ہمارا دین اور ہم ؟

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر ـ رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ :

ایک صاحب نبی صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : يَا رَسُولَ اللهِ ،

لوگوں میں سے کون اللہ کو زیادہ محبوب ہے ؟ ۔

اور اعْمَال میں سے عمل کون سا الله کو زیادہ محبوب ہے ؟

تو رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ۔:

🌷 أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ ،

اللہ کو لوگوں میں سے زیادہ محبوب وہ ہے جو لوگوں کو زیادہ نفع پہنچانے والا ہے ۔

📜 مالی ، مادی، جسمانی ، علمی ، عملی ، زبانی کلامی ، دینی ہر طرح کا نفع اس سے مراد ہے ۔

🌷 وَأَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ ۔

اعمال میں سے اللہ کو زیادہ محبوب عمل

(1) سُرُورٌ تُدْخِلُهُ عَلَى مُسْلِمٍ ،

کوئی سرور جو تم کسی بھی مسلمان کو پہنچاؤ .

(2) أَوْ تَكْشِفُ عَنْهُ كُرْبَةً ،

اس سے کسی کرب کو دور کر دو

(3) أَوْ تَقْضِي عَنْهُ دَيْنًا ،

اس کا کوئی قرض ادا کر دو ۔

(4) أَوْ تَطْرُدُ عَنْهُ جُوعًا ،

اس کی بھوک دور کر دو ۔

(5) وَلَئِنْ أَمْشِي مَعَ أَخٍ لِي فِي حَاجَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ شَهْرًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ،

میں اپنے کسی بھائی کی حاجت کے معاملہ میں اس کے ساتھ جانا ، مدینہ کی اس مسجد میں ایک ماہ کے اعتکاف سے زیادہ پسند ہے ۔

(6) وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ ،

اور جس نے اپنا غضب کنٹرول کیئے رکھا اللہ اس کی شرم پردے میں رکھے گا ۔

(7) وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ ، مَلأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ،

اور جس نے اپنے غصہ کو ٹھنڈا رکھا حالانکہ وہ اس کو نافذ کرنا چاہے تو ( بے روک ٹوک ) کر سکے ، اللہ بروز قیامت اس کے دل کو ( اپنے فضل و احسان کی ) امید سے بھر دے گا ۔

(8) وَمَنْ مَشَى مَعَ أَخِيهِ فِي حَاجَةٍ حَتَّى يُثَبِّتَهَا لَهُ ثَبَّتَ اللَّهُ قَدَمَهُ يَوْمَ تَزُولُ الأَقْدَامُ.

اور جو اپنے کسی بھائی کی حاجت روائی کے لیئے اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ اس کو پورا کر دیا ، اللہ اس کے قدموں کو ثابت رکھے گا جس دن کہ قدم پھسل پھسل جائیں گے ۔

🖍 ابن أبي الدنيا (كتاب قضاء الحوائج) ، الطبراني ( الاوسط ) وغيرهما.

💡 اسلام دین فطرت ہے ۔ اور فطری طور پر انسان کو دوسروں کی مدد کی حاجت و ضرورت ہوتی ہے ۔

کائنات کا ایک اہم ترین عنصر ہونے کے ناتے کائنات کے دیگر اجزاء کے ساتھ باہمی تعاون و معاملہ کا لازما محتاج ہے ۔

اور یہ بھی ایک مشاہداتی امر واقع ہے کہ یہ احساس کہ کسی کو مجھ سے حاجت ہے ۔ اس کا کام میرے ساتھ وابستہ ہے ، ایک تفاخر پیدا کر دیتا ہے جس سے صرف خاصان خدا ہی محفوظ ہیں ۔

🖍 چنانچہ اسلام نے ایک طرف تو اپنی حوائج کو محدود و مستور رکھنے کی تعلیمات دی ہیں اور دوسری طرف جو کسی کے کام آ سکتے ہیں، انہیں حاجت روائی کی متعدد ترغیبات دی ہیں ۔ جن کو حضرات محدثین رحمهم الله تعالى عليهم أجمعين نے مطولات میں ابواب کے تحت اور الگ کتابوں کی صورت میں جمع فرمایا ہے ۔

✍ کیا طرفہ تماشا ہے کہ جس دین میں اوروں کی حاجت برآری کی اتنی کثیر فضیلت اور شدید اہمیت ہے ، اس کے پیروکاروں کی اکثریت ایک دوسرے سے تقریبا اسی قدر بیزار اور الگ تھلگ شی لگتی ہے ۔