أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ‌ۚ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو عہد پورا کرنے والا نہ پایا، اور بیشک ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان ہی پایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو عہد پورا کرنے والا نہ پایا، اور بیشک ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان ہی پایا “

دعاؤں سے مصیبت ٹلنے کے بعد اللہ کو فراموش کردینا :

ان لوگوں سے مراد پچھلی امتوں کے کافر لوگ ہیں اور عہد سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام روحوں سے عالم میثاق میں لیا تھا۔ امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ سے روایت کرتے ہیں :

حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ اس عہد سے یہ مراد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تمام روحوں کو نکال کر عہد لیا فرمایا : الست بربکم قالوا بلی (الاعراف :172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا کیوں نہیں ! تو یقیناً ہمارا رب ہے۔ اور اب یہ اس وعدہ کو فراموش کرکے شرک کرنے لگے اور مختلف بتوں کی پرستش کرنے لگے۔ 

اس عہد سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ جب انسان پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر معافی مانگتا ہے اور عہد کرتا ہے کہ اب اگر اس مصیبت سے نجات دے دی تو وہ ضرور اللہ کی اطاعت اور شکر گزاری کرے گا اور جیسے ہی اللہ اس مصیبت سے نجات دے د یتا ہے تو وہ پھر شرک اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : ” قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا و خفیۃ لئن انجانا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ قل اللہ ینجیکم منہا و من کل کرب ث انتم تشرکون : آپ پوچھیے تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جسے تم عاجزی اور چپکے زپ کے سے پکارتے ہو، اگر ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دی تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ آپ کہیے کہ تم کو اس مصیبت سے اللہ ہی نجات دیتا ہے اور ہر مصیبت سے، پھر تم شرک کرتے ہو “

نیز فرماتا ہے : ” واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ ث اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل و جعل للہ اندادا لیضل عن سبیلہ : اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب ہی کی طرف رجوع کرتا ہوا اس کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ اسے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کے لیے وہ اللہ کو پکارتا تھا اور اللہ کے لیے شریک بنانے لگتا ہے تاکہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرے ” (الزمر :8) ۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اکثر لوگوں کو عہد پورا کرنے والا نہ پایا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سب کافر اور فاسق اور عہد فراموش نہ تھے، بعض ایسے بھی تھے جو اپنے رسولوں پر ایمان لے آئاے تھے، نیک عمل کرتے تھے اور عہد پورا کرتے تھے گو ایسے نیک لوگ بہت کم تھے۔

یہاں تک حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے قصص بیان فرمائے اب اس کے بعد والی آیتوں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر شروع ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 102