أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ‌ ۞

ترجمہ:

پس موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا پس وہ اچانک جیتا جاگتا اژدھا ہوگیا

تفسیر:

107 ۔ 108:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” پس موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا پس وہ اچانک جیتا جاگتا اژدھا ہوگیا۔ اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے روشن ہوگیا “

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی اژدھا بن گئی تھی۔ وہ بہت بڑا اژدھا تھا۔ مجاہد نے کہا ہے کہ اس کے دو جبڑوں کے درمیان چالیس ذراع (ساٹھ فٹ) کا فاصلہ تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا جو اپنا منہ کھولے ہوئے فرعون کی طرف دوڑ رہا تھا۔ جب فرعون نے دیکھا کہ وہ اژدھا اس کو کھانے کے لیے دوڑ رہا ہے تو وہ تخت کے اندر گھس گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فریاد کی کہ اس کو روک لے سو انہوں نے اس کو روک لیا۔ (جامع البیان، ج 6، ص 20، مطبوعہ دار الفکر، تفسیر امام ابن ابی حاتم، ج 5، ص 533)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : روایت ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی پھینکی تو وہ زرد رنگ کا ایک بال دار اژدھا ہوگیا اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان اسی ذراع (ایک سو بیس) فٹ کا فاصلہ تھا۔ وہ اپنی دم پر کھڑا ہوگیا اور وہ زمین سے تقریبا ایک میل بلند تھا۔ اس کا ایک جبڑا زمین پر تھا اور دوسرا جبڑا فرعون کے محل کی دیوار پر تھا۔ وہ فرعون کے پکڑنے کے لیے دوڑا۔ فرعون اپنا تخت چھوڑ کر بھاگا در آنحالیکہ اس کے دست جاری تھے۔ بعض روایات میں ہے کہ اس ایک دن میں اس کے چار سو دست جاری ہوئے اور بعض روایات میں ہے کہ اس کے پیٹ میں بیماری ہوگئی جو تادم مرگ دور نہ ہوسکی۔ ایک روایت میں ہے کہ فرعون کا جبہ اس نے اپنی داڑھوں میں پکڑ لیا۔ اس نے لوگوں پر حملہ کیا لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور پچیس ہزار آدمی رش میں مارے گئے۔ پھر فرعون نے چیخ کر کہا : اے موسیٰ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر کہتا ہوں جس نے تمہیں بھیجا ہے، تم اس اژدھے کو پکڑ لو۔ میں تم پر ایمان لے آؤں گا اور تمہارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دوں گا حضرت موسیٰ نے اس اژدھے کو پکڑ لیا تو وہ پھر لاٹھی ہوگیا۔ (روح المعانی، ج 9، ص 20، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

بہ ظاہر اس روایت میں کافی مبالغہ ہے لیکن علامہ آلوسی ایک ثقہ عالم ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو اعتماد کے ساتھ نقل کیا ہے اس لیے اس کی کچھ نہ کچھ اصل ضرور ہوگی کیونکہ اگر وہ عام اژدھا ہوتا تو چند لوگ مل کر اس کو مار ڈالتے۔ لہذا اتنی بات یقینی ہے کہ وہ اژدھا بہت بڑا اور غیر معمولی جسیم اور خوفناک تھا اور یہ بھی بعید نہیں ہے کہ خوف اور دہشت سے جب فرعون تخت چھوڑ کر بھاگا ہو تو اس کے دست نکل گئے ہوں تاہم ان کی گنتی بعید از قیاس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب اس کے درباری اور دیگر قبطی اژدھے کو دیکھ کر خوفزدگی سے بھاگے ہوں تو بھگدڑ میں بہت سے درباری اور قبطی مارے گئے ہوں لیکن ان کا پچیس ہزار ہونا، ناقابل فہم ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ بہت روشن اور چمک دار تھا اور جب دوبارہ گریبان میں ہاتھ ڈالا تو وہ معمول کے مطابق تھا۔ 

حضرت ابن عباس نے فرمای : وہ بہت سفید تھا اور اس کی یہ سفیدی برص یا کسی اور بیماری کی وجہ سے نہیں تھی۔ (جامع البیان، ج 9، ص 21، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ اس نور کی وجہ سے آسمان اور زمین کی ہر چیز روشن ہوگئی تھی۔ (روح المعانی ج 9، ص 21، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 107