کے بعد قرأت تو کی مگر دوسری مرتبہ رکوع نہ کیا تو بھی نماز فاسد ہوگئی کیونکہ پہلے رکوع کے بعد قرأت کرنے کی وجہ سے پہلا رکوع ساقط ہوگیا لہٰذا قرأت کے بعد ازسر نو رکوع کرنالازمی تھا۔ لہٰذا اس صورت میں رکوع سے واپس پلٹ کر قرأت کرے اور قرأت کے بعد پھر ازسرنو رکوع کرے اور نماز کے آخر میں سجدہ ٔ سہو کرے ۔( ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۱)

مسئلہ: وتر نماز میں دعائے قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قرأت کے بعد قنوت کے لئے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا تو سجدہ ٔ سہو کرے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۳)

مسئلہ: جو شخص قنوت پڑھنا بھول کر رکوع میں چلا گیا اسے جائز نہیں کہ پھر رکوع سے قنوت کی طرف پلٹے بلکہ حکم یہ ہے کہ نماز ختم کرکے اخیر میں سجدہ ٔ سہو کرے ۔ اگر وتر کی جماعت میں امام قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میںچلاگیا تو مقتدی بھی امام کے ساتھ رکوع میں چلاجائے ۔ اگر مقتدی نے امام کو یاددلانے کے لئے تکبیر کہی یعنی لقمہ دیا تاکہ امام رکوع سے قنوت کی طرف پلٹ آئے ، تو مقتدی کالقمہ دینا ناجائز عود (پلٹنے) کے لئے تھالہٰذا لقمہ دینے والے مقتدی کی نمازفاسد ہوگئی ۔ قنوت پڑھنے کے لئے رکوع چھوڑنے کی ہرگز اجازت نہیں ۔ رکوع سے قنوت کی طرف پلٹنا گناہ ہے ۔ (درمختار ، ردالمحتار، فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ، ص ۶۴۵ و ۶۴۸)

مسئلہ: دونوں عید کی نماز میں امام سب یا بعض تکبیریں بھول گیا یا زیادہ تکبیریں کہیں یا غیر محل میں کہیں یعنی تکبیر کو اس کے مقام سے ہٹ کر کہیں تو ان تمام صورتوں میں سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔( عالمگیری)

مسئلہ: عیدین میں امام اگر پہلی رکعت میں تکبیر رکوع یعنی رکوع میں جانے کی تکبیر کہنا بھول گیا تو سجدہ سہو واجب نہیں اور اگر دوسری رکعت میں تکبیر رکوع کہنا بھول گیا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۳)