أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگربستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے رہتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے (رسولوں کو) جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا

تفسیر:

96 ۔ 99:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور اگربستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے رہتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے (رسولوں کو) جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔ تو کیا بستیوں والے اس بات سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آجائے جب وہ سو رہے ہوں۔ اور کیا بستیوں والے اس بات سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت آجائے جب وہ کھیل کود میں مشغول ہوں۔ تو کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہیں، حالانکہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو تباہ و برباد ہونے والے ہوں “

نیک اعمال نزول رحمت کا سبب ہیں اور بد اعمال نزول عذاب کا باعث ہیں :

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اگر بستیوں والے اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے ان سے باز رہتے تو اللہ ان پر آسمانوں اور زمینوں سے برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ آسمان سے بارشیں نازل فرماتا اور زمین سبزہ اور فصل اور فصل اگاتی اور ان کے جانوروں اور مویشیوں میں کثرت ہوتی اور ان کو امن اور سلامتی حاصل ہوتی لیکن انہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکزیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر اور ان کی معصیت کی وجہ سے ان پر خش سالی اور قحط کو مسلط کردیا۔ 

اس کے بعد دوسری آیتوں سے مقصود انہیں اس بات سے ڈرانا ہے کہ کہیں ان کی غفلت کے اوقات میں ان پر اچانک عذاب آجائے۔ مثلا جس وقت یہ سوئے ہوں یا دن کے کسی وقت میں جب یہ لہو و لعب میں مشغول ہوں تو ان پر اچانک عذاب آجائے۔ پھر فرمایا : کیا یہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں اور اللہ کی خفیہ تدبیروں میں سے یہ ہے کہ ان کی بیخبر ی میں اچانک ان پر عذاب آجائے۔ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ایمان صحیح اخروی سعادت اور دنیاوی کشادگی کا سبب ہے اور کفر اور معصیت عذاب کا لازمی نتیجہ ہے۔ ان آیات میں مسلمانوں کو اعمال صالحہ کی ترغیب دی ہے اور کافروں کو عذاب سے ڈرایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 96