حدیث نمبر :695

روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا: کوڑی،مذبح،قبرستان ۱؎،بیچ راستہ میں،۲؎ اور حمام اور اونٹ بندھنے کی جگہ۳؎ اورکعبہ شریف کی چھت پر۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ کوڑی اور مذبح میں گندگیاں پھیلی ہوتی ہیں،اس لئے وہاں نمازہوگی ہی نہیں،قبرستان کا ذکر ابھی ہوچکا۔

۲؎ یعنی جہاں لوگوں کی عام گزرہو وہاں نماز نہ پڑھےکہ اس سے نمازی کو یک سوئی نہ ہوگی اورگزرنے والے کاراستہ بندہوجائے گا۔مسجد میں بھی در کے سامنے یا دروازہ کے قریب نہ پڑھےکہ اس سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہوگی،ستون کی آڑ لے کریاگوشہ میں نماز پڑھنی چاہیئے۔

۳؎ خواہ وہاں اس وقت اونٹ بندھا ہو یا نہ کیونکہ اونٹ کے چرواہے اونٹ کی آڑ میں پیشاب کیا کرتے ہیں۔اگر اونٹ بندھا ہو تو اس کے پیشاب کرنے اور چھینٹیں پڑنے کا سخت خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے خصوصیت سے اونٹ کا ذکر فرمایا،ورنہ ہرنجس زمین پرنماز پڑھنا منع ہے۔

۴؎ کیوں کہ وہاں بلا ضرورت چڑھنا ہی منع ہے کہ اس میں کعبۃ اﷲ کی توہین ہے۔اس نمازمیں توہین شامل ہے،لہذا نمازمکروہ،یہی حکم ہرمسجد کاہے کہ اگر اس پر بالائی منزل نہ ہوتو بلاضرورت چھت پر چڑھنا منع اور وہاں نماز مکروہ۔اس ممانعت کی وجہ یہ نہیں کہ یہ جگہ کعبہ نہیں وہاں کی آسمان تک فضائے کعبہ ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں۔