قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَۚ-وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۵۱)

تم فرماؤ آؤ میں تمہیں پڑھ سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا (ف۳۱۳) یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی (ف۳۱۴) اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے (ف۳۱۵) اور بے حیائیوں کے پاس نہ جاؤ جو اِن میں کھلی ہیں اور جو چھپی (ف۳۱۶) اور جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو (ف۳۱۷) یہ تمہیں حکم فرمایا ہے کہ تمہیں عقل ہو

(ف313)

اس کا بیان یہ ہے ۔

(ف314)

کیونکہ تم پر ان کے بہت حقوق ہیں انہوں نے تمہاری پرورش کی ، تمہارے ساتھ شفقت اور مہربانی کا سلوک کیا ، تمہاری ہر خطرے سے نگہبانی کی ، ان کے حقوق کا لحاظ نہ کرنا اور ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کا ترک کرنا حرام ہے ۔

(ف315)

اس میں اولاد کو زندہ درگور کرنے اور مار ڈالنے کی حُرمت بیان فرمائی گئی جس کا اہلِ جاہلیت میں دستور تھا کہ وہ اکثر ناداری کے اندیشہ سے اولاد کو ہلاک کرتے تھے ، انہیں بتایا گیا کہ روزی دینے والا تمہارا ، ان کا سب کا اللہ ہے پھر تم کیوں قتل جیسے شدید جُرم کا اِرتکاب کرتے ہو ۔

(ف316)

کیونکہ انسان جب کُھلے اور ظاہر گناہ سے بچے اور چُھپے گناہ سے پرہیز نہ کرے تو اس کا ظاہر گناہ سے بچنا بھی لِلّٰہِیَّت سے نہیں ، لوگوں کے دکھانے اور ان کی بدگوئی سے بچنے کے لئے ہے اور اللہ کی رضا و ثواب کا مستحق وہ ہے جو اس کے خوف سے گناہ ترک کرے ۔

(ف317)

وہ امور جن سے قتل مباح ہوتا ہے یہ ہیں مُرتَد ہونا یا قِصاص یا بیاہے ہوئے کا زنا ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان جو لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہو ، اس کا خون حلال نہیں مگر ان تین سببوں میں سے کسی ایک سبب سے یا تو بیاہے ہونے کے باوجود اس سے زنا سرزد ہوا ہو یا اس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو اور اس کا قصاص اس پر آتا ہو یا وہ دین چھوڑ کر مرتَد ہو گیا ہو ۔

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗۚ-وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِۚ-لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۚ-وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۚ-وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْاؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ(۱۵۲)

اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤمگر بہت اچھے طریقہ سے (ف۳۱۸) جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے (ف۳۱۹) اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو ہم کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کے مقدور بھر اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ تمہارے رشتہ دار کا معاملہ ہو اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو یہ تمہیں تاکید فرمائی کہ کہیں تم نصیحت مانو

(ف318)

جس سے اس کا فائدہ ہو ۔

(ف319)

اس وقت اس کا مال اس کے سپرد کر دو ۔

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)

اور یہ کہ (ف۳۲۰) یہ ہے میرا سیدھا راستہ تو اس پر چلو اور اَور راہیں نہ چلو (ف۳۲۱) کہ تمہیں اس کی راہ سے جدا کردیں گی یہ تمہیں حکم فرمایا کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے

(ف320)

ان دونوں آیتوں میں جو حکم دیا ۔

(ف321)

جو اسلام کے خلاف ہوں ، یہودیت ہو یا نصرانیت یا اور کوئی ملّت ۔

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠(۱۵۴)

پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی (ف۳۲۲) پورا احسان کرنے کو اس پر جو نکوکار ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت کہ کہیں وہ (ف۳۲۳) اپنے رب سے ملنے پر ایمان لائیں (ف۳۲۴)

(ف322)

توریت ۔

(ف323)

یعنی بنی اسرائیل ۔

(ف324)

اور بَعث و حساب اور ثواب و عذاب اور دیدارِ الٰہی کی تصدیق کریں ۔