حدیث کی ضرورت و اھمیت

محمد عبد اللّٰہ خوشترؔ اعظمی ۔ مبلغ سُنی دعوت اسلامی

قرآنِ پاک اسلام کے ماننے والوں کے لئے ایک رہنمائے اصول کتاب ہے۔ کائنات کا ذرہ ہو یا قطرہ یہ کتاب اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ تمام علوم و فنون کا گنجینہ اس مختصر سی کتاب میں پوشیدہ ہے۔ حتیٰ کہ ایک دور میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے تھے جو اپنے اونٹ کی نکیل کو بھی اس مقدس کلام سے تلاش کر لینے کے دعوے دار تھے۔ اور ایسے لوگ بھی تھے جن کا یہ دعوہ تھا کہ ایک مختصر سی سورہ کی تفسیر سے ستر اونٹوں کی پشت کا بار بنایا جا سکتا ہے۔ یہ دعوے جہاں ان ارباب علوم و فنون کے تبحّر علم اور دقتِ نظر کی جانب غمازی کر رہے ہیں وہیں کلام مجید کے وسعتِ بیان اور اعجاز ایجاز پر بالصراحت دال ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا فرمان:’’و نزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شیئی‘‘(سورئہ نحل، پ؍۱۴، آیت:۸۹)سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ کلام مجید میں ہر چیز کا بیان موجود ہے، اس کتاب نے اپنے سینے میں دنیا کے ذرے ذرے اور قطرے قطرے کا علم سما رکھا ہے، متقدمین، کی حکایات اس کے اندر، اسلام کے احکام و فرائض اس میں پنہا، زندگی کے اصول و ضوابط کو یہ جامع اور ایسے علوم و فنون جو کہ اپنے لحاظ سے ایک بلند رتبہ رکھتے ہیں ان کو ایک آیت یا چھوٹی سی سورت کے اندر بیان کر دیا گیا ہے۔ مثلاً علم فرائض جس کے بارے سرکار ﷺ نے فرمایا:’’ تعلموا الفرائض و علموہا الناس فانہا نصف العلم‘‘ (بیہقی، حاکم) علم فرائض کو سیکھو اور سکھائو کیوں کہ وہ آدھا علم ہے۔ اس علم کو قرآن مجید میں ایک آیت میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح علم منطق جس کو دنیائے تعلیم و تعلم میں ایک خاصی اہمیت حاصل ہے اس کو کلام الٰہی میںاتنے اختصار سے بیان کر دیا گیا ہے جو کہ عقل انسانی سے وراء ہے۔ غرض کہ دنیا کے بے شمار علوم و فنون کا ماخذ و مرجع یہی کتاب ہے۔ 

اسی لئے اس کلام کا سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، ہر شخص اس کے مفاہیم کا بخوبی احاطہ نہیں کر سکتا ہے، اس کی آیات و سورہ کا خلاصہ و تفسیر میں مفسرین کے قلموں کی سیاہی خشک ہو گئی اور وہ اپنی حیات کے طویل سفر کو طے کرکے اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور آخر میں یہ کہہ گئے کہ ابھی ہم کما حقہٗ اس کی حقیقت سے روشناس نہ ہو سکے۔ 

غرض یہ کہ یہ بات محال ہے کہ ہر شخص قرآن پاک کے مفاہیم و مطالب کو سمجھ کر اس کے اوامر و نواہی کا احاطہ کر لے۔ لہٰذا ضرورت تھی اس کی وضاحت و خلاصہ کی، انسانوں کو کلام رحمان سمجھنے کے لئے زبان حق ترجمان کی ضرورت پڑی۔ لہٰذا اس ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے نبیٔ آخر الزماں ﷺ کی زبان کو خدا کے کلام کا ترجمان بنا دیا گیا۔ تاکہ لوگ آپ کے ارشادات کو پڑھ کر کلام الٰہی کے مفاہیم کے سمجھنے میں مدد لے سکیں۔ لہٰذا رب قدیر نے کلام مجید میں ارشاد فرمایا: ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘ (سورئہ نجم، پ:۲۷، آیت:۳،۴) اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے۔ (کنزالایمان) یعنی زبان نبی کی ہوتی ہے الفاظ خدا کے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارباب اصول نے حدیث کو بھی وحی کہا ہے۔ مگر اسے غیر متلو کے ساتھ مقید کر دیا ہے۔ 

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے نبی کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کی اہمیت کو ظاہر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ و ما نہاکم عنہ فانتہوا‘‘(سورئہ حشر، پ۲۸، آیت:۷)اور جو کچھ تمہیں رسولﷺ عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (کنز الایمان) یعنی نبیٔ کریم ا خواہ اللہ کی جانب سے قرآن کی شکل میں نازل ہونے والے احکام تمہیں سنا دیں یا اپنی جانب سے کوئی حکم تمہیں دیں اس کا قبول کرنا تم پر واجب ہے۔ 

اسی طرح ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ یٰٓایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم‘‘ (سورئہ نساء، پ:۵، آیت:۵۹)اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں حکومت والے ہیں۔ (کنز الایمان) یعنی اللہ کا حکم اپنی جگہ ایک الگ حیثیت رکھتا ہے اور رسول کا حکم ایک الگ حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح اللہ کا حکم ماننا ہم پر لازم ہے اسی طرح رسول کا حکم ماننا ہم پر لازم ہے۔ اللہ کا حکم ہمیں قرآن سے ملے گا اور رسول کا حکم حدیث سے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ جس طرح اللہ کا حکم، حکم وجوبی ہے اور نہی، نہیٔ وجوبی ہے۔ اسی طرح رسول کا حکم بھی حکم وجوبی ہے اور نہی، نہیٔ وجوبی ہے۔ اسی کی مطابقت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشادفرمایا: ’’ومن یطع اللہ و رسولہٗ فقد فاز فوزاً عظیماً‘‘ (سورئہ احزاب، پ:۲۲، آیت:۷۱)اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ (کنزالایمان) اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ کا حکم ماننے سے جس طرح کامیابی کی ضمانت ہے اسی طرح رسول کا حکم ماننے میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس بات کا ثبوت صحابہ کرام ہی کے دور میں ہمیں عملی طور پر مل چکا تھا۔

ابتدائے اسلام کا دور ایسا تھا کہ مسلمان بہت ہی تنگدستی کے عالم میں اپنی زندگی کے لمحات گزارا کرتے تھے۔ بسا اوقات فاقہ کرکے اور بارہا اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنی صبح کو شام کر نے پر وہ مجبور ہو جایا کرتے تھے۔ ایسے دور میں اعلانِ جنگ ہوا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کے لئے سیکڑوں فرزندانِ توحید نے معرکۂ جنگ کے لئے اپنی کمر کس لی۔ بظاہر نحیف نظرآتے ہیں مگر ان کے جسم میں وثوق علی اللہ کی وہ قوت تھی جس کی بنیاد پر انہیں اپنی فتح و کامرانی کا یقین تھا۔ میدان جنگ میں آج مسلمانوں کو کفار کا مقابلہ کرنا ہے۔ اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس ہتھیار ہیں مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو بالکل نہتے ہیں ان کے پاس جنگ کرنے کے لئے کوئی ساز و سامان نہیں ہے۔ انہیں میں سے ایک صحابی حضرت شرحبیل بن حسنہ ص بھی ہیں۔ بارگاہ رسالت مآب میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ ﷺ میرے دل میں اللہ کے دین کی حمایت کا جذبہ موجزن ہے مگر جہاد کرنے کے لئے کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا: جائو اور کھجور کی شاخ توڑ لائو۔ گئے اور توڑ لائے۔ فرمایا جائو اسی کو لے کر جہاد کرو۔ میدان میں اتر گئے ، کفار پر دھاوا بول دیا اور اِس دلیری اور جواں مردی کے ساتھ جہاد کیا کہ ان کے دوسرے ساتھی ان پر رشک کرنے لگے۔ مسلمانوں نے جم کر مقابلہ کیا ، جنگ بھی فتح ہوئی اور مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ 

اسی کے ساتھ جنگ احد کا معائنہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ اگر چہ اس جنگ کو مسلمانوں نے فتح کیا تھا مگر پھر بھی انہیں بہت سے جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس جنگ میں نبیٔ کونین ﷺ نے چالیس تیر اندازوں کو یہ حکم فرمایا تھا کہ تم جبل احد کے اوپر چڑھ جائو اور جب تک میں نہ کہوں نیچے مت اترنا۔ مگر جب جنگ فتح ہوئی اور مسلمان مال غنیمت اکٹھا لگے تو وہ تیر انداز بھی نیچے اتر آئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کفار نے دیکھا کہ مسلمان اب دوسری جانب متوجہ ہو چکے ہیں، پلٹ کر حملہ کر دیا۔ بالآخر مسلمانوں کو بہت سے خساروں کا سامنا کرنا پڑا۔ مطلب یہ کہ ُاس جنگ میں سرکار کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے صحابیٔ رسول نے کھجور کی شاخ لے کر جہاد کیا تو ان پر رشک کیا جانے لگا اور اِس جنگ میں رسول کی حکم عدولی کرنے کی بنیاد پر فتح و کامرانی کے باوجود خسارے برتنے پڑے۔ اسی کی جانب اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے اشارہ فرمایا: ’’و من یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزاً عظیما‘‘ (سورئہ احزاب، پ:۲۲، آیت: ۷۱) اورجو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ (کنزالایمان) 

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’فلا و ربک لا یومنون حتیٰ یحکموک فی ما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت و یسلموا تسلیما‘‘ (سورئہ نساء، پ: ۵، آیت: ۶۵) تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔ (کنز الایمان)

پتہ چلا کہ اپنے مسائل کو نبی کے اقوال سے حل کرنا تکمیل ایمان کی دلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سرکار کے دور میں ایک ایمان کا دعویدار نبی کے فیصلے کو نہ مان کر حضرت عمر کے پاس گیا تو حضرت عمر نے اس کا فیصلہ اپنی تلوار سے کیا۔ 

ان تمام آیات اور ان کے مفاہیم کو ملاحظہ کرنے کے بعد ہر عقل مند اسی نتیجہ پر پہونچے گا کہ قرآن پاک کے بعد اقوال نبی کا مقام ہے۔ اور کلام پاک کو سمجھنے کے لئے احادیث نبوی کا سہارا لینا ضروری ہے۔ نیز یہ کہ جس طرح قرآن کے اوامر و نواہی واجب العمل ہیں اسی طرح احادیث کے اوامر و نواہی بھی واجب العمل ہیں۔ 

اب تک ہم نے قرآن کی آیات میں احادیث نبویہ کی اہمیت کو ملاحظہ کیا۔ اب آئیے احادیث کے آئینے میں احادیث کی اہمیت کو دیکھا جائے۔ کتب احادیث میں اہمیت حدیث کے حوالے سے اتنی احادیث وارد ہیں جن کا شمار دشوار ہے۔ ان میں سے صرف چند مشہور احادیث کا ذکر کردینا مناسب سمجھتا ہوں۔ 

٭ عن ابی ہرہرۃ قال قال رسول اللہ ا ما امرتکم بہ فخذوہ و ما نہیتکم عنہ فانتہوا۔(ابن ماجہ)

٭ عن عبد اللہ بن عمر قال قال رسول اللہ ا لا یومن احدکم حتیٰ یکون ہواہ تبعا لما جیت بہ۔ (مشکوٰۃ)

٭ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ا ذرونی ما ترکتکم فانما ہلک من کان قبلکم بسوالہم و اختلافہم علیٰ انبیائہم فاذا امرتکم بشیئی فخذومنہ ما استطعتم و اذا نہیتکم عن شیئی فانتہوا۔ (ابن ماجہ)

٭ عن مالک بن انس مرسلاً قال قال رسول اللہ ا ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بہما۔ کتاب اللہ و سنۃ رسولہ رواہ فی الموطا۔ (مشکوٰۃ)

٭ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ا من اطاعنی فقد اطاع اللہ و من عصانی فقد عصیٰ اللہ۔ (ابن ماجہ)

٭ عن المقدام بن معدیکرب ان رسول اللہ ا قال یوشک الرجل متکئا علیٰ اریکتہٖ یحدث بحدیثی فیقول بیننا و بینکم کتاب اللہ عز و جل فما وجدنا فیہ من حلال استحللناہ و ما وجدنا فیہ من حرام حرمناہ اَلا وان ما حرم رسول اللہ ا مثل ما حرم اللہ۔ (ابن ماجہ)

ان تمام احادیث کا ترجمہ نہ کرتے ہوئے مختصراً یہ سمجھئے کہ یہ تمام احادیث اس جانب بالصراحت غمازی کر رہی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اوامر قطعیہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وجوب عمل کے سلسلے میں ان کی حیثیت وہی ہے جو کلام الٰہی کی ہے۔ نیز یہ کہ سرکار نے، زمانۂ مستقبل میں احادیث کے خلاف جو اعتراضات ہونے تھے ان کی خبر پہلے ہی دے دی ہے۔ 

اہمیت حدیث اور اجماع: ہر دور میں حدیث کی نقل اور اس پر عمل کے وجوب پر اجماع رہا ہے۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد کے محدثین اخذ حدیث کے قائل رہے ہیں۔ صحابۂ کرام کے دور میں ہی جب کوئی مسئلہ در پیش ہوتا اور کلام الٰہی سے ان کو اس کی بابت کوئی صریح حکم نہ مل تو وہ سرکار کون و مکاں اکی احادیث کی جانب رجوع کیا کرتے تھے اور آپ کے اقوال سے اپنے مسائل کو حل کیا کرتے تھے۔کبار صحابہ نیز خلفاء راشدین کابھی یہی عمل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سرکارﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ص کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کے مسائل کا حل کس طرح نکالو گے۔ تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پہلے کتاب اللہ میں ڈھونڈوں گا۔ اور اگر اس میں نہ پا سکوں تو آپ کے اقوال میں تلاش کروں گا۔ 

نیز صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور محدثین کا احادیث کا نقل کرنا اور ایک دوسرے سے روایت کرنا اس بات پر شہادت ہے کہ ان حضرات نے احادیث نبوی کی ضرورت محسوس کی ہے اور احادیث کی اہمیت پر ان حضرات کا اجماع رہا ہے۔ اسی وجہ سے ان حضرات نے اپنے دور میں احادیث کے نقل و روایت میں جس قدر جد و جہد کی وہ ان کے سوانح سے واضح ہے۔ 

اہمیت حدیث او ر قیاس: قیاس کا بھی یہی تقاضا ہے کہ نبیٔ کریم ا کی احادیث کی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کیا جائے۔ کیوں کہ عقل انسانی کلام ربانی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ا کو بشریت کا لبادہ اڑھا کر بنی آدم کے لئے مبعوث فرمایا تاکہ انسان اگر اپنی عقل سے کلام ربانی کو نہ سمجھ سکے تو اقوال رسولﷺ کی روشنی میں کلام ربانی کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ 

حاصل کلام یہ کہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کے فرامین کے صحیح مفاہیم سے واقفیت حاصل کرنا ہے تو احادیث کا سہارا لینا اشد ضروری ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ قرآن کریم کی ایک آیت : ’’ان الصلوٰۃ کانت علیٰ المومنین کتاباً موقوتا‘‘ یعنی نماز مسلمانوں پر وقت کا باندھا ہوا فریضہ ہے۔ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لئے وقت متعین ہے اور وقت ہی پر نماز پڑھی جائے گی۔ اس حدیث کے مد نظر، اگر کسی کی نماز قضا ہو جائے تو وہ حرج میں پڑ جائے گا۔ اس حرج کو دور کرنے کے لئے ہمیں حدیث کا سہارا لینا ہوگا۔ جس کے لئے ہم کتبِ احادیث کا تتبع کریں گے۔ اور سرکار دوعالم ﷺ کے اس ارشاد سے مسئلہ حل ہو جائے گا: ’’فاذا نسی احدکم الصلوٰۃ او نام عنہا فلیصلیہا اذا ذکرہا‘‘ یعنی جو شخص نماز کو بھول جائے یا سو جائے تو جب اس یاد آجائے وہ نماز کی قضا کرلے۔ 

ان تمام دلائل سے حدیث کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو احادیث کو سیکھنا اور پڑھنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔