حدیث نمبر :686

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرض نماز کے لئے اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے تو اس کا ثواب احرام باندھنے والے حاجی کی طر ح ہے ۱؎ اورجوچاشت کی نماز کے لئے نکلے کہ یہ نماز ہی اسے نکالے تو اس کا ثواب عمرہ والے کی طر ح ہے ۲؎ اورنماز کے بعد دوسری نمازجس کے درمیان کوئی بیہودہ بات نہ ہو اس کی علیین میں تحریر ہے۳؎(احمد،ابوداؤد)

شرح

۱؎ کیونکہ حاجی کعبہ میں جاتا ہے اور یہ مسجد میں،یہ دونوں اﷲ کا گھر ہیں۔حاجی حج کا احرام باندھتا ہے اور یہ نماز کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے۔اور جیسے کہ حج خاص تاریخوں میں ہوتا ہے مگر حاجی گھر سے نکلنے سے لوٹنے تک ہروقت اجرپاتا ہے،ایسے ہی نماز کی جماعت اگرچہ خاص وقت میں ہوگی مگر نمازی کے نکلنے سے لوٹنے تک اﷲ کی رحمت میں ہی رہتا ہے۔

۲؎ خیال رہے کہ نمازچاشت اور دیگرنوافل اگرچہ گھر میں افضل ہیں لیکن اگر گھر کے مشاغل بچوں کے شور کی وجہ سے مسجد میں پڑھے تو بھی بہتر،یہاں یہی مراد ہے۔بعض علماءفرماتے ہیں کہ نماز چاشت مسجد میں ہی افضل ہے،ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔

۳؎ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فرض کے بعد متصل نفل و سنتیں پڑھے،درمیان میں دنیوی کام نہ کرے۔دوسرے یہ کہ پنجگانہ فرائض کے درمیان بھی یہ سمجھ کر گناہ سے بچے کہ میں ظاہروباطن پاک رہ کر رب کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں تو اس کا فعل”علیّین”میں لکھا جائیگا۔علیّین ساتویں آسمان کے اوپر ہے جہاں ابرار کے نیک اعمال لکھے جاتے ہیں،چونکہ یہ اونچی جگہ واقعہ ہوا ہے اس لیے علیّین کہلاتا ہے۔