سجدہ ٔسہو کے متعلق کچھ ضروری مسائل:

مسئلہ: اگر نماز میں امام سے سہو ہوا اور سجدہ ٔ سہو واجب ہوا تو مقتدی پر بھی سجدہ ٔ سہو واجب ہے اگرچہ کوئی مقتدی امام کو سہو واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا ہو ۔ مثال کے طور پر عشاء کی نماز کے فرض کے قعدہ ٔ اولیٰ میں امام نے التحیات کے بعد درود شریف پڑھ لیا لہٰذا سجدہ ٔ سہو واجب ہوگیا ۔ اب اگر کوئی مقتدی تیسری رکعت میں یعنی امام کی غلطی واقع ہونے کے بعد جماعت میں شامل ہوا جب بھی مقتدی پر سجدہ سہو واجب ہے ۔ وہ مقتدی بھی امام کے ساتھ سجدہ ٔ سہو کرے بعدہٗ اپنی نماز پوری کرے ۔ (ردالمحتار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص۵۴)

مسئلہ: مسبوق مقتدی نے امام کے ساتھ سجدہ ٔ سہو کیا پھر جب اپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھنے کھڑا ہوا تو اس میں بھی اگر سہو واقع ہوا تو اپنی نماز کے آخر میں سجدہ ٔ سہو کرے ۔ (درمختار ، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۵۴)

مسئلہ: اگر مقتدی سے بحالت اقتدا سہو واقع ہوا تو مقتدی کو سجدہ ٔ سہو کرنا واجب نہیں اور نماز کا اعادہ بھی اس کے ذمہ نہیں ۔( (۱) درمختار ، (۲)تبیین الحقائق ، جلد ۱ ص ۱۹۵،ا (۳)بحرا لرائق ، جلد ۲ ، ص ۱۰۸ ،(۴) فتاوٰی ہندیہ ، جلد ۱ ص ۱۲۸ ،(۵) معانی الآثار ، جلد ۱ ، ص ۲۳۸ ، (۶) بدائع الصنائع ، جلد ۱ ، ص ۱۷۵ ،(۷) بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۵۴، (۸) فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص ۶۴۲)

مسئلہ: مسبوق مقتدی جب تک اپنی فوت شدہ نماز ادا نہ کرلے اس وقت تک اسے سلام پھیرنا ممنوع ہے۔ امام نے سجدہ ٔ سہوکے لئے ایک طرف سلام پھیرا تو اس سلام میں مسبوق مقتدی امام کی متابعت نہیں کرسکتا ۔ علاوہ ازیںسجدہ ٔسہو کرنے کے بعد امام نے نماز ختم کرنے کے لئے سلام پھیرا ا س میں بھی مسبوق مقتدی امام کے ساتھ سلام نہیں پھیر سکتا ۔ المختصر ! امام سجدہ ٔ سہو سے پہلے اور سجدہ ٔ سہو کے بعد میںجو سلام پھیرتا ہے ان دونوں سلام میں مسبوق مقتدی نے اگر قصداً شرکت کی تو اس کی نماز جاتی رہے گی کیونکہ یہ سلام عمدی ( جان بوجھکر) ہے اور اسکے سبب سے نماز میں خلل واقع ہوا ۔ اور … اگر مسبوق نے سہواً ( بھول کر) امام کے ساتھ سلام پھیرا تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی بلکہ اگر مسبوق نے امام کے سجدہ ٔ سہو کے پہلے والے یا بعد والے کسی بھی سلام میں سہواً ( بھول کر) امام سے پہلے یا امام کے ساتھ معاً بلا وقفہ یعنی امام کے ساتھ ساتھ سلام پھیرا تو مقتدی پر سجدہ ٔ سہو بھی لازم نہیں کیونکہ وہ ابھی تک (ہنوز) مقتدی ہے اور مقتدی پر خود اپنے سہو کی وجہ سے سجدہ ٔسہو لازم نہیں۔

البتہ اگر مسبوق نے امام کے سجدہ ٔ سہو کے بعد والے یعنی نماز ختم کرنے کے لئے آخری سلام کے بعد یعنی امام کے سلام پھیرنے کے کچھ وقفہ کے بعد سہواً ( بھول کر) سلام پھیرا تو اس پر دوبارہ سجدہ ٔ سہو واجب ہے ۔ اگرچہ وہ امام کے ساتھ سجدہ ٔ سہو کرچکاہے ۔ لہٰذامسبوق اپنی نماز کے آخر میں سجدہ ٔ سہو کرے کیونکہ تب وہ منفرد ہوچکا تھا ۔ ایک اہم جزیہ یاد رکھیں کہ مسبوق مقتدی امام کے سجدہ ٔ سہو میں امام کی پیروی کرے گا مگر سجدہ ٔ سہو کے سلام میں امام کی پیروی نہیںکرسکتا ۔ ( خزانۃ المفتین ،حلیہ شرح منیہ ، بحر الرائق ، حاشیہ مراقی الفلاح اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۴)

مسئلہ: امام پر سجدہ ٔ سہو واجب نہ تھا اور اس نے بھول کر سجدہ ٔ سہو کیا تو امام اور ان مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی جن کی کوئی رکعت نہیں چھوٹی لیکن مسبوق یعنی جس کی کچھ رکعت چھوٹی اور وہ مقتدی جو سجدہ ٔ سہو میں جانے کے بعد جماعت میں شامل ہوئے ان کی نماز نہ ہوئی ۔ ( درمختار ، ردالمحتار، خزانۃ المفتین ، فتاوٰی امام قاضی خان ، طحطاوی علی مراقی الفلاح ،محیط اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۴)

مسئلہ: قعدہ ٔ اخیرہ میں گمان ہوا کہ یہ قعدہ ٔ اولیٰ ہے اور کھڑا ہوگیا اور قبل سجدہ یاد آگیا تو فوراً قعدہ کی طرف لوٹے اور قعدہ میں بیٹھ جائے او رمعاً سجدہ ٔ سہو میں چلاجائے ۔ دوبارہ التحیات نہ پڑھے ۔ سجدہ ٔ سہو کرنے کے بعد التحیات ، درود ، دعا وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے۔ ( درمختار ، ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۳۳)