وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ(۱۵۵)

اور یہ برکت والی کتاب (ف۳۲۵) ہم نے اتاری تو اس کی پیروی کرو اور پرہیزگاری کرو کہ تم پر رحم ہو

(ف325)

یعنی قرآن شریف جو کثیرُ الخیر اور کثیرُ النفع اور کثیرُ البرکۃ ہے اور قیامت تک باقی رہے گا اور تحریف و تبدیل و نَسخ سے محفوظ رہے گا ۔

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآىٕفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا۪-وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ(۱۵۶)

کبھی کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر اُتری تھی (ف۳۲۶) اور ہمیں ان کے پڑھنے پڑھانے کی کچھ خبر نہ تھی(ف۳۲۷)

(ف326)

یعنی یہود و نصارٰی پر توریت اور انجیل ۔

(ف327)

کیونکہ وہ ہماری زبان ہی میں نہ تھی نہ ہمیں کسی نے اس کے معنٰی بتائے ، اللہ تعالٰی نے قرآنِ کریم نازل فرما کر ان کے اس عُذر کو قطع فرما دیا ۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْۚ-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌۚ-فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَاؕ-سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ(۱۵۷)

یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ان سے زیادہ ٹھیک راہ پر ہوتے (ف۳۲۸) تو تمہارے پاس تمہارے رب کی روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آئی (ف۳۲۹) تو اس سے زیادہ ظالم کون جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ پھیرے عنقریب وہ جو ہماری آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں ہم انہیں برے عذاب کی سزا دیں گے بدلہ ان کے منہ پھیرنے کا

(ف328)

کُفّار کی ایک جماعت نے کہا تھا کہ یہود و نصارٰی پر کتابیں نازل ہوئیں مگر وہ بدعقلی میں گرفتار رہے ، ان کتابوں سے منتفِع نہ ہوئے ، ہم ان کی طرح خفیفُ العقل اور نادان نہیں ہیں ، ہماری عقلیں صحیح ہیں ، ہماری عقل و ذہانت اور فہم و فراست ایسی ہے کہ اگر ہم پر کتاب اُترتی تو ہم ٹھیک راہ پر ہوتے ، قرآن نازل فرما کر ان کا یہ عُذر بھی قطع فرما دیا چنانچہ آگے ارشاد ہوتا ہے ۔

(ف329)

یعنی یہ قرآنِ پاک جس میں حُجّتِ واضحہ اور بیان صاف اور ہدایت و رحمت ہے ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَؕ-یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًاؕ-قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ(۱۵۸)

کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۳۰) مگر یہ کہ آئیں ان کے پاس فرشتے(ف۳۳۱) یا تمہارے رب کا عذاب آئےیا تمہارے رب کی ایک نشانی آئے (ف۳۳۲) جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی(ف۳۳۳) تم فرماؤ رستہ دیکھو (ف۳۳۴) ہم بھی دیکھتے ہیں

(ف330)

جب وحدانیت و رسالت پر زبردست حُجّتیں قائم ہو چُکیں اور اعتقاداتِ کُفر و ضلال کا بُطلان ظاہر کر دیا گیا تو اب ایمان لانے میں کیوں تَوقُّف ہے ، کیا انتِظار باقی ہے ۔

(ف331)

ان کی اَرواح قبض کرنے کے لئے ۔

(ف332)

قیامت کی نشانیوں میں سے ۔ جمہور مفسِّرین کے نزدیک اس نشانی سے آفتاب کا مغرب سے طُلوع ہونا مراد ہے ۔ ترمذی کی حدیث میں بھی ایسا ہی وارد ہے ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک آفتاب مغرب سے طلوع نہ کرے اور جب وہ مغرب سے طلوع کرے گا اور اسے لوگ دیکھیں گے تو سب ایمان لائیں گے اور یہ ایمان نفع نہ دے گا ۔

(ف333)

یعنی طاعت نہ کی تھی ، معنٰی یہ ہیں کہ نشانی آنے سے پہلے جو ایمان نہ لائے نشانی کے بعد اس کا ایمان قبول نہیں ، اسی طرح جو نشانی سے پہلے توبہ نہ کرے بعد نشانی کے اس کی توبہ قبول نہیں لیکن جو ایمان دار پہلے سے نیک عمل کرتے ہوں گے نشانی کے بعد بھی ان کے عمل مقبول ہوں گے ۔

(ف334)

ان میں سے کسی ایک کا یعنی موت کے فرشتوں کی آمد یا عذاب یا نشانی آنے کا ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍؕ-اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ(۱۵۹)

وہ جنہوں نے اپنے دین میں جدا جدا راہیں نکالیں اور کئی گروہ ہوگئے (ف۳۳۵) اے محبوب تمہیں ان سے کچھ علاقہ(تعلق) نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں بتادے گا جو کچھ وہ کرتے تھے (ف۳۳۶)

(ف335)

مثل یہود و نصارٰی کے ۔ حدیث شریف میں ہے یہود اکہتر ۷۱ فرقے ہو گئے ، ان سے صرف ایک ناجی ہے باقی سب ناری اور نصارٰی بہتر ۷۲ فرقے ہو گئے ایک ناجی باقی سب ناری اور میری اُمّت تہتر ۷۳ فرقے ہو جائے گی وہ سب کے سب ناری ہوں گے سوائے ایک کے جو سَوادِ اعظم یعنی بڑی جماعت ہے اور ایک روایت میں ہے کہ جو میری اور میرے اصحاب کی راہ پر ہے ۔

(ف336)

اور آخرت میں انہیں اپنے کردار کا انجام معلوم ہو جائے گا ۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۶۰)

جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں (ف۳۳۷) اور جو بُرائی لائے تو اسے بدلہ نہ ملے گا مگر اس کے برابر اور ان پر ظلم نہ ہوگا

(ف337)

یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ بھی حد و نہایت کے طریقہ پر نہیں بلکہ اللہ تعالٰی جس کے لئے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے ، ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے ۔ اصل یہ ہے کہ نیکیوں کا ثواب مَحض فضل ہے ، یہی مذہب ہے اہلِ سُنّت کا اور بدی کی اُتنی ہی جزا ، یہ عدل ہے ۔

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ﳛ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاۚ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۱۶۱)

تم فرماؤ بے شک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی (ف۳۳۸) ٹھیک دین ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرک نہ تھے (ف۳۳۹)

(ف338)

یعنی دینِ اسلام جو اللہ کو مقبول ہے ۔

(ف339)

اس میں کفّارِ قُریش کا رد ہے جو گمان کرتے تھے کہ وہ دینِ ابراہیمی پر ہیں ، اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام مشرک و بُت پرست نہ تھے تو بُت پرستی کرنے والے مشرکین کا یہ دعوٰی کہ وہ ابراہیمی ملّت پر ہیں باطل ہے ۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)

تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا

لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ(۱۶۳)

اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور مَیں سب سے پہلا مسلمان ہوں(ف۳۴۰)

(ف340)

اوّلیّت یا تو اس اعتبار سے ہے کہ انبیاء کا اسلام ان کی اُمّت پر مقدّم ہوتا ہے یا اس اعتبار سے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اوّل مخلوقات ہیں تو ضرور اوّل المسلمین ہوئے ۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍؕ-وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَاۚ-وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ-ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(۱۶۴)

تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا اور رب چاہوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے (ف۳۴۱) اور جو کوئی کچھ کمائے وہ اسی کے ذمہ ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی(ف۳۴۲) پھر تمہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے (ف۲۴۳) وہ تمہیں بتادے گا جس میں اختلاف کرتے تھے

(ف341)

شا نِ نُزول : کُفّار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیے اور ہمارے معبودوں کی عبادت کیجئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولید بن مغیرہ کہتا تھا کہ میرا رستہ اختیار کرو اس میں اگر کچھ گناہ ہے تو میری گردن پر ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ وہ رستہ باطل ہے ، خدا شَناس کس طرح گوارا کر سکتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ربّ بتائے اور یہ بھی باطل ہے کہ کسی کا گناہ دوسرا اٹھا سکے ۔

(ف342)

ہر شخص اپنے گناہ میں ماخوذ ہو گا دوسرے کے گناہ میں نہیں ۔

(ف343)

روزِ قیامت ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْؕ-اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ ﳲ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ (۱۶۵)

اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب کیا (ف۳۴۴) اور تم میں ایک کو دوسرے پر درجوں بلندی دی (ف۳۴۵) کہ تمہیں آزمائے (ف۳۴۶) اس چیز میں جو تمہیں عطا کی بے شک تمہارے رب کو عذاب کرتے دیر نہیں لگتی اور بے شک وہ ضرور بخشنے والا مہربان ہے

(ف344)

کیونکہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم خاتَم النبّیِین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ کی اُمّت آخرُ الاُمَم ہے اس لئے ان کو زمین میں پہلوں کا خلیفہ کیا کہ اس کے مالک ہوں اور اس میں تصرُّف کریں ۔

(ف345)

شکل و صورت میں ، حسن و جمال میں ، رزق و مال میں ، علم و عقل میں ، قوّت و کمال میں ۔

(ف346)

یعنی آزمائش میں ڈالے کہ تم نعمت و جاہ و مال پا کر کیسے شکر گزار رہتے ہو اور باہم ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کے سلوک کرتے ہو ۔