حدیث نمبر :689

روایت ہے حضرت فاطمہ بنت حسین سے ۱؎ وہ اپنی دادی حضرت فاطمۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے راوی۲؎ فرماتی ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمدمصطفی پر درود و سلام بھیجتے ۳؎ اورفرماتے الٰہی میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلتے تو جناب مصطفےٰ پر درود و سلام بھیجتے اورفرماتے یارب میرے گناہ بخش دے میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۴؎(ترمذی احمد،ابن ماجہ)ان دونوں کی روایت میں یہ بھی ہے کہ فرماتی ہیں جب مسجد میں جاتے اوریونہی جب نکلتے تو بجائے صلوۃ وسلام کے یہ کہتے بسم اﷲ والسلام علی رسول اﷲ ۵؎ ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد متصل نہیں فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبرےٰ کو نہ پایا ۶؎

شرح

۱؎ آپ کا لقب فاطمہ صغریٰ ہے،امام حسین کی صاحبزادی اور امام زین العابدین کی بہن ہیں،حسین ابن حسن ابن علی کے نکاح میں تھیں،ان کی وفات کے بعدعبداﷲ ابن عمرو ابن عثمان ابن عفان کے نکاح میں آئیں۔جلیل القدر تابعین میں سے ہیں،یعنی صحابۂ کرام کی صحبت یافتہ۔

۲؎ آپ کا لقب فاطمۃ الکبریٰ ہے،حضورعلیہ السلام کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں،خدیجۃ الکبریٰ سے ہیں،ماہ رمضان ۲ھ؁ میں سیدنا علی مرتضی کے نکاح میں آئیں،اور ذی الحجہ میں رخصتی ہوئی،دو بیٹے اورتین بیٹیاں چھوڑ یں،حسن،حسین،زینب،ام کلثوم،رقیہ،حضورعلیہ اسلام کی وفات کے چھ ماہ بعد وفات پائی،۲۸ سال عمر ہوئی،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا،حضرت عباس یا ابوبکر صدیق نے نمازجنازہ پڑھائی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ سے بڑھ کرسچا نہ دیکھا۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسجد میں جاتے وقت درود شریف پڑھنا سنت ہے۔شفا شریف میں ہےکہ خالی گھر اور مسجد میں جاتے وقت یہ پڑھے “اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَبَرَکَاتُہٗ”۔دوسرے یہ کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم خودبھی اپنے پر درود سلام پڑھتے تھے کبھی “صَلَّی اﷲُ عَلےٰ مُحَمَّد وَسَلَّم”اورکبھی “صَلَّے اﷲُ عَلیَّ وَ سَلَّمَ” فرماتے۔

۴؎ ان دو جملوں کی تفسیر اسی باب میں پہلے گزر چکی۔حضورعلیہ السلام کا گناہوں کی بخشش مانگنا یا تو ہمیں سکھانے کے لیے ہے یا گناہوں سے اپنی امت کے وہ گناہ مراد ہیں جن کا بخشوانا ان کے ذمۂ کرم پر ہے،جیسے مقدمہ کا وکیل کہتا ہے میرا مقدمہ۔اس کی نفیس ولذیذتحقیق ہماری “تفسیرنعیمی”،خورد سورۂ فتح “لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ “کے ماتحت دیکھو۔

۵؎ سنت ہے کہ یہ الفاظ اب بھی کہے جائیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری ہر جگہ ہے،ورنہ غائب کو سلام کیسا؟ ہرنمازی التحیات میں پڑھتا ہے”اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ “۔

۶؎ کیونکہ حضرت فاطمہ کبرےٰ کی وفات کے وقت آپ کے والد امام حسین کی عمر اٹھ سال تھی،لہذاکسی راوی کا نام چھوٹ گیا،جس نے حضرت فاطمہ زہرا سے سنا ہو۔مرقاۃ میں ہے وہ راوی خود آپ کے والد امام حسین ہیں،چنانچہ ابن مردویہ نے اس کی اسنادیوں بیان کی “فاطمۃ بنت الحسین عن حسین عن فاطمۃ الکبریٰ”۔