أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ الۡقُرٰى نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآئِهَا‌ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ‌ ۚ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ‌ ؕ كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ وہ بستیاں ہیں جن کی خبریں ہم آپ کو بیان کرتے ہیں، بیشک ان بستیوں والوں کے پاس ان کے رسول واضح معجزات لے کر آئے ہیں پس وہ ان پر ایمان لانے کے لیے بالکل تیار نہ ہوئے کیوں کہ اس سے پہلے وہ ان کی تکذیب کرچکے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” یہ وہ بستیاں ہیں جن کی خبریں ہم آپ کو بیان کرتے ہیں، بیشک ان بستیوں والوں کے پاس ان کے رسول واضح معجزات لے کر آئے ہیں پس وہ ان پر ایمان لانے کے لیے بالکل تیار نہ ہوئے کیوں کہ اس سے پہلے وہ ان کی تکذیب کرچکے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے “

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم غیب اور آپ کی رسالت پر دلیل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) کی امتوں کے احوال بیان فرمائے کہ ان رسولوں کی قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور انجام کار ایسے عذاب سے دوچار ہوئے جس کی وجہ سے صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹ گیا اور خصوصیت کے ساتھ ان پانچ قوموں کے احوال اس لیے بیان فرمائے کہ یہ قومیں جزیرہ نما عرب اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں رہنے والی تھیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ ڈھیل دی اور ان کو بہ کثرت نعمتیں عطا فرمائیں جس کی وجہ سے انہوں نے یہ زعم کرلیا کہ ان کا موقف درست ہے اور رسولوں کا پیش کیا ہوا دین غلط ہے۔ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اسی علاقہ میں مبعوث فرمایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پانچ قوموں کے احوال بیان فرما کر مکہ والوں کو تنبیہ فرمائی کہ تم کفر اور تکذیب میں گزشتہ قوموں کی پیروی نہ کرنا ورنہ تم بھی عذاب الٰہی کے مستحق ہوجاؤ گے !

اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر بھی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو ان پانچ قوموں کے احوال سے مطلع فرمایا اور آپ نے کسی سے سنے یا کسی کتاب میں پڑھے بغیر ان قوموں کے احوال بیان فرمائے جس سے معلوم ہوا کہ آپ کو یہ خبریں صرف وحی الٰہی سے حاصل ہوئی ہیں اور جس پر وحی نازل ہو وہی نبی ہوتا ہے۔ نیز آپ نے یہ غیب کی خبریں بیان کی ہیں اور نبی وہی ہوتا ہے جو غیب کی خبریں دیتا ہے۔ سو آپ کا نبی ہونا واضح ہوا۔ ان خبروں کے علاوہ اور بھی بہت سے غیوبات کا آپ کو علم ہے بلکہ آپ کو سب رسولوں سے زیادہ غیب کا علم ہے تاہم آپ کو عالم الغیب کہنا صحیح نہیں ہے کیونکہ عالم الغیب کا لفظ عرف اور شرع میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے البتہ آپ کو مطلع علی الغیب کہنا درست ہے۔ 

تمام نبی حامل معجزہ ہیں : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک ان بستیوں والوں کے پاس ان کے رسول واضح معجزات لے کر آئے۔

اس آیت سے یہ تو صراحتاً معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پانچ رسولوں کو واضح معجزات عطا فرمائے تھے اگرچہ ذکر صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کے اس معجزہ کا کیا ہے کہ انہوں نے ایک پتھر کی چٹان سے اونٹنی نکالی، اور اس آیت سے اشارۃً یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو معجزہ دے کر بھیجا کیونکہ اگر نبی کے پاس معجزہ نہ ہو تو وہ کس بنیاد پر اپنی رسالت کو ثابت کرے گا اور اگر نبی کے پاس معجزہ نہ ہو تو نبی صادق اور نبی کاذب میں امتیاز کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ علاوہ ازیں اس حدیث میں اس پر بھی دلیل ہے کہ ہر نبی کو معجزہ عطا فرمایا گیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر نبی کو اس قدر معجزات دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ایک بشر ان پر ایمان لے آئے اور مجھے وحی (قرآن مجید) عطا کی گئی جو اللہ نے مجھ پر نازل فرمائی پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے متبعین تمام نبیوں سے زیادہ ہوں گے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 4981 ۔ صحیح مسلم، الایمان : 239 (152) 378 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 341 ۔ 451 ۔ السنن البری للنسائی، رقم الحدیث : 1129)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزہ کا دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات سے امتیاز :

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر نبی کو اتنے معجزات دیے گئے جن کی وجہ سے کوئی بشر ایمان لاسکے اور مجھے قرآن مجید دیا گیا ہے جس کی مثل کسی کو نہیں دی گئی اس لیے فرمایا میرے متبعین سب سے زیادہ ہوں گے۔ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے اس پر جادو یا شعبدہ وگیرہ کا مگان نہیں کیا جاسکتا جبکہ دوسرے انبیاء کے معجزات کے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہے۔ اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے معجزات ان کے زمانوں کے ساتھ گزر گئے اور ان کے زمانوں میں بھی ان معجزات کا مشاہدہ صف ان لوگوں نے کیا تھا جو اس موقع پر موجود تھے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ قران مجید ہے جو قیامت تک باقی رہے گا اور اس میں جو فصاحت اور بلاغت ہے اور غیب کی خبریں ہیں اس کی نظیر لانے سے بلکہ اس کی ایک سورت کی بھی نظیر لانے سے تمام جن اور انس اجتماعی اور انفرادی طور پر ناکام اور عاجز رہے، اور علم کی روز افزوں ترقی اور مخالفین کی کثرت کے باوجود اب تک عاجز ہیں۔ قرآن مجید کی پیش گوئیوں کو کوئی جھٹلا نہیں سکا اور قرآن مجید کا دعوی ہے کہ اس میں کمی اور زیادتی نہیں ہوسکتی اور کوئی شخص اس میں کمی اور بیشی ثابت نہیں کرسکا۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد سے لے کر قیامت تک ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی نبی کی نبوت پر کوئی دلیل یا معجزہ قائم نہیں ہے۔

معجزہ کی تعریفات :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی حنفی متوفی 816 ھ لکھتے ہیں : ” وہ کام جو اللہ کی عادت جاریہ کے خلاف ہو اور خیر اور سعادت کی دعوت دیتا ہو اور اس کام کو پیش کرنے والا نبوت کا مدعی ہو اور اس خلاف عادت کام سے اس کے اس دعوی کے صدق کے اظہار کا قصد کیا گیا ہو کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ اس خلاف عادت کام کو معجزہ کہتے ہیں۔ ” (کتاب التعریفات ص 153، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1418 ھ)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی 793 ھ لکھتے ہیں : ” معجزہ وہ کام ہے جو خرق (خلاف) عادت ہو اور اس کے ساتھ اس کے معارضہ کا چیلنج مقرون ہو اور اس کا معارضہ نہ کیا جاسکے ایک قول یہ ہے کہ معجزہ وہ امر ہے جس سے نبوت یا رسالت کے مدعی کے صدق کے اظہار کا قصد کیا گیا ہو اور بعض علماء نے اس میں یہ قید بھی لگائی ہے کہ وہ امر اس کے دعویٰ کے موافق ہو اور بعض علماء نے یہ قید بھی لگائی ہے کہ وہ امر زمانہ تکلیف کے مقارن ہو کیونکہ ایام تکلیف کے ختم ہونے کے بعد بھی خوارق (اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ کے خلاف امور یا کام) کا ظہور ہوگا لیکن ان سے تصدیق کا قصد نہیں کیا جائے گا۔ (شرح المقاصد ج 5، ص 11، مطبوعہ منشورات الشریف الرضی، ایران، 1409 ھ) “

علامہ کمال الدین عبدالواحد بن ھمام حنفی متوفی 861 ھ لکھتے ہیں : ” معجزہ اس خلاف عادت کام کو کہتے ہیں جو دعوی نبوت سے مقرون ہو اور اس سے نبوت کے مدعی کا صدق ظاہر ہو ” (المسامرہ، ص 213، مطبوعہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ، مکران، بلوچستان)

علامہ ابو الحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی 450 ھ لکھتے ہیں : ” معجزہ اس فعل کو کہتے ہیں جو عام بشر کی عادت اور اس کی طاقت کے خلاف ہو اور وہ فعل حقیقتاً صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت سے صادر ہوا ہو، اور بہ ظاہر وہ مدعی نبوت سے صادر ہوا ہو ” (اعلام النبوۃ، ص 42، مطبوعہ دار احیاء العلوم بیروت، 1408 ھ)

معجزہ کی شرائط : 

علامہ احمد بن محمد القسطلانی متوفی 923 ھ لکھتے ہیں : ” معجزہ وہ کام ہے جو خلاف عادت ہو اور معارضہ کے چیلنج کے ساتھ مقرون ہو اور انبیاء (علیہم السلام) کے صدق پر دلالت کرتا ہو۔ اس کو معجزہ اس لیے کہتے ہیں کہ بشر اس کی مثال لانے سے عاجز ہے۔ اس کی حسب ذیل شرائط ہیں : 

1 ۔ معجزہ وہ کام ہونا چاہیے جو خلاف عادت ہو جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہونا، انگلیوں سے پانی کا پھوٹ پڑنا، لاٹھی کا عصا بن جانا، پتھر سے اونٹنی کا نکالنا۔ اس قید سے وہ کام خارج ہوگئے جو عادت کے مطابق ہوں۔

2 ۔ اس فعل کے معارضہ اور مقابلہ کو طلب کیا جائے اور بعض نے کہا اس فعل کے ساتھ رسالت کا دعوی مقرون ہو۔ 

3 ۔ مدعی رسالت نے جس فعل کو صادر کیا ہے کوئی شخص اس فعل کی مثل نہ لاسکے۔ اور بعض نے کہا معارضہ سے مامون ہونے کے ساتھ دعوی رسالت ہو۔ اس قید سے وہ امور خلاف عادت نکل گئے جو دعوی نبوت سے پہلے صادر ہوں جیسے اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بادل کا سایہ کرنا اور شق صدر وغیرہ۔ ان کو ارہاص کہتے ہیں۔ اسی طرح اس قید سے اولیاء اللہ کی کرامات بھی خارج ہوگئیں کیونکہ ان کے ساتھ دعوی نبوت مقرون نہیں ہوتا۔

قاضی ابوبکر باقلانی نے کہا ہے کہ معجزہ کی تعریف میں جو تحدی کی شرط لگائی گئی ہے یعنی اس فعل کے معارضہ اور مقابلہ کو طلب کیا جائے اس کی دلیل کتاب میں ہے نہ سنت میں نہ اس پر اجماع ہے اور بیشمار معجزات ایسے ہیں جن کی صدور میں معارضہ اور مقابلہ کو طلب نہیں کیا جاتا۔ مثلا کنکریوں کا کلمہ پڑھنا، انگلیوں سے پانی کا پھوٹ پڑنا، ایک صاع (چار کلو گرام) طعام سے دو سو آدمیوں کو پیٹ بھر کر کھلا دینا، آنکھ میں لعاب دہن ڈالنا، بکری کے گوشت کا کلام کرنا، اونٹ کا شکایت کرن اور بڑے بڑے معجزات، اور تحقیق یہ ہے کہ سوائے قرآن مجید کے اور کسی معجزہ میں تحدی نہیں کی گئی۔ 

4 ۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ فعل مدعی نبوت کے دعوی کے موافق ہو۔ اگر وہ خلاف عادت فعل مدعی نبوت کے خلاف ہو تو وہ معجزہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اہانت ہوگی۔

واضح رہے کہ قرآن اور حدیث میں معجزہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا بلکہ معجزہ کے لیے آیت، بینہ، اور برہان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ 

اذا جاءتہم ایۃ (الانعام : 24) ۔ لقد جاءتہم رسلہم بالبینات (الاعراف :101) ۔ فذانک برھانان من ربک (القصص : 32) (المواہب اللدنیہ، ج 2، ص 191 ۔ 194، ملخصا، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1416 ھ)

افعال غیر عادیہ کی دیگر اقسام :

معجزہ کے علاوہ خرق عادت فعل کی حسب ذیل قسمیں ہیں : 

1 ۔ ارہاص : جو خلاف عادت امر نبی کے لیے اعلان نبوت سے پہلے ظاہر ہو۔ جیسے اعلان نبوت سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بادل کا سایہ کرنا۔ 

2 ۔ کرامت : مومن کامل کے ہاتھ سے جو خلاف عادت کام صادر ہو، جیسے غوث اعظم کا مردوں کو زندہ کرنا۔ 

3 ۔ معونت : عام مومن کے ہتھ سے جو خلاف عادت کام صادر ہو۔ جیسے ایک شخص نے اپنے پالتو کتے کے متعلق دعا کی کہ وہ اس کے گھر کے اندر نہ آئے صرف باہر رہا کرے، سو ایسا ہی ہوگیا۔ 

4 ۔ استدراج : کسی کافر کے ہاتھ پر اس کے دعویٰ کے موافق خلاف عادت کام صادر ہو جیسے دجال کئی کام کرے گا۔ 

5 اہانت : جو کافر نبوت کا مدعی ہو اس کے ہاتھ پر خلاف عادت امر ظاہر ہو لیکن وہ امر اس کے دعوی کا مکذب ہو، جیسے ایک کا نے شخص نے مسیلمہ کذاب سے کہا : تم دعا کرو کہ میری آنکھ بینا ہوجائے۔ مسیلمہ کذاب نے دعا کی تو اس کا نے کی صحیح آنکھ بھی بینا ہوگئی اور وہ مکمل اندھا ہوگیا۔ یا جیسے مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کی کہ اس کا نکاح محمدی بیگم سے ہوگا لیکن اس کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ہوگیا۔ پھر مرزا غلام احمد نے پیش گوئی کی کہ مرزا سلطان محمد مرجائے گا اور محمدی بیگم بعد میں اس کے نکاح میں آجائے گی لیکن ہوا یہ کہ مرزا غلام احمد مرگیا اور سلطان محمد اس کی موت کے بعد دیر تک زندگہ رہا، نیز مرزا نے پیش گوئی کی کہ عیسائی پادری آتھم 5 ستمبر 1884 ء کے دن مرجائے گا (اس وقت وہ بیمار تھا اور ہسپتال میں زیر علاج تھا) لیکن اس تاریخ وہ تندرست ہوگیا اور زندہ رہا اور عیسائیوں نے اس کا جلوس نکالا۔ 

معجزات، انبیاء کے اختیار میں ہونے پر محدثین، فقہاء اور متکلمین کے دلائل : 

علامہ عبدالرحمن بن محمد الانباری المتوفی 577 ھ لکھتے ہیں : 

معجزہ میں شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہو کیونکہ معجزہ اس حیثیت سے دلالت کرتا ہے کہ وہ مدعی نبوت کے لیے اللہ کی جانب سے تصدیق ہے۔ اگر معجزہ اللہ کا فعل نہ ہو تو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مدعی نبوت کی تصدیق کی ہے۔ (کتاب الاداعی الی الاسلام، ص 281، مطبوعہ دار البشائ الاسلامیہ، 1409 ھ)

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی 816 ھ اس کے جواب میں لکھتے ہیں :

ایک قوم نے معجزہ میں یہ شرط لگائی ہے کہ وہ نبی کی قدرت میں نہ ہو کیونکہ اگر معجزہ نبی کا مقدور ہوگا جیسے اس کا ہوا کی طرف چڑھنا اور پانی پر چلنا تو وہ اللہ کی طرف سے تصدیق کے قائم مقام نہیں ہوگا اور یہ اعتراض کچھ وزن نہیں رکھتا کیونکہ جب نبی اس فعل پر قادر ہوگا اور دوسر کوئی شخص اس پر قادر نہیں ہوگا تو وہ فعل معجزہ ہوگا۔ علامہ آمدی نے کہا : آیا معجزہ نبی کی قدرت میں ہے یا نہیں ؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ بعض ائمہ نے یہ کہا کہ ہوا کی طرف چڑھنے اور پانی پر چلنے میں محض چرھنا یا چلنا معجزہ نہیں ہے، کیونکہ یہ نبی کے لیے مقدور ہے اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نبی کے لیے اس پر قدرت پیدا کردے، اس مثال میں جو چیز معجز ہے وہ اس مثال میں نفس قدرت ہے اور یہ قدرت نبی کا مقدور نہیں ہے (کیونکہ یہ قدرت اللہ کے پیدا کرنے سے ہوتی ہے) اور بعض ائمہ نے کہا کہ اس مثال میں ہوا کی طرف چڑھنا یا پانی پر چلنا ہی معجز ہے (نہ کہ اس پر قدرت) کیونکہ یہ فعل مخارق (مخالف) عادت ہے اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے اور یہی قول زیادہ صحیح ہے۔ (شرح المواقف، ج 8، ص 223 ۔ 224، مطبوعہ ایران)

علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی 1067 ھ اس قول کے زیادہ صحیح ہونے کی وجہ بیان کرتے ہیں :

کیونکہ مقصود یہ ہے کہ دوسرے اس فعل سے عاجز ہوں اور اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق حاصل ہوجائے گی اور یہی مقصود ہے۔ نیز لکھتے ہیں جو اس کے قائل ہیں کہ معجزہ نبی کی قدرت میں نہیں ہے وہ کہتے ہیں کہ نفس قدرت معجز ہے اور یہ نبی کا مقدور نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نفس قدرت کو معجزہ نہیں کہتے بلکہ اس خاص فعل کو معجزہ کہتے ہیں اور اس خاص فعل (مثلاً اس مثال میں ہوا کی طرف چڑھنا) پر نبی قادر ہے اور اس کا غیر قادر نہیں ہے اور معجزہ سے یہی مقصود ہے (حاشیہ سیالکوٹی علی شرح المواقف، ج 8، ص 224، مطبوعہ ایران)

اس بحث میں زیادہ واضح بات یہ ہے کہ جو ائمہ یہ کہتے ہیں کہ مثلا ہوا کی طرف چڑھنا یہ مخصوص فعل معجز نہیں ہے بلکہ اس پر نفس قدرت معجز ہے ان پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں خلاف عادت افعال کی کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ عام عادت کے مطابق جو افعال ہوتے ہیں مثلاً پہاڑ پر چڑھنا، یا زمین پر چلنا ان افعال میں بھی نفس قدرت اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے ہوتی ہے تو پھر چاہیے کہ ان عام عادی افعال میں بھی نفس قدرت معجز ہو پھر اس دلیل سے عام عادت کے مطابق افعال بھی معجزہ قرار پائیں گے !

حقیقت یہ ہے کہ عام انسانوں کی عادت کے مطابق افعال ہوں یا انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف عادت افعال ہوں ان افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان افعال کے کا سب انسان اور انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ان افعال کے ساتھ دو قدرتیں متعلق ہوتی ہیں ایک قدرت بہ حیثیت خلق، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور ایک قدرت بہ حیثیت کسب، یہ انسان اور انبیاء کا کام ہے، اور جس طرح عام افعال عادیہ ہمارے اختیار میں دیے گئے ہیں اسی طرح خلاف عادت افعال اور معجزات انبیاء (علیہم السلام) کے اختیار میں دیے گئے ہیں۔ 

امام محمد بن غزالی متوفی 505 ھ لکھتے ہیں : 

نبی کو فی نفسہ ایک ایسی صفت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کے خلاف عادت افعال ہوں ان افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ان افعال کے کا سب انسان اور انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور ان افعال کے ساتھ دو قدرتیں متعلق ہوتی ہیں ایک قدرت بہ حیثیت خلق، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور ایک قدرت اور ایک قدرت بہ حیثیت کسب، یہ انسان اور انبیاء کا کام ہے، اور جس طرح عام افعال عادیہ ہمارے اختیار میں دیے گئے ہیں اسی طرح خلاف عادت افعال اور معجزات انبیاء (علیہم السلام) کے اختیار میں دیے گئے ہیں۔ 

امام محمد بن غزالی متوفی 505 ھ لکھتے ہیں : 

نبی کو فی نفسہ ایک ایسی صفت حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کے خلاف عادت افعال (معجزات) پورے ہوتے ہیں جس طرح ہماری ایک صفت ہے جس کی وجہ سے ہماری حرکات قدرت اور اختیار سے ہوتی ہیں اگرچہ قدرت اور مقدور دونوں اللہ تعالیٰ کا فعل ہیں۔ (احیاء العلوم، ج 5، ص 53، مطبوعہ دار الخیر، بیروت، 1413 ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ نے بھی امام غزالی کی اس عبارت سے استدلال کیا ہے۔ (فتح الباری، ج 12 ص 367، مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور، 1041 ھ)

علاہ سعد الدین تفتا زانی متوفی 793 ھ اس بحث میں لکھتے ہیں : 

ہم بیان کرچکے ہیں کہ ہر چیز کو وجود میں لانے والا صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ خصوصا مردوں کو زندہ کرنے، لاٹھی کو سانپ بنانے، چاند کو شق کرنے اور پتھر کے سلام کرنے میں۔ علاوہ ازیں حکیم قادر مختار نے انبیاء (علیہم السلام) کو معجزات صادر کرنے کے لیے جو قدرت اور اختیار عطا کیا ہے وہ مطلب کی افادیت میں کافی ہے۔ اسی وجہ سے معتزلہ کا یہ مذہب ہے کہ معجزہ یا اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے یا اس کے حکم سے واقع ہوتا ہے یا اس کے قدرت اور اختیار دینے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے۔ (شرح المقاصد ج 5 س 17، مطبوعہ ایران) 

علامہ تفتازانی کی اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض معجزات محض اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتے ہیں اور ان میں نبی کا بالکل دخل نہیں ہوتا اور بعض معجزات کو اللہ تعالیٰ نبی کے قبضہ اور اختیار میں کردیتا ہے اور وہ جب چاہتے ہیں ان معجزات کو صادر کرتے ہیں۔ 

علامہ محمد بن احمد سفارینی حنبلی متوفی 1188 ھ لکھتے ہیں : 

شیخ ابن تیمیہ نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جو معجزات، قدرت، فعل اور تاثیر سے متعلق ہیں، ان کی حسب ذیل انواع ہیں : 

1 ۔ بعض فضا میں ہیں استسقاء اور استسحاء (بارش کا طلب کرنا اور بادلوں کا چھٹنا) میں بادلوں کا آنے اور جانے میں آپ کی اطاعت کرنا۔

3 ۔ انسانوں، جنات اور حیوانوں میں آپ کا تصرف کرنا۔

4 ۔ درختوں، لکڑیوں اور پتھروں میں آپ کا تصرف کرنا۔

5 ۔ آسمان کے فرشتوں کا آپ کی تائید کرنا۔ 

6 ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کا قبول ہونا۔ 

7 ۔ ماضی اور مستقبل کے غیوب کی خبریں دینا۔ 

8 ۔ کھانے پینے کی چیزوں اور پھلوں کا زیادہ ہوجانا۔ ان کے علاوہ اور کئی انواع کے معجزات ہیں جن میں اپ کی نبوت اور رسالت کے دلائل اور علامات ہیں۔ (لوامع الانوار الالٰہیہ، ج 2، ص 293 ۔ 294، مطبوعہ مکتب اسلامی، بیروت، 1411 ھ)

شیخ ابن تیمیہ کی اس تحریر سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعض معجزات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اختیار میں ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے لکھا ہے کہ بادل آپ کی اطاعت کرتے تھے اور آپ انسانوں، حیوانوں، درختوں اور پتھروں میں تصرف کرتے تھے۔ 

معجزات پر انبیاء کے اختیار کے ثبوت میں احادیث : 

جنات اور شیاطین پر تصرف کے متعلق یہ حدیث ہے : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گزشتہ رات ایک بہت زبردست جن نے مجھ پر حملہ کرنا چاہاتا کہ میری نماز خراب کرے، اللہ نے مجھے اس پر قدرت دی اور میں نے اس کو دھکا دیا، میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں حتی کہ تم سب اس کو دیکھو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آئی ” اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کو سزاوار نہ ہو۔ (ص :35) پھر اللہ نے اس کو ناکام لوٹا دیا۔ (صحیح مسلم المساجد : 39 (541) 1189 ۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث : 461 ۔ السنن الکبری للنسائی، ج 2، رقم الحدیث : 1440)

علامہ نووی نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شیطان کے باندھنے پر قدرت دی تھی لیکن آپ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا کے پیش نظر ادباً اور تواضعاً ایسا نہیں کیا۔ 

درختوں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تصرف کے متعلق یہ حدیث ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا : میں کس طرح پہچانوں کہ آپ نبی ہیں ! آپ نے فرمای : اگر میں کھجور کے اس خوشہ کو درخت سے بلاؤں تو تم گواہی دو گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا تو کھجوروں کا وہ خوشہ درخت سے اترا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ کر گرگیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوٹ جاؤ تو وہ لوٹ گیا پھر وہ اعرابی مسلمان ہوگیا۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3648 ۔ مسند احمد ج 1، رقم الحدیث : 1954 ۔ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6523 ۔ المعجم الکبیر ج 12، رقم الحدیث : 12622 ۔ دلائل النبوۃ للبیہقی ج 6، ص 15، سنن داری رقم الحدیث : 24 ۔ جامع الاصول، ج 11، رقم الحدیث : 8895)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسجد کی چھت کھجور کے شہتیروں پر بائی گئی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے ایش ہتیر سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے۔ جب آپ کا منبر بنایا گیا اور آپ اس پر بیٹھ گئے تو ہم نے اس شہتیر کے رونے کی آواز سنی جس طرح اونٹنی اپنے بچے کے فراق میں روتی ہے حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے آپ نے اس پر ہاتھ رکھا تو وہ پرسکون ہوگیا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3585 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3647 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 1395 ۔ جامع الاصول، ج 11، رقم الحدیث : 8897 ۔ مسند احمد، ج 3، ص 300)

اور انسانوں پر تصرف کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت کعب بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ تبوک کے لیے جا رہے تھے تو اثناء سفر میں ہم نے ایک سفید پوش شخص کو ریگستان سے آتے ہوئے دیکھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کن ابا خیثمہ، ابو خیثمہ ہوجا تو وہ ابوخیثمہ ہوگیا۔ (صحیح مسلم توبہ، 53 (2769) 6883)

علامہ نوووی لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض نے فرمایا : کہ کن یہاں تحقق اور وجود کے لیے ہے یعنی اے شخص تجھے چاہیے کہ تو حقیقتاً ابوخیثمہ ہوجا۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ قاضی عیاضنے جو کہا ہے وہ صحیح ہے۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج 11، ص 6910، مطبوعہ مکتبہ الباز مکہ مکرمہ، 1417 ھ)

علامہ ابو العباس قرطبی مالکی متوفی 656 ھ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (المفہم، ج 7، ص 96، مطبعہ دار ابن کثیر، بیروت، 1417 ھ)

علامہ ابی مالکی متوفی 828 نے بھی قاضی عیاض کے حوالے سے یہی تقریر کی ہے۔ (اکمال اکمال المعلم، ج 9، ص 189، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

انبیاء کے اختیار میں معجزات ہونے پر ایک اشکال کا جواب : 

معجزات پر نبی کی قدرت نہ ہونے پر بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے : وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ لکل اجل کتاب : کسی رسول کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ کوئی شنانی لے آئے مگر اللہ کے اذن سے، ہر وعدہ کے لیے ایک نوشتہ تقدیر ہے۔ (الرعد :38)

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں نشانی (آیت) سے مراد کفار کے فرمائشی معجزات ہیں۔ اور اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ کوئی نبی اللہ کی دی ہوئی طاقت اور قدرت سے بھی کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا۔ اور اللہ تعالیٰ جب معجزات پر قدرت عطا فرماتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا اذن ہی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے اذن سے مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو تندرس کرتے تھے تھے اور اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ 

علامہ نووی شافعی متوفی 676 ھ اور علامہ محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ نے یہ حدیث جریج کی شرح میں لکھا ہے کہ بعض اوقات اولیاء اللہ کی کرامات ان کی طلب اور ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہیں اور یہی صحیح مذہب ہے۔ (شرح مسلم، ج 2، ص 314، مطبوعہ کراچی، عمدۃ القاری، ج 7، ص 283، مطبوعہ مصر) 

اور جب بعض اوقات الیاء اللہ کی کرامات ان کے اختیار سے واقع ہوتی ہیں تو بعض اوقات انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات کا ان کے اختیار سے واقع ہونا زیادہ لائق ہے۔ 

معجزات کے صدور میں علماء دیوبند کا موقف : 

علماء دیوبند کے نزدیک معجزہ صرف اللہ تعالیٰ کا فعل ہے، ظاہراً اور حقیقتاً نبی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے خلق کے لحاظ سے نہ کسب کے لحاظ سے اور نبی سے معجزہ کا صدور ایسے ہے جیسے کاتب کے قلم سے لکھنے صدور ہو جیسے قلم بےاختیار ہوتا ہے ایسے ہی نبی بےاختیار ہوتا ہے۔ شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی 1323 ھ نے اس موضوع پر فارسی میں ایک طویل مقالہ لکھا ہے جس کو مکمل نقل کرنا تو مشکل ہے۔ ہم اس کی بعض عبارات نقل کر رہے ہیں جن سے ان کے مسکل پر روشنی پڑتی ہے۔ 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی 1323 ھ لکھتے ہیں : 

عبض افعال خاصلہ الہیہ بعض اوقات فرشتوں اور نبیوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان افعال کے وقوع میں میں ان کی کوئی قوت، اختیار، قدرت اور اقتدار نہیں ہوتا، لہذا ان افعال کو کھانے اور پہننے کی طرح افعال اختیاریہ اور اعمال مقدور میں سے شمار نہیں کرنا چاہیے اور ان کی مثال کاتب اور قلم کی سی ہے، جس طرح لکھنے میں قلم کی کوئی قدرت اور اختیار نہیں ہے اسی طرح ان افعال کے صدور میں نبیوں کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل، ص 173، ملخصا، مطبوعہ کراچی)

مولانا حیدر علی ٹون کی نے اپنی بعض تصنیفات میں لکھا ہے : اور وہ جو عوام کا گمان ہے کہ کرامت اولیاء کا خود اپنا فعل ہوتا ہے یہ باطل ہے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس کو وہ ولی کے ہاتھ پر اس کی تکریم اور تعطیم کے لیے ظاہر فرماتا ہے اور ولی کا اور نہ ہی نبی کا اس کے صدور میں اختیار ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ و تقدس کے افعال میں کسی کا اختیار نہیں ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل، ص 175، مطبوعہ کراچی) ۔ بلکہ یہ اس پر مبنی ہے کہ معجزہ نبی کا فعل نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے جس کو اس نے نبی کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے افعال میں ان افعال کا کسب بندہ سے ہے اور ان افعال کا خلق خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور معجزہ میں بندہ کا کسب بھی نہیں ہوتا۔ پس اس آیت کا معنی یہ ہے : ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی : آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جب کہ آپ نے صورتاً خاک کی مٹھی پھینکی تھی لیکن وہ خاک کی مٹھی حقیقتاً اللہ نے پھینکی تھی ” (الانفال :17)

اور یہ معنی بھی مراد نہیں ہے کہ آپ نے خاک کی مٹھی خلقاً نہیں پھینکی جبکہ آپ نے خاک کی مٹھی کسباً پھینکی تھی، اس لیے کہ یہ بھی تمام افعال میں جاری ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص 176، مطبوعہ کراچی) 

سو افعال اختیاریہ میں عادتاً تصرف ہوتا ہے ظاہراً اور فعل حق تعالیٰ کا مخفی ہے اور معجزات و تصرفات میں ظاہر بھی عجز ہے مثل قلم کے۔ (فتاوی رشدیہ کامل، ص 177، مطبوعہ کراچی)

معجزات کے صدور میں علماء اہل سنت کا موقف : 

اس مسئلہ میں ہمارا موقف یہ ہے کہ معجزات اور کرامات ہوں یا عام افعال، تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ عام افعال عادیہ میں جس طرح عام مسلمانوں کا کسب اور اختیار ہوتا ہے اور ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح معجزات اور کرامات میں کسب اور اختیار انبیاء اور اولیاء کا ہوتا ہے اور ان افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ جیسا کہ ہم نے امام غزالی اور حافظ ابن حجر عسقلانی سے صراحتاً نقل کیا ہے اور شیخ ابن تیمیہ، علامہ نووی، علامہ عینی، علامہ تفتازانی اور علامہ میر سید شریف جرجانی ایسے محدثین، فقہاء صدور میں انبیاء اور اولیاء کا مطلقاً دخل نہیں ہوتا۔ خلقاً نہ کسباً جیسے قرآن مجید کا نزول۔ مردوں کو زندہ کرنا، چاند کا شق ہونا وغیرہ۔ 

شیخ رشید احمد گنگوہی نے اپنے موقف کے ثبوت میں لکھا ہے کہ وما رمیت اذ رمیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ نے خلقاً خاک کی مٹھی نہیں پھینکی جبکہ آپ نے کسباً خاک کی مٹھی پھینکی تھی لیکن اہل سنت کے معتمد اور مستند مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ آپ نے خاک کی مٹھی خلقاً نہیں پھینکی جبکہ آپ نے خاک کی مٹھی کسباً پھینکی تھی۔ ان عبارات کو نقل کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ اس آیت کا شان نزول اور پس منظر بیان کردیں : 

امام حسین بن محمد فرا بغوی متوفی 516 ھ لکھتے ہیں : مفسرین نے بیان کیا ہے کہ جب جنگ بدر کے دن مسلمانوں اور کافروں کے لشکر بالمقابل ہوئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاک آلود کنکریوں کی ایک مٹھی بھر کر کفار کے چہروں پر ماری اور فرمایا : ان کے چہرے قبیح ہوجائیں تو ہر کافر کی آنکھوں یا منہ یا نتھنوں میں اس میں سے کچھ نہ کچھ گرگیا اور اس کے بعد کافروں کو شکست ہوگئی۔ (معالم التنزیل، ج 2، ص 200، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1414 ھ)

واضح رہے کہ مفسرین نے لکھا ہے کہ خاک کی مٹھی کفار کے چہروں پر مارنے کا واقعہ جنگ بدر میں پیش آیا تھا۔ لیکن احادیث میں یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ حنین میں پیش آیا تھا۔ (صحیح مسلم مغازی، 81 (1777) 4539 ۔ مسند الحمیدی، رقم الحدیث 459 ۔ مسند احمد، ج 1، ص 207، طبع قدیم، مسند احمد، ج 1، رقم الحدیث : 1775، طبع جدید دار الفکر، جامع الاصول، ج 8، رقم الحدیث : 6161)

بہرحال خاک کی مٹھی ایک ہزار کافروں کے منہ پر ماری جائے اور وہ خاک ہر کافر کی آنکھوں اور منہ میں چلی جائے یہ فعل خرق عادت اور معجزہ ہے تو اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : ” وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی : اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں ماری جب آپ نے ماری تھی لیکن اللہ نے وہ مٹھی ماری تھی ” (الانفال :17)

شیخ رشید احمد گنگوہی نے لکھا ہے اس میں خلق اور کسب دونوں کی نفی ہے اور یہ معنی نہیں ہے کہ خاک کی مٹھی آپ نے خلقاً نہیں ماری جب آپ نے وہ مٹھی کسباً ماری تھی تاکہ معجزہ میں نبی کا کسب ثابت ہو لیکن اس کے برخلاف اہل سنت کے مستند اور معتمد مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے کہ خاک کی مٹھی آپ نے خلقاً نہیں جبکہ آپ نے وہ مٹھی کسباً ماری تھی اور معجزہ پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسب اور اختیار ثابت کیا ہے۔ 

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے خاک کی مٹھی مارنے کو ثابت بھی کیا ہے اور آپ سے اس کی نفی بھی کی ہے اس لیے معنی پر حمل کرنا واجب ہے جبکہ آپ نے خاک کی مٹھی خلقاً نہیں ماری اور کسباً ماری تھی۔ (تفسیر کبیر، ج 5، ص 466، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ نے بھی امام رازی کی اس عبارت کو نقل کرکے اس سے بندوں کے کسب کرنے پر استدلال کیا ہے۔ (روح المعانی، ج 9، ص 185) اس کے بعد مزید لکھتے ہیں : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو خاک کی مٹھی کو پھینکنا ثابت کیا گیا ہے اس سے ماد وہی مخصوس پھینکنا ہو جس نے عقلوں کو حیران کردیا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس کا اثبات حقیقتاً ہو کہ آپ نے یہ فعل اس قدرت سے کیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کی گئی تھی اور وہ قدرت اللہ تعالیٰ کے اذن سے موثر تھی۔ لیکن چونکہ عام انسانوں کی قدرت سے اس قسم کا اثر واقع نہیں ہوسکتا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی آپ سے نفی کی اور اس کو اپنے لیے ثابت فرمایا۔ (روح المعانی، ج 9، ص 186، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

علاہ ابو البرکات احمد بن محمد نفسی حنفی متوفی 710 ھ لکھتے ہیں : اس آیت میں یہ بیان ہے کہ بندہ کا فعل بندہ کا فعل بندہ کی طرف کسباً منسوب ہوتا ہے اور اللہ کی طرف خلقاً منسوب ہوتا ہے۔ (مدارک علی ھامش الخازن، ج 2، ص 185، مطبوعہ پشاور)

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی حنفی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں : اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے خلقاً وہ مٹھی نہیں پھینکی جب آپ نے کسباً وہ مٹھی پھینکی تھی۔ (عنایۃ القاضی علی البیضاوی، ج 4، ص 261، مطبوعہ دار صادر بیروت، 1283 ھ)

علامہ سلیمان بن عمر المعروف بالجمل متفی 1204 ھ لکھتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فعل کی نفی باعتبار ایجاد کے حقیقتاً ہے اور آپ کے لیے فعل کا اثبات باعتبار کسب ہے۔ (الفتوحات الالٰہیہ، ج 2، ص 235، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ، کراچی)

ان کثیر حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ انبیاء (علیہم السلام) سے بہ اعتبار کسب کے معجزات صادر ہوتے ہیں اور ان کو خلق اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور اس کے اذن سے ان معجزات کو صادر کرتے ہیں۔ البتہ جن معجزات کے ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کا فعل متعلق نہیں ہوتا وہ محض اللہ تعالیٰ کا فعل ہیں جیسے قرآن مجید کا نزول، مردوں کو زندہ کرنا اور چاند کا شق ہونا۔ مدت سے یہ ارادہ تھا کہ میں معجزات کے متعلق ایک مفصل بحث لکھیں۔ اللہ ت عالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھ کو اب یہ توفیق عطا کی۔ وما توفیقی الا باللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

پہلے تکذیب کرنے کی وجہ سے بعد میں ایمان نہ لانے کی توجیہات : 

اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کی خبریں بیان کرتے ہوئے فرمایا : بیشک ان بستیوں والوں کے پاس ان کے رسول واضح معجزات لے کر آئے ہیں پس وہ ان پر یمان لانے کے لیے بالکل تیار نہ ہوئے کیوں کہ اس سے پہلے وہ ان کی تکذیب کرچکے تھے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ 

حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے پہلے تکذیب سے مراد یہ ہے کہ عالم میثاق میں جب ارواح سے اللہ ت عالیٰ کی ربوبیت ماننے کا عہد لیا گیا تو انہوں نے ناپسندیدگی سے زبانی اقرار کیا تھا اور دل میں تکذیب قائم رکھی تھی اور اسی سابق تکذیب کی وجہ سے انہوں نے عالم اجسام میں آنے کے بعد بھی تکذیب کی۔

دوسری توجیہ یہ ہے کہ شروع میں جب انبیاء (علیہم السلام) نے ان کو تبلیغ کی اور توحید کی دعوت دی تو انہوں نے اپنے باپ دادا کی تقلید کی وجہ سے انکار کردیا۔ پھر بعد میں جب ان پر دلائل اور معجزات کی وجہ سے حق واضح ہوگیا تو پھر انہوں نے اپنے سابق انکار سے رجوع کرنا اپنے لیے باعث عار اور اپنی انا کے خلاف سمجھا اور اسی انکار پر قائم رہے۔ اس کی تیسری توجیہ یہ ہے کہ اگر ہم ان کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کردیں اور پھر ان کو دنیا میں بھیجیں تو یہ پھر بھی اللہ، اس کے رسول اور احکام شرعیہ کی تکذیب کریں گے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے : ” ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ : اور اگر انہٰں دنیا میں لوٹا دیا گیا تو پھر یہ دوبارہ وہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا تھا ” 

اس کی چوتھی توجیہ یہ ہے کہ رسولوں کے آنے سے پہلے یہ کفر پر اصرار کرتے تھے تو رسولوں کے آنے کے بعد بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پانچویں توجیہ یہ ہے کہ معجزات دیکھنے سے پہلے یہ کفر کرتے تھے تو معجزات دیکھنے کے بعد بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 

اس کے بعد فرمایا : اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ یعنی جب یہ کفر اور سرکشی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں تو بہ طور سزا اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 101