*☀قرآن مجید کی روشنی میں ماضی ، حال اور مستقبل کے سب دکھوں کا مداوا* ۔

ارشاد باری تعالی ہے

🌹 قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔

( سورة يوسف 86)۔

🌄 ( بیٹوں کی تلخ و ترش بات کا جواب دیتے ہوئے یعقوب ) بولے ۔ سوائے اس کے اور کچھ نہیں بولتا کہ میں ( تم سے اپنے دکھڑے نہیں پھولوں گا ۔ بس )

اللہ کی جناب میں عرض کرتا ہوں اپنا “بَثِّ ” اور حزن اور ( ہاں تمہیں یہ دھیان بھی رہے کہ ) اللہ کی جناب سے میں وہ بھی جانتا ہوں جس کی تمہیں ہوا بھی کبھی نہیں لگی ۔

🖍 فقیر نے ” بَثِّ ” اور ” حزن ” کی اوپر اردو میں ترجمانی نہیں کی بلکہ سوچا کہ ان کی قدرے وضاحت کروں گا تاکہ قارئین کو اس دعاء کی عظمت اور قدر و قیمت کا کچھ ادراک ہو جائے اور ان کو بھی فقیر کی آج کی سی کیفیت سے پالا پڑے تو اس کو اپنا وظیفہ بنائیں ۔ ( اپنی تحریروں میں مقصود اصلی بھی خدمت دوستاں ہوتا ہے )

ہوا کچھ یوں ہے کہ جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضى الله تعالى عنها و ارضاها عنا مصطفی آباد ( منڈی بہاؤالدین ) کی تعمیر کے سلسلے میں فقیر 16 اگست سے یہاں پر ہے ۔ کام کی رفتار میں متوقع سرعت پہلے ہی نہ تھی ۔ اور اب تو اس ہفتہ سے کام بالکل بند ہے ۔

آج اچانک حافظے میں حضرت یعقوب على نبينا و عليه الصلوة و السلام کی مندرجہ بالا

اور مؤمن آل فرعون رحمة الله عليه

کی دعاء

وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ .

( سورة غافر 44 )

نمودار ہوئیں تو فجر کی سنتوں اور فرضوں کے مابین انہی کی کثرت کی ۔ اسی وقت دل میں آیا کہ اپنے معزز قارئین کو بھی اس دعاء کے بارے میں عرض کروں گا جو ماضی ، حال اور مستقبل کے سب دکھوں کا مداوا ہے ۔

📜 حزن ، همّ ، اور غمّ تینوں عربی الفاظ مفردات ، نظر اول میں مترادف المعنى نظر آتے ہیں ، لیکن درحقيقت ان میں اختلاف ہے ۔

مانا کہ یہ تینوں کسی انسان کو لاحق ہونے والے منفی اثرات و سلبيّ احساسات کے معانی دینے میں مشترک ہیں ۔

🌷 اپنے رب رحمان سے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں ہی سے پناہ مانگی ہے ۔

🔦 اس آیت میں

” حزن ” سیدنا حضرت يعقوب -عليه السّلام- کی اس دعا کی نقل کے طور پر آیا ہے جو آپ نے اس وقت کی جب اولاد میں سے زیادہ محبوب يوسف -عليه السّلام- سے جدائی کا طویل عرصہ بڑا شاق ہو گیا ۔ اور سوائے بنیامین کے باقی پاس موجود بیٹوں کی گفتگو بھی حوصلہ شکن بلکہ نامناسب تھی ۔

تفاسیر میں ہے کہ سیدنا یوسف نے جب آپ عزیز مصر ہو چکے تھے اور جبریل علیہ السلام آئے تو ان سے والد کی کیفیت پوچھی تو جبریل نے بتایا کہ اپنے خاوند و اولاد کھو بیٹھنے والی 70 عورتوں کے غم سے بھی زیادہ دکھی ہیں ۔ اور اس دکھ پر ملنے والے اجر کے سوال کے جواب میں بروایت 100 اور بروایت 70 شھداء کے اجر کے برابر بتایا ۔

تو پتا چلا کہ حزن ماضی میں پہنچنے والے کسی نقصان سے طاری ہو جانے والے شعور و احساس کا نام ہے اگرچہ روزمرہ کی بول چال میں ابھی وقوع پذیر ہونے والے معاملے سے ہونے والے دکھ کے لیئے بھی مستعمل ہے ۔

” همّ ” محسوسات کا وہ شعور جو انسان کو مستقبل کے امور میں تفکر سے ہوتا ہے ۔ طرح طرح کے واہمے اور اندیشے آتے ہیں ۔ یہ دینی ، دنیاوی ، مالی ، جسمانی ، اہل و عیال، اعزہ واقارب و احباب سے متعلقہ مختصر یہ کہ ہر نوع کے ہو سکتے ہیں ۔ مرد دانا ان هموم حيات کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیتا ، بلکہ اللہ سے دعائیں کرتا ہوا ، اسی پر توکل و اعتماد کرتا ہوا اپنی مہارت و حذاقت سے ان کے بیچ میں سے اپنا راستہ بناتا ہے اور فقیر جیسے لاچار صرف دعاء ہی پناہ لیتے ہیں ۔

” الغمّ ” اچانک نمودار ہو کر اطمینان قلبی چھین لینے والے أمور کے سامنے آنے پر پیدا ہونے والے شعور کو کہا جاتا ہے

لغت میں” البث ” کی حقیقت کچھ یہ بتائی گئی ہے ۔

انسان پر آن پڑنے والے وہ خطرناک واردات جو اس کو اندر باہر سے توڑ کر رکھ دیں اور وہ انہیں بتانا چاہے بھی نہیں لیکن پھر بھی زبان پر آ جائیں ۔ چھپانا چاہتا ہے لیکن وہ ظاہر ہو ہی جاتے ہیں ۔

الحزن اور البث کے مابین ایک فرق یہ بھی ہے کہ” الحزن” اور

“الهم ” دونوں کا تعلق قلب و باطن سے ہوتا ہے ۔

جبکہ البث کا تعلق کلام سے ہوتا ہے اور یہ بکثرت بکھر جاتا ہے ، منتشر ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ اپنے رب کے سامنے ہی ہو

” البثّ”، کا معنی حاجت ،

بھی تفاسیر میں ملتا ہے ۔

✅ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت یعقوب على نبينا و عليه الصلوة و السلام نے بتا دیا کہ میں جب اپنے رب کا بندہ ہوں تو اپنے تمام اندوہ و غموم دل سے بھی اور زبان سے بھی بس

اپنے رب سے ہی عرض کروں گا ۔ تمہیں بس یہی بتانا ہے ۔

اور سبق یہ نصیب ہوا کہ

* اس دنیوی زندگی کے ہر موڑ پر جس بھی کرب و یاس کا سامنا کسی انسان کو کرنا پڑ سکتا ہے اس سب کو اللہ کی بارگاہ میں مختصرا مگر بغیر کم و کاست کے عرض کر ڈالنے کا مکمل بند و بست اس آیت میں موجود ہے ۔

* پھر دوبارہ عرض کر دوں کہ اس دعاء کے پہلے قائل حضرت یعقوب على نبينا و عليه الصلوة و السلام ہیں ۔ اور پھر اس کے ناقل، اللہ عز اسمه ہیں تو یہ دلیل ہوئے اس کی جامعیت ، قبولیت اور تاثیر کے

* اور یہ سبق بھی تو ہے کہ صبر کرنا شیوہ انبیاء کرام على نبينا و عليهم الصلوة و السلام ہے

اپنی ضرورت اور اندرونی کیفیت کو عوام الناس کے سامنے بیان نہ کرنا

اور وہ کریدنا چاہیں تو انہیں نہ بتانا بلکہ یہ کہنا کہ تمہیں تو اپنے ماجرا کی ہوا بھی نہیں لگنے دینی ، حاجت و کیفیت جو بھی ہو اپنے رب کو ہی عرض کرنا ہے ۔

🙏 میرا کریم رب، میری اس کیفیت میں اس دعاء کو اسی طرح قبول فرما لے جس طرح حضرت سیدنا یعقوب سے قبول فرمایا تھا ۔ حسرت اور تمنا میری ہے اور کام اسی کے دین کا ہے اور اس کی عطاء سے اس کی جلد از جلد تکمیل کی سعادت اپنی اس چند روزہ زندگی میں اسی سے مانگتا ہوں ۔ اور سب اسباب و توفیقات و خزائن کا خالق و مالک وہی ہے اور وہ قریب ہے سننے والا ہے ، قبول فرمانے والا ہے ۔

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین