مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا 

کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی

❤️❤️❤️

مے سے کیا رنگ کا نکھار ہوا

پھول پیکر وہ گل عذار ہوا

❤️❤️❤️

خاک میں مل گئی خوشی اپنی

کہ وہ دشمن کا سوگوار ہوا

❤️❤️❤️

میرے دل پر بھی اب کوئی جلوہ

طور کا تو بہت وقار ہوا

❤️❤️❤️

تمہیں ٹھوکر لگانے سے مطلب

مَیں ہوا یا مرا مزار ہوا

❤️❤️❤️

آہ عاشق ذرا سنبھل کے سنو

یہ بھی کیا نالۂ ہزار ہوا

❤️❤️❤️

اُن کے جلوے کی گرمیاں دیکھو

دلِ ہر سنگ میں شرار ہوا

❤️❤️❤️

آنکھ وہ ہے جو اشک بار رہی

دل وہی ہے جو بے قرار ہوا

❤️❤️❤️

نہیں ملتا ہمیں نہیں ملتا

دل بھی یا رب مزاجِ یار ہوا

❤️❤️❤️

غیر تھا منہ لگانے کے قابل

جاؤ بھی تم کو کس سے پیار ہوا

❤️❤️❤️

دستِ وحشت نے پھر نکالے پاؤں

سر پر اب پھر جُنوں سوار ہوا

❤️❤️❤️

ہاں جی سچ تو ہے تم کو کیا معلوم

دل مرا آپ بے قرار ہوا

❤️❤️❤️

فتنہ جو تیری چال سے اٹھا

وہی آشوبِ روزگار ہوا

❤️❤️❤️

ہائے رے اُس کے دل کی ناکامی

جو تمہارا اُمید وار ہوا

❤️❤️❤️

داغِ الفت جگر میں دیکھ لیے

بد گماں اب تو اِعتبار ہوا

❤️❤️❤️

لوگ دل تھامے پھر رہے ہیں کیوں

کیا وہ پردے سے آشکار ہوا

❤️❤️❤️

سچ تو ہے تم کو غیر سے کیا کام

یہ میں بیٹھا ہوں شرم سار ہوا

❤️❤️❤️

ترس آتا ہے اُس کی حالت پر

تم کو جس دل پر اختیار ہوا

❤️❤️❤️

ہیں یہی ضبط عشق کے دشمن

تو ہوا موسم بہار ہوا

❤️❤️❤️

ہو گیا صرفِ گریہ عنصر آب

دیکھ اتنا میں اشک بار ہوا

❤️❤️❤️

کُھل گیا عشق غیر اسی سے کہ وہ

تیرے آگے نہ بے قرار ہوا

❤️❤️❤️

شاید اب دوست دیکھنے آئے

غیر حالِ وفا شعار ہوا

❤️❤️❤️

کیا قیامت تھیں پیار کی نظریں

میٹھی چُھریوں سے دل فگار ہوا

❤️❤️❤️

تھا جو اک مست مے کا دیوانہ

خشت خم سے میں سنگ سار ہوا

❤️❤️❤️

دیکھ بلبل سنبھل کر اس گل کو

یہ بھی کیا جلوۂ بہار ہوا

❤️❤️❤️

مشک کی کس سے چھپ سکی خوشبو

عشق کا کون پردہ دار ہوا

❤️❤️❤️

محوِ عشرت ہوں یہ کہ یاد نہیں

رات کس سے میں ہمکنار ہوا

❤️❤️❤️

اس کو سمجھیں ہیں راز حضرتِ دل

جو زمانے پر آشکار ہوا

❤️❤️❤️

رفتہ رفتہ وہ جلوۂ بے باک

آفتِ جانِ روزگار ہوا

❤️❤️❤️

آؤ تیار ہے جنازہ مرا

یہ بھی کیا آپ کا سنگار ہوا

❤️❤️❤️

اے حسنؔ مے کشی کو بیٹھ گئے

کچھ ہمارا بھی اِنتظار ہوا

❤️❤️❤️