حدیث نمبر :682

روایت ہے حضرت عثمان ابن مظعون سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمیں خصی ہوجانے کی اجازت دیجئے ۱؎ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوخصی ہویاخصی کرے وہ ہم میں سے نہیں ۲؎ میری امت کا خصی ہونا روزے ہیں۳؎ عرض کیا کہ ہمیں خانہ بدوش ہونے کی اجازت دیجئے فرمایا میری امت کی خانہ بدوشی اﷲ کی راہ میں جہاد ہے۴؎عرض کیا ہمیں ترک دنیا کی اجازت دیجئے فرمایا میری امت کا ترک دنیا نماز کے انتظار میں مسجدوں میں بیٹھناہے۵؎ اسے شرح السنہ نے روایت کیا ہے۔

شرح

۱؎ یعنی مجھے اور مجھ جیسے ان مسکینوں کو جن میں نکاح کی قدرت نہیں خصی ہونے کی اجازت دیں،تاکہ ہم زنا نہ کر سکیں،یہ رب سے انتہائی خوف کی علامت ہے۔مرقاۃ نے فرمایا ان کا منشاء یہ تھا کہ ہم نکاح کے قابل نہ رہیں کیونکہ نکاح دنیاوی الجھنوں کی جڑ ہے،اﷲ اﷲ میں زندگی گزریں۔

۲؎ اس لیے کہ وہ نسل انسانی بندکرتا ہے،انسان کی بقاء سے اسلام کا بقاءہے۔اس سے معلوم ہوا کہ قاطع باہ دوائیں کھانا اور کھلانا حرام ہیں،نیزعورتوں کے رحم نکال دینا یا انہیں ناقابل اولاد بنادینا بھی حرام ہے جب زنا کے لیے ہویانسل بندکرنے کے لیے۔(ازمرقاۃ)

۳؎ کیونکہ روزے سے شہوت ٹوٹتی ہے۔معلوم ہوا کہ جو لوگ نکاح نہ کرسکیں وہ اپنے کو نامرد نہ بنائیں بلکہ روزے رکھا کریں۔

۴؎ کہ مجاہد بحالت جہاد وطن بھی چھوڑ دیتا ہے اورسامان سفرساتھ لئے پھرتاہے۔معلوم ہواکہ بلاوجہ ترک وطن کرکے مارامارا پھرنا منع ہے۔عارضی طور پر دنیا کی سیروسیاحت،جیسا کہ بعض اولیاءاﷲ سے مروی ہے ممنوع نہیں،رب فرماتا ہے:”قُلْ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرْضِ”۔

۵؎ تَرَھُّبْ رَھْبٌ سے بنا بمعنی خوف “کَانُوْا یَتَرَھَّبُوْنَ”۔اصطلاح میں خوف خدا میں مخلوق سے بھاگ کر پہاڑکی چوٹیوں یا گوشوں میں بیٹھ کر عبادت کرنا”تَرَھُّبْ”ہے۔اسی سے رہبانیت اورراہب بنا،یعنی نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا ترک دنیا ہے کہ اس وقت انسان بال بچوں سے الگ ہوجاتا ہے۔گزشتہ دینوں میں ترک دنیا بڑی عبادت تھی۔ہمارے اسلام میں حرام ہے۔اسلام چاہتاہے کہ ایک ہاتھ میں دین لے ایک ہاتھ میں دنیا۔اﷲ کی دی ہوئی طاقتوں کو بیکارکرنا کمال نہیں بلکہ انہیں صحیح مصرف میں خرچ کردینا کمال ہے۔