حدیث نمبر :687

روایت ہی حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزروں تو کچھ چرلیا کرو ۱؎ عرض کیا گیا کہ حضور جنت کے باغ کیا ہیں؟فرمایا مسجدیں عرض کیا گیا چرنا کیا ہے یارسول اﷲ؟ فرمایا سبحان اﷲ والحمدﷲ اور لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر کہنا۲؎(ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی اگر تم مسجدوں میں نماز کے لئے نہ بھی جاؤ بلکہ ویسے ہی وہاں سے گزر جاؤ تب بھی کچھ پڑھ لیا کرو کیونکہ باغ میں جا کر بغیر کچھ کھائے واپس آنا محرومی ہے،خصوصًا جب کہ باغ کا مالک سخی ہو۔

۲؎ جنت میں جسمانی غذائیں ہوں گی اور نہ مٹنے والے میوے جن پرکوئی روک ٹوک نہیں ایسے ہی مساجد میں اﷲ کے ذکر کی روحانی غذائیں ہیں جن کے لیے فنا نہیں اسی لیے سیدناعلی مرتضی فرماتے ہیں کہ اگر رب مجھے جنت اور مسجد میں جانے کا اختیار دے تو میں جنت کی بجائے مسجد کو اختیار کروں۔علماء فرماتے ہیں کہ جو شخص اس وقت مسجد میں جائے جب نفل مکروہ ہوتے ہیں تو یہ کلمات پڑھ لے ان شاءاﷲ تحیۃ المسجد کا ثواب پائے گا۔ایک حدیث میں ہے کہ معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام نے حضور علیہ السلام سے عرض کیا کہ اپنی امت سے میرا سلام کہنا اورفرمانا کہ جنت کی بہت سی زمین خالی پڑی ہے اس میں بوٹے لگا کر آؤ،وہاں کے بوٹے یہ کلمات ہیں “سُبْحَانَ اﷲِ”الخ۔(مرقاۃ)