طبقات کتب حدیث

کتب حدیث کی صحت ، شہر ت اور مقبولیت کے اعتبار سے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عجالہ نافعہ میں چار طبقات ذکر کئے ہیں ۔ ان کی تلخیص و اختصار اس طرح ہے ۔

طبقۂ اولیٰ :۔ وہ کتابیں جو شہرت مقبولیت اور صحت تینوں اوصاف میں سب پر فائق ہوں ، یہ تین کتابیں ہیں ،

Xصحیح بخاری Xصحیح مسلم Xموطا مالک

طبقۂ ثانیہ : ۔ وہ کتابیں جو مذکورہ تینوں اوصاف میں مندرجہ بالا کتب کے ہم پلہ تو نہیں

البتہ ان سے قریب ترہیں ۔ یہ بھی تین کتابیں ہیں

Xجامع ترمذی Xسنن ابی داؤد Xسنن نسائی

طبقۂ ثالثہ : ۔ وہ کتابیں جوصحاح ستہ مذکورہ کے مصنفین سے مقدم یا معاصر یا بعد میں ہوئے ، فن حدیث میں امامت کے درجہ پر فائز تھے لیکن اپنی تصانیف میں صحت کا پورا اہتمام نہیںرکھا اور ضعیف روایت بکثرت آگئیں ۔ جیسے:۔

Xمسند شافعی X سنن دارمی Xسنن ابن ماجہ X مصنف عبد الرزاقXسنن بیہقی Xتصانیف طبرانی Xسنن دار قطنی

طبقۂ رابعہ: ۔ وہ کتابیں جو متاخرین علماء نے تصنیف کیں اور ان کی روایت کردہ احادیث کا قرون اولیٰ میں ثبوت نہیں ملتا ۔ اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں ۔یا تو ان کو ان احادیث کی اصل نہیں ملی ، اور یا ان روایات میں کوئی علت خفیہ دیکھ کر ان کو ترک کر دیا ۔ جیسے:۔

دیلمی ،ابو نعیم اور ابن عساکر کی تصانیف۔

کتب احادیث کے طبقات کی یہ ایک اجمالی فہرست ہے ، ان کے درمیان دوسرے طبقات بھی ہو سکتے ہیں ، جیسے بعض کتب میں احادیث صحیحہ تو وافر ہیں لیکن ان کو عام شہرت و مقبولیت حاصل نہ ہوسکی ۔ جیسے صحیح ابن خزیمہ ، صحیح ابن حبان ۔ وغیرہا۔

اسی لئے شاہ محدث دہلوی نے اپنی دوسری کتاب ’’ ما یجب حفظہ للناظر ‘‘ میں پانچ طبقات بیان کئے ہیں ۔ غرض کہ تمام کتابوں کاا ستیعاب و احاطہ مقصود نہیں اور نہ یہ مطلب کہ ان کے علاوہ تمام کتابیں غیر معتبر ہیں ۔