أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖ فَظَلَمُوۡا بِهَا‌ ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی جماعت کو بھیجا سو انہوں نے ان نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، تو آپ دیکھیے کہ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی جماعت کو بھیجا سو انہوں نے ان نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، تو آپ دیکھیے کہ فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا “

حضرت آدم سے حضرت موسیٰ اور حضرت موسیٰ سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کا زمانہ : 

امام محمد بن سعد نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس قرن ہیں اور وہ سب اسلام پر تھے۔ (الطبقات الکبری ج 1، ص 42، مطبوعہ دار صادر، بیروت)

نیز امام محمد بن سعد نے محمد بن عمر بن واقد اسلمی سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح کے درمیان دس قرن ہیں اور قرن ایک سو سال کی مدت ہے۔ اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کے درمیان دس قرن ہیں اور حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ بن عمران کے درمیان دس قرن ہیں اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ بن عمران اور حضرت عیسیٰ کے درمیان ایک ہزار نو سو سال ہیں اور اس زمانہ میں رسالت منقطع نہیں تھی اور اس مدت میں بنو اسرائیل کی کی طرف ایک ہزار نبی بھیجے گئے اور حضرت عیسیٰ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے میلاد کے درمیان پانچ سو انہتر سال کی مدت ہے۔ (الطبقات الکبری ج 1 ص 53، مطبوعہ دار صادر، بیروت)

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے تین ہزار سال بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے پانچ ہزار چار سو انہتر سال بعد ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت ہوئی اور یہ 1419 ھ ہے۔ اس حساب سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی ولادت سے اب تک 6941 سال گزر چکے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب۔

امام ابو القاسم علی بن الحسن ابن عساکر متوفی 571 ھ لکھتے ہیں : سب سے پہلے جس نبی کو مبعوث کیا گیا وہ حضرت ادریس ہیں۔ پھر حضرت نوح، پھر حضرت ابراہی، پھر حضرت اسماعیل، پھر حضرت اسحاق، پھر حضرت یعقوب بن اسحاق پھر حضرت یوسف بن یعقوب، پھر حضرت لوط، پھر حضرت ھود، پھر حضرت صالح، پھر حضرت شعیب، پھر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام۔ (یہ امام ابن عساکر کی تحقیق ہے اور حافظ ابن کثیر کے نزدیک سب سے پہلے حضرت نوح کو مبعوث کیا گیا) (مختصر تاریخ دمشق ج 25 ص 300، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1409 ھ)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش، پرورش، نکاح، نبوت اور فرعون کو تبلیغ :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب اس طرح ہے : حضرت موسیٰ بن عمران بن قاھث بن عزر بن لادی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) (البدایہ والنہایہ ج 1، ص 237، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

امام عبدالرحمان بن علی الجوزی المتوفی 597 ھ لکھتے ہیں : علماء سیرت نے بیان کیا ہے کہ کاہنوں نے فرعون (فرعون، مصر کے بادشاہوں کا لقب ہے۔ اس کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا، جدید تحقیق یہ ہے کہ یہ ریمیس ثانی کا بیٹا منفتاح تھا اس کا دور حکومت 1292 قبل مسیح سے لے کر 1225 قبل مسیح پر ختم ہوتا ہے) سے کہا کہ بنو اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں سے تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ تب فرعون نے حکم دیا کہ بنو اسرائیل کے نومولود بیٹوں کو قتل کردیا جائے۔ پھر قبطیوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اگر تم اسی طرح بنو اسرائیل کے نومولود بیٹوں کو قتل کرتے رہے تو ہماری خدمت کے لیے بنو اسرائیل میں سے کوئی باقی نہیں بچے گا ! تب وہ ایک سال پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کرا دیتا اور ایک سال پیدا ہونے والے بیٹوں کو چھوڑ دیتا۔ 

حضرت ہارون (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جس سال کے بیٹوں کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سال پیدا ہوئے جس سال کے بیٹوں کو قتل کرانا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت ہارون کی پیدائش کے ایک سال بعد پیدا ہوئے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت ہارون کی پیدائش کے تین سال بعد پیدا ہوئے۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ فرعون نے ستر ہزار نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرا دیا۔ جب حضرت موسیٰ کی والدہ کو حضرت موسیٰ کا حمل ہوا تو کسی کو معلوم نہیں ہوا اور انہوں نے حضرت موسیٰ کی ولادت کی۔ ان کی بہن مریم کے سوا اور کسی کو خبر نہیں دی۔ جب حضرت موسیٰ پیدا ہوئے تو ڈھونڈنے والے ان کے پاس پہنچے انہوں نے حضرت موسیٰ کو تنور میں ڈال دیا لیکن وہ سلامت رہے۔ پھر انہوں نے تین ماہ تک ان کو چھپا کر رکھا۔ پھر ان کو اندیشہ ہوا تو انہوں نے حضرت موسیٰ کو تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دیا۔ پانی اس تابوت کو بہا کر فرعون تک لے گیا۔ فرون نے جب تابوت کھولا اور ان کو دیکھا تو کہا یہ میرے دشمن عبرانیوں میں سے ہے یہ ذبح ہونے سے کیسے بچ گیا ! اس کی بیوی آسیہ نے کہا یہ ایک سال سے بڑی عمر کا ہے اور تم نے اس سال پیدا ہونے والے لڑکوں کو ذبح کا حکم دیا تھا۔ اس کو چھوڑ دو یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا۔

فرعون کے ہاں صرف بیٹیاں پیدا ہوتی تھیں اس لیے اس نے حضرت موسیٰ کو رہنے دیا اور ان سے محبت کرنے لگا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے گھر پہنچ گئے انہوں نے ان کی بہن مریم کو فرعون کے ہاں بھیجا تاکہ معلوم ہو کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے۔ ان کی بہن دوسری عورتوں کے ساتھ آسیہ کے پاس گئیں اور وہاں معلوم ہوا کہ بہت سی دودھ پلانے والی عورتوں کو بلایا گیا ہے لیکن حضرت موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ تب حضرت موسیٰ کی بہن نے کہا : ” ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ ناصحون : آیا میں تمہیں ایسے گھروالوں کی طرف رہنمائی کروں جو تمہارے لیے اس بچہ کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں ” (القصص :12)

انہوں نے پوچھا وہ کون ہیں ؟ اس نے کہا وہ عمران کی بیوی حنہ ہے۔ انہوں نے اس کو بلوایا۔ حضرت موسیٰ کی والدہ آئیں تو حضرت موسیٰ نے ان کا دودھ پی یا اور سو گئے۔ 

جب حضرت موسیٰ کے دودھ پینے کی مدت ختم ہوگئی تو ایک دن فرعون کو اپنی گود میں لے کر بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون کی داڑھی پکڑ کر کھینچ لی۔ فرعون کے کہا جلاد کو بلاؤ اس کو ابھی ذبح کراتے ہیں۔ آسیہ نے کہا : یہ ناسمجھ بچہ ہے پھر اس نے یاقوت اور انگارے حضرت موسیٰ کے سامنے ڈالے۔ حضرت موسیٰ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا جس سے ان کی زبان جل گئی اور اس میں لکنت پیدا ہوگئی جس کو دور کرنے کے لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی : ” واحلل عقدۃ من لسانی۔ یفقہوا قولی : اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ لیں ” (طہ :27 ۔ 28) ۔ 

پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوگئے وہ فرعون کی سواریوں پر سوار ہوتے اور اس کی طرح لباس پہنتے۔ اور لوگ انہیں موسیٰ بن فرعون کہتے تھے۔ ایک دن حضرت موسیٰ شہر گئے تو وہاں دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کی قوم بنو اسرائیل سے تھا اور دوسرا ان کے دشمن قبطیوں میں سے تھا۔ اس اسرائیلی نے قبطی کے خلاف حضرت موسیٰ سے مدد طلب کی۔ حضرت موسیٰ نے قبطی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ مرگیا۔ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس کو گھونسا مارنا تادیباً تھا۔ آپ کا اس کو قتل کرنے کا قسد نہیں تھا اور نہ عادتاً ایک گھونسا کھا کر کوئی مرتا ہے۔ وہ قضاء الٰہی سے مرگیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فعل کسی وجہ سے بھی گناہ نہیں تھا۔ آپ کا اس پر نادم ہونا اور اس پر استغفار کرنا آپ کے انکسار اور تواضع کی وجہ سے تھا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس قتل پر نادم ہوئے اور آپ اپنے گرفتار ہونے کی وجہ سے خوف زدہ تھے۔ دوسرے دن وہ اسرائیل کسی اور شخص سے لڑ رہا تھا اور اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پھر اس کے خلاف مدد طلب کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اسرائیلی کی مدد کا ارادہ کیا اور اس نے غلط فہمی کی وجہ سے یہ سمجھا کہ شاید آپ اس کو مارنے لگے ہیں۔ اس نے کہا : کیا آپ مجھے اس طرح قتل کرنا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے کل ایک شخص کو قتل کردیا تھا (القصص : 15 ۔ 18) تب لوگوں کو معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ قاتل ہیں۔ وہ حضرت موسیٰ کو پکڑنے کے لیے نکلے حضرت موسیٰ خوف زدہ ہو کر اس شہر سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مدین کے راستہ پر لگا دیا۔ (المنتظم، ج 1، ص 217 ۔ 219، طبع بیروت)

اس کے بعد کا واقعہ سورة القصص میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے : (حضرت) موسیٰ مدین پہنچے تو دیکھا وہاں لوگ ایک کنوئیں سے پانی نکال رہے ہیں اور اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے دور ایک طرف دو عورتیں کھڑی ہیں جو اپنے جانوروں کو پانی کی طرف جانے سے روک رہی ہیں۔ (حضرت) موسیٰ نے ان سے پوچھا تم کیوں الگ کھڑی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک کہ یہ لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا کر واپس لے جائیں اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں تو (حضرت) موسیٰ نے ان کی بکریوں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف آگئے اور کہا : اے میرے رب میں یقیناً اس خیر اور برکت کا محتاج ہوں جو تو نے مجھ پر نازل کی ہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد ان دو عورتوں میں سے ایک عورت شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اس نے کہا : میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو پانی پلانے کی اجرت دیں، جب (حضرت) موسیٰ ان لڑکیوں کے باپ کے پاس گئے تو انہوں نے ان کو اپنے حالات بتائے، ان لڑکیوں کے والد نے کہا : آپ ڈریں نہیں ! آپ نے ظالم لوگوں سے نجات پا لی ہے۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے کہا : اے اباجان آپ انہیں اجرت پر رکھ لیں، بیشک آپ جس کو اجرت پر رکھیں ان میں وہی بہترین ہے جو قوی اور امانت دار ہو۔ ان کے والد نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں اس (مہر) پر کہ تم آٹھ سال تک اجرت پر میرا کام کرو اور اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہاری طرف سے (تبرع) ہوگا، اور میں تم کو مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتا، تم انشاء اللہ مجھے نیکوکاروں میں سے پاؤگے۔

(حضرت) موسیٰ نے کہا : یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی میں ان میں سے جو مدت بھی پوری کردوں تو مجھ پر کوئی تاوان نہیں اور ہمارے قول پر اللہ نگہبان ہے۔ پھر جب (حضرت) موسیٰ نے مدت پوری کردی تو وہ اپنی بیوی کو لے کر چلے تو انہوں نے پہاڑ طور کی طرف ایک آگ دیکھی، انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا : ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس اس کی کچھ خبر لاؤں یا آگ کی کوئی چنگاری لاؤں تاکہ تم تاپو۔ پھر جب (حضرت) موسیٰ آگ کے پاس آئے تو انہیں میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے مقام میں ایک درخت سے ندا کی گئی کہ اے موسیٰ ! بیشک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا پروردگار، اور یہ کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں پھر جب (حضرت) موسیٰ نے اسے اس طرح لہراتے ہوئے دیکھا گویا وہ سانپ ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر چل دیے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (ندا آئی) اے موسیٰ ! سامنے آئیے اور خوف نہ کیجیے بیشک آپ امن والوں میں سے ہیں۔ آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے وہ سفید چمکتا ہوا بےعیب نکلے گا، اور اپنا بازو اپنی طرف (سینے سے) ملائیں خوف دور ہونے کے لیے، سو یہ دو مضبوط دلیلیں آپ کے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف (آپ دعوت دیں) بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔ (حضرت) موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کردیا تھا میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ اور میرے بھائی ہارون جو مجھ سے زیادہ فصیح زبان والے ہیں تو انہیں میری مدد کے لیے میرے ساتھ رسول بنا کر بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کریں بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔ فرمایا : ہم عنقریب آپ کے بازو کو آپ کے بھائی کے ساتھ مضبوط کردیں گے اور آپ دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے تو وہ ہماری نشانیوں کے باعث آپ تک نہ پہنچ سکیں گے، آپ اور آپ کے متبعین ہی غالب رہیں گے۔ پس جب ان کے پاس (حضرت) موسیٰ ہماری کھلی ہوئی نشانیاں لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا : یہ تو صرف من گھڑت جادو ہے اور ہم نے یہ باتیں اپنے پہلے باپ دادا کے زمانہ میں (کبھی) نہیں سنیں اور (حضرت) موسیٰ نے کہا : میرا رب اس کو خوب جانتا ہے جو میرے رب کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے (اور وہ خوب جانتا ہے) کہ آخرت کا انجام کس کے لیے اچھا ہوگا، بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ اور فرعون نے کہا : اے درباریو ! میں تمہارے لیے اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا سو اے ھامان ! میرے لیے کچھ اینٹوں کو آگ سے پکاؤ پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بنانا تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میں اس کو جھوٹوں سے گمان کرتا ہوں۔ فرعون اور اس کے لشکر نے زمین میں بےجا تکبر کیا اور یہ زعم کیا کہ وہ ہماری طرف نہیں لوٹائے جائیں گے تو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ لیا سو ہم نے ان سب کو دریا میں پھینک دیا تو آپ دیکھئے کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ (القصص : 23 ۔ 40)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے اہم واقعات کو قرآن مجید کی اس سورت اور دیگر سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ ان کی تفصیل اور تحقیق ہم ان آیتوں کی تفسیر میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ملک الموت آئے اور کہا : اپنی رب کی دعوت پر چلئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک تھپڑ مارا اور ملک الموت کی آنکھ نکال دی۔ ملک الموت اللہ کے پاس گئے اور عرض کیا : تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا ہے جس کا مرنے کا رادہ ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ لوٹا دی اور فرمایا : میرے بندہ کے پاس جا کر کہو تم زندگی چاہتے ہو، اگر تم زندگی چاہتے ہو تو ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دو ، جس قدر بال آپ کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے، آپ اتنے سال زندہ رہیں گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا : پھر کیا ہوگا ؟ کہا پھر موت ہوگی ؟ فرمایا : پھر ابھی عنقریب، اے میرے رب ! مجھے ارض مقدسہ سے ایک پتھر پھینکنے کے فاصلے پر موت عطا فرمانا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں اس جگہ ہوتا تو میں تمہیں ان کی قبر راستے کے ایک جانب کثیب احمر کے پاس دکھاتا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 3407، 1339 ۔ صحیح مسلم فضائل انبیاء : 157 ۔ 158 (2372) 6034 ۔ 6033 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 2089، مسند احمد، ج 2، ص 369، 315) امام عبدالرحمن بن علی بن جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : ابو عمران جونی نے کہا جب موسیٰ (علیہ السلام) پر موت کا وقت آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) رو رہے تھے، فرمایا : میں موت کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ اس لیے رو رہا ہوں کہ موت کے وقت میری زبان ذکر الٰہی سے خشک ہوجائے گی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تین بیٹیاں تھیں۔ ان کو بلا کر فرمایا : اے میری بیٹیو ! عنقریب بنو اسرائیل تمہارے سامنے دنیا پیش کریں گے تم اس میں سے کسی چیز کو قبول نہ کرنا۔ علماء سیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی وفات کے تین سال بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بعد حضرت یوشع کے لیے وصیت کی تھی اور آپ باب لد پر فوت ہوئے تھے۔ 

امام ابوجعفر طبری نے کہا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت موسیٰ سرزمین شام میں فوت ہوئے یا نہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ میدان تیہ میں فوت ہوئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سب میدانِ تیہ میں فوت ہوئے اور حضرت یوشع کے سوا کوئی بیت المقدس میں داخل نہیں ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ چالیس سال بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنو اسرائیل کے ساتھ میدان تیہ سے نکل آئے تھے اور بنو اسرائیل سے فرمایا تھا : اس بستی میں داخل ہوجاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ۔ امام ابن جریر نے کہا یہی قول صحیح ہے۔ اور حضرت موسیٰ نے ہی بنو اسرائیل کے نیک لوگوں کے ساتھ جبارین کی اس بستی کو فتح کیا تھا۔ کیونکہ اہل سیرت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت موسیٰ نے ہی عوج بن عنق سے قتال کیا تھا۔ عوج ان کا بادشاہ تھا اور بلعام ان لوگوں میں سے تاھ جن کو حضرت موسیٰ نے قید کیا تھا اور پھر قتل کردیا تھا۔ (تاریخ طبری، ج 1، ص 434 ۔ 436، ملخصاً )

ابو الحسین بن المناوی نے کہا یہود کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کہا ہے اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو خدا بنا لیتے۔ (المنتظم ج 1، ص 253 ۔ 254، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

حافظ ابوالقاسم علی بن حسن بن عساکر متوفی 571 ھ لکھتے ہیں : جب حضرت موسیٰ اپنی والدہ، اپنی اولاد اور اپنی اہلیہ سے الوداع ہوگئے تو آپ نے حضرت یوشع کو بلایا اور انہیں لوگوں پر خلیفہ بنادیا اور ملک الموت کے پاس گئے ملک الموت نے ان سے کہا : اے موسیٰ موت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا : مجھ پر اللہ کا حکم جاری کردو۔ وہ دونوں بستی سے نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل اور حضرت اسرافیل کھڑے ہوئے ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔ پھر وہ سب مل جل کر چلنے لگتے حتی کہ وہ ایک قبر کے پاس سے گزرے جس پر سفید عمامہ باندھے ہوئے لوگ کھڑے تھے ان سے مشک کی خوشبو آرہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے ان سے پوچھا : تم یہ کس کی قبر کھود رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ایک ایسے بندہ کی جس سے اللہ محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے کہا : کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اس قبر میں اتر کر اس کو دیکھ لوں ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قبر میں اترے تو وہ جنت تک کشادہ کردی گئی اور جنت کی تروتازگی اور اس کی خوشبو پہنچنے لگی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس قبر میں لیٹ گئے پھر دعا کی اے اللہ مجھے وہ بندہ بنا دے جس سے تو محبت کرتا ہے اور وہ تجھ سے محبت کرتا ہے پھر ملک الموت نے ان کی روح کو قبض کرلیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) نے آگے بڑھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔ (مختصر تاریخ دمشق ج 25، ص 392 ۔ 393، الکامل فی التاریخ، ج 1، ص 112)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شب معراج میں کثیب احمر کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب سے گزرا وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوئے نماز پڑ رہے تھے۔ (صحیح مسلم فضائل 164 (2374) 2375، سنن النسائی : 1631)

علامہ بدر الدین محمد بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کس جگہ واقع ہے اس میں اختلاف ہے اور اس سلسلہ میں حسب ذیل اقوال ہیں :

1 ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی قبر میدان تیہ میں ہے۔ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک پتھر پھینکنے کے فاصلہ کے برابر ارض مقدسہ میں داخل ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کی قبر معلوم نہیں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مبہم رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا : اگر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی قبروں کو یہود جان لیتے تو ضرور ان کو اپنا خدا بنا لیتے۔ ابن اسحاق نے کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کا صرف رخمہ کو علم تھا یہ وہ شخص ہے جو اس پر مطلع تھا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کو میدان تیہ میں دفن کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل سلب کرلی تاکہ وہ کسی کو بتا نہ سکے۔

2 ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بیت المقدس کے باب لد کے قریب ہے۔ طبری نے کہا : یہی قول صحیح ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قول کیسے صحیح ہوسکتا ہے حالانکہ حضرت ابن عباس، وہب اور عام علماء نے یہ کہا ہے کہ ان کی قبر میدان تیہ میں ہے۔ 

3 ۔ حافظ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ذکر کیا ہے کہ ان کی قبر عالیہ اور عویلہ کے درمیان ہے اور یہ مسجد قدم کے نزدیک دو محلے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ان کی قبر خواب میں وہاں دکھائی گئی تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ عالیہ معروف جگہ ہے اور عویلہ ایک گرجے کے پاس ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق، ج 25، ص 398، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1409 ھ)

4 ۔ بصری اور البلقاء کے درمیان وادی مآب میں ان کی قبر ہے۔ 

5 ۔ حافظ ابو القاسم نے کعب الاحبار سے روایت کیا ہے کہ ان کی قبر دمشق میں ہے اور حافظ ابن حبان نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر مدینہ اور بیت المقدس کے درمیان مدین میں ہے۔ اس پر محمد بن عبدالواحد الضیاء نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مدین بیت المقدس کے قریب ہے نہ ارض مقدسہ کے، اور مشہور یہ ہے کہ ان کی قبر اریحا میں ہے جو ارض مقدسہ میں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر کثیب احمر کے پاس ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اور اس قبر کے پاس دعا مستجاب ہے۔

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں : بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیت المقدس کے قریب موت کی دعا کی اور بیت المقدس میں مدفون ہونے کی دعا نہیں کی۔ کیونکہ ان کو یہ خدشہ تھا کہ ان کی قبر لوگوں میں مشہور ہوجائے گی تو لوگ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گے۔ اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ فضیلت والی جگہوں میں دفن ہونا مستحب ہے اور صالحین کی قبروں کے پاس مدفون ہونا مبارک ہے۔ (صحیح مسلم بشر النواوی، ج 10، ص 6231 ۔ 6232، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 103