أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ قَالَ مُوۡسٰى يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں

تفسیر:

104 ۔۔ تا۔۔ 106:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور موسیٰ نے کہا اے فرعون میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں۔ میرا یہ منصب ہے کہ میں اللہ کے متعلق حق کے سوا کوئی بات نہ کہو، بیشک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف ایک قوی دلیل لایا ہوں سو (اے فرعون) تو میرے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے۔ فرعون نے کہا اگر تم کوئی دلیل لائے ہو تو اس کو پیش کرو اگر تم سچے ہو “

فرعون کے دعوی خدائی کا رد :

حضرت موسیٰ نے کہا : اے فرعون ! فرعون مصر کے بادشاہوں کا لقب ہے، جیسے حبشہ کے بادشاہوں کا لقب نجاشی ہے۔ روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر ہے اور ایران کے بادشاہوں کا لقب کسری ہے۔ ہندو بادشاہ اپنے آپ کو راجہ کہلواتے تھے اور مسلمان بادشاہ اپنے آپ کو سلطان کہلاتے تھے۔ فرعون کا نام قابوس تھا۔ یا ولید بن مصعب بن ریان تھا۔ جدید تحقیق یہ ہے کہ اس کا نام منفتاح تھا۔ 

فرعون خدائی کا دعویٰ دار تھا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ابتدائی کلام میں یہ فرمایا کہ میں رب العالمین کا نمائندہ (رسول) ہوں اور اس کلام سے فرعون کے دعویٰ خدائی کا رد فرمایا کیونی کہ عبادت کا مستحق وہ ہے جو تمام جہانوں کا رب ہو۔ آسمانوں، زمینوں، سورج، چاند اور ستاروں کا پیدا کرنے والا ہو۔ پتھروں، درختوں، حیوانوں اور انسانوں کا پیدا کرنے والا ہو، فرعون ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں تو فرعون سے پہلے بھی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرعون کا خدائی کا دعویٰ باطل ہے۔ عبادت کا مستحق اور خدا وہی ہے جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ 

قبطیوں کا بنو اسرائیل کو غلام بنانا :

اس کے بعد حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ میں چونکہ اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور اس کا رسول ہوں اس لیے مجھ پر واجب ہے کہ میں حق اور صداقت کے سوا کوئی بات نہ کہوں۔ میرے رسول ہونے پر ایک قوی دلیل موجود ہے اور جب میری رسالت ثابت ہے تو اے فرعون میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو بنو اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔

مصر کے قدیم باشندے قبطی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے چار سو سال پہلے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) یہاں پر آئے اور ان کی اولاد یعنی بنو اسرائیل یہاں پھیل گئی تو مصر کے بادشاہ یعنی فرعون نے ان کو غلام بنا لیا اور وہ بنو اسرائیل سے بیگار لیتے تھے۔ ان سے جانوروں کا دودھ نکلواتے، زمینوں کی کھدائی کراتے اور دیگر مشقت کے کام لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنو اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانا چاہی۔ اس لیے فرمایا : فرعون بنو اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا : اگر تم اپنے دعویٰ کے مطابق اللہ کے رسول ہو تو اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 104