بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

یہ سورت مکّۂ مکرّمہ میں نازِل ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ یہ سورت مکیّہ ہے سواء پانچ آیتوں کے جن میں سے پہلی ”وَاسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ ” ہے اس سورت میں دو سو چھ۲۰۶ آیتیں اور چوبیس رکوع ہیں اور تین ہزار تین سو پچیس کلمے اور چودہ ہزار دس ۱۴۰۱۰ حرف ہیں ۔

الٓمّٓصٓۚ(۱)

 

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۲)

اے محبوب ایک کتاب تمہاری طرف اُتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے (ف۲) اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت

(ف2)

بایں خیال کہ شاید لوگ نہ مانیں اور اس سے اِعراض کریں اور اس کی تکذیب کے درپے ہوں ۔

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ(۳)

اے لوگو اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اُترا (ف۳) اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ بہت ہی کم سمجھتے ہو

(ف3)

یعنی قرآن شریف جس میں ہدایت و نور کا بیان ہے ۔ زُجاج نے کہا کہ اِتّباع کرو قرآن کا اور اس چیز کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے کیونکہ یہ سب اللہ کا نازِل کیا ہوا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ۔

” مَآاٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ الآیہ” یعنی جو کچھ رسول تمہارے پاس لائیں اسے اخذ کرو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىٕلُوْنَ(۴)

اورکتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں (ف۴) تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا یا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے(ف۵)

(ف4)

اب حکمِ الٰہی کا اِتّباع ترک کرنے اور اس سے اِعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے حالات میں دکھائے جاتے ہیں ۔

(ف5)

معنٰی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروفِ راحت تھے نہ عذاب کے نُزول کی کوئی نشانی تھی نہ قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے اچانک آ گیا اس سے کُفَّار کو مُتنبِّہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسبابِ امن و راحت پر مغرور نہ ہوں ، عذابِ الٰہی جب آتا ہے تو دَفۡعَۃً آجاتا ہے ۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۵)

تو ان کے منہ سے کُچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے(ف۶)

(ف6)

عذاب آنے پر انہوں نے اپنے جُرم کا اِعتِراف کیا اور اس وقت اِعتِراف بھی فائدہ نہیں دیتا ۔

فَلَنَسْــٴَـلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْــٴَـلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۶)

تو بے شک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے (ف۷) اور بے شک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے(ف۸)

(ف7)

کہ انہوں نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی ۔

(ف8)

کہ انہوں نے اپنی اُمّتوں کو ہمارے پیام پہنچائے اور ان اُمّتوں نے انہیں کیا جواب دیا ۔

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآىٕبِیْنَ(۷)

تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے (ف۹) اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے

(ف9)

رسولوں کو بھی اور ان کی اُمّتوں کو بھی کہ انہوں نے دنیا میں کیا کیا ۔

وَ الْوَزْنُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّۚ- فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸)

اور اس دن تول ضرور ہونی ہے (ف۱۰) تو جن کے پلے بھاری ہوئے (ف۱۱) وہی مراد کو پہنچے

(ف10)

اس طرح کہ اللہ عزّوجلّ ایک میزان قائم فرمائے گا جس کا ہر ایک پلّہ اتنی وُسعت رکھے گا جیسی مشرق و مغرب کے درمیان وُسعت ہے ۔ ابنِ جوزی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت داؤد علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بارگاہِ الٰہی میں میزان دیکھنے کی درخواست کی جب میزان دکھائی گئی اور آپ نے اس کے پلّوں کی وُسعت دیکھی تو عرض کیا یا ربّ کس کا مقدور ہے کہ ان کو نیکیوں سے بھر سکے ارشاد ہوا کہ اے داؤد میں جب اپنے بندوں سے راضی ہوتا ہوں تو ایک کھجور سے اس کو بھر دیتا ہوں یعنی تھوڑی نیکی بھی مقبول ہوجائے تو فضلِ الٰہی سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ میزان کو بھر دے ۔

(ف11)

نیکیاں زیادہ ہوئیں ۔

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ(۹)

اور جن کے پلّے ہلکے ہوئے (ف۱۲) تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے(ف۱۳)

(ف12)

اور ان میں کوئی نیکی نہ ہوئی یہ کُفّار کا حال ہوگا جو ایمان سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کا کوئی عمل مقبول نہیں ۔

(ف13)

کہ ان کو چھوڑتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، ان کی اِطاعت سے منہ موڑتے تھے ۔

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠(۱۰)

اور بے شک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ(ٹھکانا)دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے (ف۱۴) بہت ہی کم شکر کرتے ہو (ف۱۵)

(ف14)

اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں دیں باوجود اس کے تم ۔

(ف15)

شکر کی حقیقت نعمت کا تصور اور اس کا اظہار ہے اور ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چُھپانا ۔