قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴۵)

تم فرماؤ (ف۲۹۶) میں نہیں پاتا اس میں جو میری طرف وحی ہوئی کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام (ف۲۹۷) مگر یہ کہ مرُدار ہو یا رگوں کا بہتا خون (ف۲۹۸) یا بد جانور کا گوشت کہ وہ نجاست ہے یا وہ بے حکمی کا جانور جس کے ذبح میں غیرخدا کا نام پکارا گیا تو جو ناچار ہوا (ف۲۹۹) نہ یوں کہ آپ خواہش کرے اور نہ یوں کہ ضرورت سے بڑھے تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۰۰)

(ف296)

ان جاہل مشرکوں سے جو حلال چیزوں کو اپنی خواہشِ نفس سے حرام کر لیتے ہیں ۔

(ف297)

اس میں تنبیہ ہے کہ حُرمت جہتِ شرع سے ثابت ہوتی ہے نہ ہَوائے نفس سے ۔

مسئلہ : تو جس چیز کی حُرمت شرع میں وارد نہ ہو اس کو ناجائز و حرام کہنا باطل ، ثبوتِ حُرمت خواہ وحیٔ قرآنی سے ہو یا وحیٔ حدیث سے ، یہی معتبر ہے ۔

(ف298)

تو جو خون بہتا نہ ہو مثلاً جگر و تِلی کے وہ حرام نہیں ۔

(ف299)

اور ضرورت نے اسے ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر مجبور کیا ایسی حالت میں مضطَر ہو کر اس نے کچھ کھایا ۔

(ف300)

اس پر مؤاخذہ نہ فرمائے گا ۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍۚ-وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍؕ-ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ ﳲ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ(۱۴۶)

اور یہودیوں پر ہم نے حرام کیا ہر ناخن والا جانور (ف۳۰۱) اور گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کی مگر جو اُن کی پیٹھ میں لگی ہو یا آنت میں یا ہڈی سے ملی ہو ہم نے یہ ان کی سرکشی کا بدلہ دیا (ف۳۰۲) اور بے شک ہم ضرور سچے ہیں

(ف301)

جو انگلی رکھتا ہو خواہ چوپایہ ہو یا پرند ، اس میں اُونٹ اور شُتر مرغ داخل ہیں ۔ (مدارک) بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ یہاں شُتر مرغ اور بط اور اونٹ خاص طور پر مراد ہیں ۔

(ف302)

یہود اپنی سرکشی کے باعث ان چیزوں سے محروم کئے گئے لہذا یہ چیزیں ان پر حرام ر ہیں اور ہماری شریعت میں گائے بکری کی چربی اور اُونٹ اور بط اور شتر مرغ حلال ہیں ، اسی پر صحابہ اور تابعین کا اِجماع ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍۚ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۴۷)

پھر اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو تم فرماؤ کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے (ف۳۰۳) اور اس کا عذاب مجرموں پر سے نہیں ٹالا جاتا (ف۳۰۴)

(ف303)

مُکذِّبین کو مہلت دیتا ہے اور عذاب میں جلدی نہیں فرماتا تاکہ انہیں ایمان لانے کا موقع ملے ۔

(ف304)

اپنے وقت پر آ ہی جاتا ہے ۔

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍؕ-كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَاؕ-قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَاؕ-اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ(۱۴۸)

اب کہیں گے مشرک کہ (ف۳۰۵) اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا نہ ہم کچھ حرام ٹھہراتے (ف۳۰۶) ایسا ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا یہاں تک کہ ہمارا عذاب چکھا (ف۳۰۷) تم فرماؤ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ اسے ہمارے لیے نکالو تم تو نِرے گمان کے پیچھے ہو اور تم یونہی تخمینے کرتے ہو(ف۳۰۸)

(ف305)

یہ خبر غیب ہے کہ جو بات وہ کہنے والے تھے وہ بات پہلے سے بیان فرما دی ۔

(ف306)

ہم نے جو کچھ کیا یہ سب اللہ کی مشیّت سے ہوا ، یہ دلیل ہے اس کی کہ وہ اس سے راضی ہے ۔

(ف307)

اور یہ عذرِ باطل ان کے کچھ کام نہ آیا کیونکہ کسی امر کا مشیّت میں ہونا اس کی مرضی و مامور ہونے کو مستلزم نہیں ، مرضی وہی ہے جو انبیاء کے واسطے سے بتائی گئی اور اس کا امر فرمایا گیا ۔

(ف308)

اور غلط اٹکلیں چلاتے ہو ۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُۚ-فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ(۱۴۹)

تم فرماؤ تو اللہ ہی کی حجت پوری ہے (ف۳۰۹) تو وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت فرماتا

(ف309)

کہ اس نے رسول بھیجے ، کتابیں نازل فرمائیں ، راہِ حق واضح کر دی ۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَاۚ-فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْۚ-وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠(۱۵۰)

تم فرماؤ لاؤ اپنے وہ گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ نے اسے حرام کیا (ف۳۱۰) پھر اگر وہ گواہی دے بیٹھیں (ف۳۱۱) تو تُو اے سننے والے ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشوںکے پیچھے نہ چلنا جو ہماری آیتیں جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اپنے رب کا برابر والا ٹھہراتے ہیں (ف۳۱۲)

(ف310)

جسے تم اپنے لئے حرام قرار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ، یہ گواہی اس لئے طلب کی گئی کہ ظاہر ہو جائے کہ کُفّار کے پاس کوئی شاہد نہیں ہے اور جو وہ کہتے ہیں وہ ان کی تراشیدہ بات ہے ۔

(ف311)

اس میں تنبیہ ہے کہ اگر یہ شہادت واقع ہو بھی تو وہ مَحض اِتّباعِ ہَوا اور کِذب و باطل ہو گی ۔

(ف312)

بُتوں کو معبود مانتے ہیں اور شرک میں گرفتار ہیں ۔