گناہوں کی معافی

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبیٔ اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔بولا یارسول اللہ ﷺ !میں نے مدینہ کے کنارے ایک عورت کو گلے لگالیااور صحبت کی حد تک نہیں پہنچا ۔میں حاضرہوں میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو بھی اپنی پردہ پوشی کرتا ۔ راوی فرما تے ہیں کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا وہ شخص کھڑا ہوکر چل دیا اس کے پیچھے حضور ﷺ نے ایک آدمی کو بھیج کر اس کو بلایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اَقِمِ الصَّلوٰۃ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلُْفاً مِنَ الَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّآتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِیْنِ ‘‘ (سورۂ ہود ، آیت ؍ ۱۱۴ )ترجمہ : نماز قائم کرو دن کے کناروں اور رات کی ساعتوں میں یقیناً نیکیاں گناہ مٹادیتی ہیں۔ یہ ماننے والوں کے لئے نصیحت ہے ـ۔قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ ﷺ کیا یہ اسی کے لئے ہے فرمایا سارے لوگوں کے لئے ہے ۔ (مسلم)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث شریف سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ نماز کے صدقے بڑے سے بڑے گناہ کو بھی اللہ معاف فرما دیتا ہے۔ لیکن آج نماز کے حوالے سے اس امت کا حال دیکھا جائے تو (العیاذ باللہ ) بے پناہ سستی۔ خدارا ! نماز کے حوالے سے سستی نہ کیا کرو ۔ بلکہ بھر پور چستی کا مظاہرہ کیا کرو ۔ اور نماز کے ذریعہ اپنے گناہوں کو مٹاتے رہو۔ اللہ دہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم