رکوع اور سجود کی غلطیاں اور سجدہ ٔ سہو

مسئلہ: کسی نے رکوع کی جگہ سجدہ یا سجدہ کی جگہ رکوع کیا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے۔(عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ،ص ۵۳)

مسئلہ: اگر کسی نے ایک رکعت میں دو(۲) مرتبہ رکوع کیا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے کیونکہ ایک رکعت میں صرف ایک ہی رکوع کرنا واجب ہے ۔ ایک کے بجائے دو رکوع کرنے کی وجہ سے واجب ترک ہوا لہٰذا سجدہ ٔ سہو واجب ہوا ۔( بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ص ۷۵)

مسئلہ: اسی طرح کسی نے ایک رکعت میں دو(۲) کے بجائے تین سجدے کئے تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۴۶)

مومن: اگر رکوع میں ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘ کی جگہ پر ’’ سبحان ربی الاعلیٰ ‘‘ کہہ دیا یاسجدہ میں ’’ سبحان ربی الاعلی ‘‘ کی جگہ پر ’’ سبحان ربی العظیم ‘‘ کہہ دیا یا رکوع سے اٹھتے وقت ’’ سمع اللہ لمن حمدہ ‘‘ کی جگہ ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہہ دیا تو سجدہ ٔ سہو کی اصلاً حاجت نہیں ۔ نماز ہوگئی۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۴۷)