أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جو لوگ سابق ساکنین ارض کے بعد اس زمین کے وارث ہوئے کیا انہوں نے یہ ہدایت نہیں پائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی سزا دیں، اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں پھر وہ کچھ نہیں سنتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ سابق ساکنین ارض کے بعد اس زمین کے وارث ہوئے، کیا انہوں نے یہ ہدایت نہیں پائی کہ اگر ہم چاہین تو ان کو ان کے گناہوں کی سزا دیں، اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں پھر وہ کچھ نہیں سنتے “۔

کفار مکہ پر عذاب نہ بھیجنے کی وجہ :۔

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں کے کفار کا حال اجمالاً اور تفصیلا بیان فرمایا کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بھیجے اور جب انہوں نے بار بار اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور متعدد بار یہ کہا کہ اگر تم سچے ہو تو چاہی کہ تمہاری مخالفت کرنے کی وجہ سے ہم پر عذاب آئے تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا جس کے آثار اب بھی جزیرہ نمائے عرب اور اس سے ملحق علاقوں کے راستوں میں پائے جاتے ہیں اور بعض عربوں نے بھی ان کا مشاہدہ کیا تھا۔ مکہ کے کافر بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور ہم آپ کی مخالفت کر رہے ہیں تو پھر آپ کی مخالفت کی وجہ سے ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اہل مکہ جو قوم نوح، قوم ثمود اور قوم مدین کے بعد ان علاقوں میں آباد ہوئے ہیں، کیا پچھلی قوم کے عذاب کے آثار دیکھ کر ان کو یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی عذاب میں مبتلا کردیں۔ ان کو عذاب نہ دینے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کو عذاب دینا ہماری قدرت میں نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو عذاب دینا ہماری حکمت میں نہیں ہے۔ 

اور کفار مکہ کو عذاب نہ دینے کی ایک حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” وماکان اللہ لعیذبہم وانت فیہم : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ ان کو عذاب دے در آنحالیکہ آپ ان میں موجود ہیں ” (الانفال :33)

کفار مکہ کے دلوں پر مہر لگانے کی توجیہ : اس کے بعد فرمایا : اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے کفر اور عناد کی سزا کے طور پر ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اب یہ ایمان نہیں لاسکتے۔ اور مہر سے مراد یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ایسی علامات ثبت کردی ہیں جن سے فرشتے یہجان لیتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دینا ہے کہ اگر آپ کی پیہم تبلیغ کے باوجود یہ ایمان نہیں لاتے تو آپ غم نہ کریں آپ کی تبلیغ کی اثر آفرینی میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ان کو سزا دینے کے لیے ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اس کے بعد فرمایا پھر وہ کچھ نہیں سنتے۔ حالانکہ بہ ظاہر وہ سنتے تو تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک سننا وہ ہے جو سننے کے بعد اس کو قبول کرے اور چونکہ وہ قبول نہیں کرتے تھے اس یلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سننے والے نہ تھے۔

اس آیت کی ایک اور تقریر یہ ہے کہ کفار مکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منصب نبوت کے یے نااہل کہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ نبی کو فرشتہ ہونا چاہیے آپ تو ہماری طرح بشر ہیں اس لیے ہم آپ کے دین میں داخل نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبوت کے لائق نہیں بلکہ حقیقت میں تم ان کے امتی نہیں بن سکتے اور ان کے دین میں داخل نہیں ہوسکتے۔

سابقہ امتوں کے عذاب سے کفار مکہ کا سبق حاصل نہ کرنا :

اس پوری آیت کی دوسری تقریر یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے بعد جو لوگ اس خطہ زمین پر آ کر آباد ہوئے انہوں نے اس زمین پر آثار عذاب دیکھ کر یہ سبق کیوں حاصل نہیں کیا کہ پچھلی امتوں پر ان کے انکار اور تکذیب کی وجہ سے عذاب آیا تھا سو اگر انہوں نے بھی انکار کیا اور تکذیب کی روش برقرار رکھی تو ان پر بھی عذاب آسکتا ہے۔ پھر خود ہی فرمایا : انہوں نے یہ سبق اس لیے حاصل نہیں کیا کہ ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں اور یہ مہر لگانا ان پر جبر اور ظلم نہیں ہے بلکہ ان کے متواتر کفر اور عناد کا نتیجہ ہے اور جب ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے تو وہ کسی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے نہیں سنتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 100