أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

قوم فرعون کے سرداروں نے (آپس میں) یقینا یہ شخص بہت ماہر جادوگر ہے

تفسیر:

109 ۔۔ تا۔۔ 114:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” قوم فرعون کے سرداروں نے (آپس میں) یقینا یہ شخص بہت ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال دے، اب تمہارا کیا مشورہ ہے ؟۔ انہوں نے فرعون سے کہا اس کو اور اس کے بھائی کو ٹھیرا لو اور جمع کرنے والوں کو شہروں میں بھیج دو ۔ جو تمہارے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آئیں۔ اور جادوگر فرعون کے پاس آئے اور کہا اگر ہم غالب ہوگئے تو یقیناً ہمارے لیے انعام ہوگا ؟۔ فرعون نے کہا ہاں ! اور بیشک تم ضرور مقربین میں سے ہوجاؤگے “

ہر نبی کا معجزہ اس چیز کی جنس سے ہوتا ہے جس چیز کا اس زمانہ میں چرچا ہو۔

اس زمانہ میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو کی بہت سی قسمیں تھیں اور جادو کی بعض قسمیں بہت بڑی اور بہت حیران کن تھیں اسی لیے فرعون کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق خیال کیا کہ یہ بہت ماہر جادوگر ہیں۔ پھر انہوں نے آپس میں کہا : کہ انہوں نے اتنے بڑے جادو کو اس لیے پیش کیا ہے کہ شاید یہ ملک اور اور ریاست کے طلب گار ہیں۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اس قول کو فرعون کی قوم کی طرف منسوب کیا ہے اور سورة الشعراء میں اس قول کو خود فرعون کی طرف منسوب کیا ہے، اور یہ بہ ظاہر تعارض ہے۔ اس کو جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ قول فرعون کا بھی ہو اور اس کے درباریوں کا بھی ہو۔ سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے اس قول کو اس کے درباریوں کی طرف منسوب کیا اور سورة الشعراء میں اس قول کو خود فرعون کی طرف منسوب کیا۔ 

” اب تمہارا کیا مشورہ ہے ؟ “۔ اس کے متعلق مفسرین نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے یہ فرعون کا کلام ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ درباریوں کا کلام ہو۔ 

” بیشک تم ضرور مقربین میں سے ہوجاؤگے ” جادوگروں نے فرعون سے اجر کا سوال کیا تھا۔ جواب میں فرعون نے کہا تم مقربین میں سے ہوجاؤگے۔ اس جواب میں ان کے اجر کا ذکر تو نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فرعون کا مطلب یہ تھا کہ بیشک تم کو اجر بھی ملے گا اور تم مقربین میں سے بھی ہوجاؤگے۔

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ یہ ستر جادوگر تھے اور ایک ان کا سردار تھا جو ان کو جادو سکھاتا تھا یہ مجوسی شخص تھا۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانہ میں جادو کا بہت چرچا تھا، جیسا کہ متکلمین نے کہا ہے کہ ہر نبی کو اس جنس سے معجزہ دیا جاتا ہے جس جنس کا اس زمانہ میں بہت غلبہ ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا بہت چرچا تھا تو ان کو ایسا معجزہ دیا گیا جو جادو کے مشابہ تھا، اور وہ جادوگروں کے تمام کمالات پر غالب آگیا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب اور حکمت کا بہت غلبہ تھا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیحائی کا ایسا کمال دے کر بھیجا جو ان کی تمام طب اور حکمت پر غالب آگیا اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں فصاحت اور بلاغت کا بہت غلبہ تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا فصیح اور بلیغ کلام دے کر بھیجا جس کی نظیر لانے سے تام جن اور انس عاجز ہوگئے۔ 

سحر کی تعریف اور سحر اور معجزہ میں فرق : 

کسی خبیث اور بدکار شخص کے مخصوص عمل کے ذریعہ کسی غیر معمولی اور خلاف عادت کام کے ظہور کو سحر کہتے ہیں، اور یہ باقاعدہ کسی استاذ کی تعلیم سے حاصل ہوتا ہے اور اسی تعریف سے سحر کا معجزہ اور کرامت سے فرق ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ معجزہ نبی کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا ہے جس کی نیکی اور پاکیزگی معاشرہ میں مشہور ہوتی ہے اور سحر خبیث اور بدکار شخص سے ظاہر ہوتا ہے۔ نیز سحر کسی استاذ سے سیکھا جاتا ہے جب کہ معجزہ نبی سے بغیر کسی شخص کی تعلیم کے ظاہر ہوتا ہے، اور معجزہ نبی اس لیے پیش کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی بعادت اور نیکی اور پرہیزگاری کی دعوت دیتا ہے اور اپنے آپ کو اللہ کا فرستادہ اور رسول قرار دیتا ہے۔ جبکہ ساحر دعویٰ نبوت کی دلیل کے لیے سحر پیش کرتا ہے نہ وہ لوگوں کو عبادت اور پرہیزگاری کی دعوت دیتا ہے بلکہ اس کا مقصد لوگوں کو حیران کرنا اور کسی دنیاوی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے، اور نبی دنیاوی مفادات سے بےنیاز ہوتا ہے اور اسی فرق سے سحر اور کرامت کا فرق بھی ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ کرامت بغیر تعلیم کے کسی نیک مسلمان کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہے اور یہ کسبی نہیں وہبی ہوتی ہے جبکہ سحر کسب اور تعلیم سے کسی فاسق اور شریر شخص کے ہاتھ سے ظاہر ہوتا ہے۔ سحر کسی شخص کی طبیعت یا اس کی فطرت کا خاصہ نہیں ہے اور یہ بعض جگہوں، بعض اوقات اور بعض شرائط کے ساتھ مخصوص ہے۔ جادو کا معارضہ دیا جاتا ہے اور اس کو کوشش سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سحر کرنے والا فسق کے ساتھ ملعون ہوتا ہے، ظاہری اور باطنی نجاست سے ملوث ہوتا ہے اور دنیا اور آخرت میں رسوا ہوتا ہے۔ اہل حق کے نزدیک سحر عقلاً جائز اور ثابت ہے اور قرآن اور سنت میں اس کا بیان ہے۔ 

معتزلہ نے کہا سحر کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ محض نظر بندی ہے اور اس کا سبب کرتب، ہاتھ کی صفائی اور شعبدہ بازی ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : ” وما کفر سلیمن ولکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر : اور سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا، البتہ شیاطین ہی کفر کرتے تھے، وہ لوگوں کو جادو (کے کفریہ کلمات) سکھاتے تھے ” (البقرہ :102)

اسی آیت میں مذکور ہے کہ سحر کے ذریعہ شوہر اور بیوی میں تفریق ہوجاتی تھی۔ نیز قرآن مجید میں ہے : ” ومن شر النفثت فی العقد : اپ کہیے کہ میں گرہوں میں (جادو کی) بہت پھونک مارنے والی عورتوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں ” (الفلق :4) ۔ 

نیز حدیث صحیح میں ہے کہ ایک یہودی لبید بن اعصم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سحر کردیا تھا جس کی وجہ سے آپ تین راتیں بیمار رہے۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث : 7563) اس کی تحقیق بنی اسرائیل : 47 میں دیکھیں۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے : ” یخیل الیہ من سحرہم انہا تسعی : حضرت موسیٰ کی طرف یہ خیال ڈالا گیا کہ ان کے سحر کی وجہ سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑ رہی ہیں ” (طہ :66) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ صرف نظر بندی ہے اور کسی کے ذہن میں خیال ڈالنا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ فرعون کے جادوگروں کا سحر یہی تخیل اور نظر بندی تھا۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جادو کی کوئی اور حقیقت نہیں۔ (شرح المقاصد، ج 5، ص 79 ۔ 81، ملخصاً و موضحاً مطبوعہ ایران، 1409 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : جس چیز کا سبب مخفی ہو اس کو سحر کہتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب کام ہوتا ہے جو خرق عادت کے مشابہ ہوتا ہے۔ اس میں قول، عمل اور اعتقاد تینوں کا دخل ہے۔ اس میں شیطان کی مدح اور الفاظ شرکیہ پڑھ کر دم کیا جاتا ہے۔ ستاروں کی عبادت اور دوسرے جرائم کرنے پڑتے ہیں اور شیطان سے محبت کرنی ہوتی ہے۔ سحر وہی شخص کرسکتا ہے جس کا نفس خبیث ہو اور اس کو شیطان کے ساتھ مناسبت ہو۔ جس طرح فرشتے ان ہی لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو دائمی عبادت کرتے ہوں اور اللہ کے ساتھ قرب میں فرشتوں کے مشابہ ہوں، اسی طرح شیاطین ان ہی لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو قول، فعل اور اعتقاد کی خباثت اور نجاست میں شیاطین کے مشابہ ہوں۔ اس تعریف سے ساحر، نبی اور ولی سے ممیز ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو مختلف ترکیبوں، آلات اور دواؤں کے ذریعہ عجیب و غریب کام کرکے دکھاتے ہیں، وہ دراصل شعبدہ باز ہیں۔ ان کو ساحر مجازاً کہا جاتا ہے اور یہ بھی بعض کے نزدیک شرعاً مذموم ہے۔ 

علامہ نووی نے روضۃ الطالبین (ج 7، ص 198) میں یہ تصریح کی ہے کہ سحر بالاجماع حرام ہے۔ جمہور نے سحر کی یہ تعریف کی ہے کہ سحر ایک خلاف عادت کام ہے یہ اعمال مخصوصہ کے ذریعہ اس شخص سے صادر ہوتا ہے جس کا نفس خبیث اور شریر ہو جمہور کے نزدیک سحر کی حقیقت ہے اور ساحر ہوا میں اڑ سکتا ہے، پانی پر چل سکتا ہے، انسان کو قتل کرسکتا ہے اور انسان کو گدھا بنا سکتا ہے۔ ان تمام کاموں میں فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ساحر کو یہ قدرت نہیں دی کہ وہ سمندر کو چیر دے، مردے کو زندہ کردے اور پتھر کو گویا کردیے اور اس طرح کے دوسرے کام جو انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات ہیں۔ معتزلہ اور اہل سنت میں سے الاسترا بازی کا یہ مذہب ہے کہ ساحر ایسے کاموں پر قادر نہیں ہوتا جن کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ورنہ نبوت کے اثبات کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ 

بعض محققین نے سحر اور معجزہ میں یہ فرق کیا ہے کہ معجزہ میں نبی تحدی (چیلنج) کرتا ہے کہ اس جیسا کام کرکے دکھاؤ اور سحر میں تحدی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت مستمرہ یہ ہے کہ جھوٹے نبی کے دعویٰ کے موافق خرق عادت ظاہر نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ منصب نبوت کو کذابین سے محفوظ رکھتا ہے۔ 

سحر اور ساحر کا شرعی حکم :

علامہ تفتا زانی نے کہا ہے کہ جادو کا عمل کرنا کفر ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور حدیث میں جو سحر کو کبائر میں سے شمار فرمایا ہے یہ اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ کفر بھی کبیرہ گناہ ہے، اور شیخ ابومنصور ماتریدی نے یہ کہا ہے کہ سحر کو مطلقاً کفر قرار دینا خطا ہے بلکہ اس کی حقیقت سے بحث کرنی چاہیے اگر جادو کے عمل میں کوئی ایسی چیز ہو جو ایمان کو رد کرتی ہو تو یہ کفر ہوگا ورنہ نہیں۔ پھر جو سحر کفر ہو اس میں مردوں کو قتل کردیا جائے گا اور عورتوں کو نہیں قتل کیا جائے گا اور جس سحر کے ذریعہ کسی شخص کو ہلاک کردیا جائے اس کے مرتکب کا حکم ڈاکوؤں کی طرح ہے۔ اس میں مرد اور عورت برابر ہیں اور جب ڈاکو توبہ کرلیں تو ان کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی انہوں نے خطا کی کیونکہ فرعون کے جادوگروں کی توبہ قبول کرلی گئی تھی۔ مدارک میں اسی طرح مذکور ہے اور یہی بات اصول کے قریب ہے۔ امام ابوحنیفہ سے مشہور روایت یہ ہے کہ جب کسی شخص کے متعلق یقین ہوجائے کہ وہ ساحر ہے تو اس کو قتل کردیا جائے گا اور اگر وہ کہے کہ میں جادو کو ترک کرتا ہوں تو اس کے قول کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ یہ کہے کہ میں پہلے جادو کرتا تھا اور اب مدت ہوئی اس کو چھوڑ چکا ہوں تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ ام المومنین حضرت حفصہ کی باندی نے ان پر جادو کرنے کا اعتراف کیا تو آپ نے حضرت عبدالرحمن بن زید کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا اور حضرت عمر (رض) نے حکم دیا تھا کہ ہر ساحر اور ساحرہ کو قتل کردو، سو تین ساحروں کو قتل کردیا گیا۔ ساحر کو مطلقاً قتل کرنے پر امام شافعی نے اعتراض کیا ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس یہودی کو قتل نہیں کیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا۔ اور مومن کا بھی اسی طرح حکم ہے۔ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ذمیوں کے وہ حقوق ہیں جو مہاجرین کے ہیں اور ذمیوں کے وہ فرائض ہیں جو مہاجرین کے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : 1731)

سحر کے سیکھنے اور سکھانے کا حکم : 

جادو کے سیکھنے اور سکھانے میں بھی اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” ولکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر : لیکن شیاطین نے کفر کیا وہ لوگوں کو جاندو سکھاتے تھے ” (البقرہ : 102)

اس آیت میں کفر کی علت جادو سکھانا ہے۔ لیکن اس پر اعتراض ہے کہ اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ شیطانوں نے کفر کیا اور وہ اس کے باوجود جادو سکھاتے تھے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ جادو کا سیکھنا اور سکھانا حرام ہے اور جمہور علماء کا یہی مختار ہے۔ اور تیسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں مکروہ کام ہیں۔ یہ بعض کا قول ہے اور چوتھا قول یہ ہے کہ یہ دونوں مباح ہیں۔ البتہ وہ جادو سکھانا مذموم ہے جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا ہو۔ امام رازی کا یہی مختار ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ محققین کا اس پر اتفاق ہے کہ جادو کا علم قبیح ہے نہ مذموم، کیونکہ فی ذاتہ علم میں شرف اور فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں ” (الزمر :29) ۔ اور جو شخص جادو کو نہ جانتا ہو وہ جادو اور معجزہ میں فرق نہیں کرسکے گا اور معجزہ کے معجز ہونے کا علم واجب ہے تو ثابت ہوا کہ جادو کا علم حاصل کرنا واجب ہے اور جو چیز واجب ہو وہ کیسے حرام اور قبیح ہوسکتی ہے، لیکن امام رازی کی دلیل پر یہ اعتراض ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فی نفسہ جادو کا علم قبیح ہے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جادو کا عمل کرنا ممنوع ہے اور چونکہ جادو کا علم جادو کے عمل کا ذریعہ ہے اس لیے وہ بھی ممنوع ہوگا کیونکہ شریعت میں ممنوع کا ذریعہ بھی ممنوع ہے۔ جیسے فی نفسہ زنا ممنوع ہے اور اس کے مقدمات مثلاً بوس و کنار اس فعل کے ارتکاب کا ذریعہ ہیں تو ان سے بھی منع فرما دیا اور فرمایا : ” لاتقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ : زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ وہ بےحیائی کا کام ہے ” (الاسراء :32) ۔ 

اس پر اعتراض یہ ہے کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ معجزہ اور سحر میں فرق کرنا سحر کے علم پر موقوف ہے کیونکہ اکثر بلک ہتقریباً تمام علماء کو معجزہ اور سحر میں فرق کا علم ہے۔ حالانکہ ان کو سحر کا علم نہیں ہے۔ نیز جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ان میں فرق کو جاننے کے لیے یہ کافی ہے کہ معجزہ کا ظہور نبی پر ہوتا ہے جس کی نیکی لوگوں میں معروف ہوتی ہے اور وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت اور نیکی اور پرہیزگاری کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے برخلاف سحر فاسق اور خبیث شخص سے صادر ہوتا ہے اور وہ کسی نیک کام کی دعوت نہیں دیتا اور اس پر تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر جادو کا علم حاصل کرنا واجب ہوتا تو حضرات صحابہ کرام، اخیار تابعین اور بعد کے ائمہ اور فقہاء جادو کے بہت بڑے عالم ہوتے حالانکہ ان میں سے کسی سے بھی یہ منقول نہیں ہے تو کیا ان اسلاف نے اس واجب کو ترک کردیا تھا اور صرف امام رازی نے اس واجب پر عمل کیا ہے ! (روح المعانی ج 1، ص 338 ۔ 340، ملخصاً و موضحا، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 109