آگ بجھاؤ

حضورِاقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ جب نماز کا وقت آتا ہے تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے کہ اے آدم کی اولاد !اٹھو اور جہنم کی اس آگ کو بجھائو جس کو تم نے (گناہوں کی بدولت)اپنے اوپر جلانا شروع کردیاہے۔ چنانچہ (دیندارلوگ) اٹھتے ہیں وضو کرتے ہیں ظہر کی نماز پڑھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے صبح سے ظہر تک کے گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے ا سی طرح پھر عصر کے وقت پھر مغرب کے وقت پھر عشاء کے وقت (غرض کہ ہر نماز کے بعد یہی صورت ہوتی ہے )عشاء کے بعد لوگ سونے میں مشغول ہوجاتے ہیں اس کے بعد بعض لوگ برائیوں (زنا کاری ،بدکاری ،چوری وغیرہ)کی طرف چل دیتے ہیں اور بعض لوگ بھلائیوں (نماز، وظیفہ، ذکر وغیرہ)کی طرف چل دیتے ہیں۔ (طبرانی)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! جہنم کے دہکتے ہوئے شعلے اتنے ہولناک ہیں کہ تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اگر جہنم کی آگ کو سوئی کی نوک کے برابر بھی دنیامیںڈال دیا جائے تو پوری دنیا جل کر راکھ ہو جائے گی ۔

بندہ جب گناہ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے لئے جہنم کی آگ جلاتا ہے ۔ رحمت عالم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں: ظہر کی نماز پڑھنے والے کے ظہر تک کے گناہ اللہ معاف فرما دیتا ہے ۔ اسی طرح ہر وقت کی نماز پچھلے گناہوں کو معاف کرانے کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ کیا ہم گناہوں کی سزا کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ نہیں اور یقیناً نہیں ! تو صدق دل سے توبہ بھی کریں اور ایک وقت کی نماز بھی قضا نہ کریں ۔ انشاء اللہ! ہماری نماز ہمارے لئے مغفرت کا سبب بن جا ئے گی۔ اللہد ہم سب کو نماز ی بنائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم