قعدہ کی وہ غلطیاں جن سے سجدہ ٔسہو واجب ہوتاہے :

مسئلہ: فرض ، وتر اور سنت مؤکدہ کے قعدہ ٔ اولیٰ میں تشہد ( التحیات) کے بعد اگر صرف ’’ اللہم صل علی محمد ‘‘ یا ’’ اللہم صل علی سیدنا ‘‘ کہہ لیا تو اگریہ کہنا سہواً (بھول کر) ہے تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے اور اگر عمداً ( جان بوجھ کر) ہے تو نماز کا اعادہ کرے اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ درود پڑھا بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تیسری رکعت کاقیام جو فرض ہے ، اس میں تاخیر ہوئی اور فرض میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سجدہ ٔ سہو لازم ہوتاہے لہٰذا اگر کسی نے قعدہ ٔ اولی میں التحیات کے بعد کچھ بھی پڑھا نہیں بلکہ ’’اللہم صل علی محمد ‘‘ پڑھنے کے وقت کی مقدر چپ بیٹھا رہا توبھی سجدہ ٔ سہو واجب ہے۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۳ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۶)

مسئلہ: نوافل اور سنت غیر مؤکدہ(عصر اور عشاء کے فرض کے پہلے کی سنتیں )میں قعدہ ٔ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعائے ماثورہ پڑھنے سے بھی سجدہ ٔ سہو واجب نہیں ہوگا بلکہ التحیات کے بعد درود شریف وغیرہ پڑھنامسنون ہے ۔ ( درمختار ، سراجیہ ، عالمگیری، فتاوٰی قاضی خان ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۴۶۹)

مسئلہ: اگر قعدہ ٔ اولیٰ میں ایک سے زیادہ یعنی چند مرتبہ تشہید ( التحیات) پڑھا تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ ( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۳)

مسئلہ: ہر قعدہ میں پورا تشہد ( التحیات) پڑھنا واجب ہے ۔اگر ایک لفظ بھی چھوٹا تو ترک واجب ہونے کی وجہ سے سجدہ ٔ سہو واجب ہوگا ۔ چاہے نفل نماز ہو یا فرض نماز ہو۔ ( عالمگیری ، درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۳)

مسئلہ: اگر قعدہ میں تشہد کی جگہ بھول کر سورہ ٔ فاتحہ پڑھی تو سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔( عالمگیری ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۳،اور فتاوی رضویہ ، جلد ۳، ص ۱۳۴، اور الملفوظ، حصہ ۳، ص۴۳)

مسئلہ: فرض ، وتر یا سنت مؤکدہ کا قعدہ ٔ اولیٰ بھول گیا اور تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اگر سیدھاکھڑا ہوگیا ہے تو اب قعدہ کے لئے نہ لوٹے بلکہ نماز پوری کرے اور آخر میں سجدہ ٔسہو کرے ۔ ( درمختار ، غنیہ ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۱ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۴)

مسئلہ: نفل نماز کا ہر قعدہ قعدہ ٔ اخیرہے یعنی فرض ہے ۔ اگر قعدہ نہ کیا اور بھول کرکھڑا ہوگیا اگرچہ بالکل سیدھا کھڑاہوگیا ہے تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدہ ٔ سہو کرے ۔( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۲)

مسئلہ: امام کے ساتھ جماعت سے نمازپڑھنے والا مقتدی قعدہ ٔ اولیٰ میں بیٹھنا بھول گیا اور تیسری رکعت کے لئے سیدھاکھڑا ہوگیا تو ضروری ہے کہ وہ قعدہ میں واپس لوٹ آئے اور امام کی متابعت کرے تاکہ امام کی مخالفت کا ارتکاب نہ ہو ۔ ( درمختار ، بہار شریعت ، حصہ۴،ص ۵۱)

مسئلہ: فرض نماز میں اگر قعدہ ٔ اخیرہ بھول گیا اور کھڑا ہوگیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہیں کیا قعدہ میں واپس لوٹ آئے اور سجدہ ٔ سہوکرے اور اگر اس رکعت کاسجدہ کرلیا تو سجدہ سے سر اٹھاتے ہی وہ فرض اب نفل میںمنتقل ہوگیا لہٰذا مغرب کے علاوہ اورنمازوں میں ایک رکعت ملائے تاکہ رکعتوں کی تعداد طاق (Odd) نہ رہے بلکہ تعداد رکعت شفع یعنی جفت (Even) ہوجائے ۔ مثال کے طور پر ظہر کی نماز کے فرض کے قعدہ ٔ اخیرہ میں بیٹھنا بھول گیا اور پانچویں رکعت کے لئے کھڑاہوگیا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا تو اب ایک رکعت مزید ملائے یعنی چھٹی رکعت بھی پڑھے اب یہ تمام رکعتیں نفل ہوجائیںگی ۔ چھ رکعت پوری کرکے سجدہ ٔ سہو کرے لیکن اگر مغرب کی نماز میں قعدہ ٔ اخیرہ بھول گیا اور چوتھی رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو چار رکعت پر اکتفا کرے اور پانچویں نہ ملائے ۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۲)

مسئلہ: اگر امام قعدہ ٔ اخیرہ تشہد کی مقدار کرنے کے بعد بھول کر سیدھاکھڑا ہوگیا تو مقتدی اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ بیٹھے ہوئے انتظار کریں کہ ا مام قعدہ میں لوٹ آئے ۔ اگر امام قعدہ میں واپس لوٹ آیا تو مقتدی اس کا ساتھ دیں اور اگر امام لوٹا نہیں اور مزید رکعت کاسجدہ کرلیا تو مقتدی سلام پھیر کر اپنی نماز پوری کردیں ۔( درمختار ، ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص۵۲)