حدیث نمبر :681

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم کسی شخص کو مسجدکی خبرگیری کرتے دیکھو ۱؎ تو اس کے ایمان کی گواہی دے دو۲؎ کیونکہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ مسجدیں وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اﷲ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۳؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ اس طرح کہ ہرنماز کے لیے وہاں حاضرہو،وہاں کی صفائی کرے،مرمت کا خیال رکھے،جائززینت میں مشغول ہو،وہاں بیٹھ کردینی مسائل بیان کرے،وہاں درس دے یہ سب مسجد کی خبر گیری میں داخل ہیں۔

۲؎ کیونکہ یہ چیزیں ایمان کی علامتیں ہیں۔خیال رہے کہ یہ گواہی ایسی ہی ہے جیسے کسی کا لباس اورشکل دیکھ کر ہم اسے مؤمن سمجھتے اورکہتے ہیں۔گواہی سے مرادقطعی فیصلہ نہیں۔لہذا یہ حدیث “باب الایمان بالقدر”کی احادیث کے خلاف نہیں کہ عائشہ صدیقہ نے ایک انصاری بچے کو جوفوت ہوگیا تھا،جنت کی چڑیا کہا،حضور علیہ السلام نے اس سے منع کیا،فرمایا تمہیں کیاخبر یہ کہاں جائے گا۔نیز اگرکسی کا کفر ظاہرہو اور وہ مسجدکی خدمت کرے تو اسے مؤمن نہ کہا جائے گا،جیسے اس زمانہ کے نمازی منافق اور اس زمانہ کے نمازی اورمسجدوں کے خدمت گارمرزائی،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔”اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ”یا “قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ”۔

۳؎ اس آیت کی دوتفسیریں ہیں:ایک یہ کہ مسجدیں آباد کرنے کی توفیق عمومًا مؤمن وں ہی کو ملتی ہے۔دوسرے یہ کہ مسجدیں بنانے اورآبادکرنے کا حق صرف مؤمن وں کوہے کفارکونہیں اسی لیے منافقوں کی مسجدضرار گرادی گئی تھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہاں مسجدکی آبادی میں مسجدوں میں چراغاں کرنا،اس کوسجانا سب داخل ہے۔