مسافر کی نمازکا بیان

m ہر شخص کو کہیں نہ کہیں سفر کرنے کا اتفاق ہوتا ہے ۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے کہ حضر ہو یا سفر ،ہر حال میں اسے ادا کرنا ہے۔ البتہ سفر کی نماز میں رعایت کی گئی ہے اور سفر میں قصر نماز پڑھنے کی آسانی دی گئی ہے ۔

m سفر کی حالت میں ظہر ، عصر اور عشاء یعنی چار رکعت والی فرض نماز میں قصر کرنے کا حکم ہے یعنی چار رکعت فرض کے بجائے دو رکعت فرض پڑھنے کا حکم ہے ۔ حالتِ سفر میں سنتیں پوری پڑھی جائیں گی اور اگر عجلت ہے تو سنتیں معاف ہیں۔

m شرعاً وہ شخص مسافر ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے اپنی بستی سے سفر کرنے کے لئے باہر ہو ۔ تین دن کی راہ سے مراد ساڑھے ستاون (۲/۵۷۱ ) میل کی مسافت ہے یعنی جو شخص اپنی بستی سے ساڑھے ستاون میل کی دوری کی مسافت کے سفر سے روانہ ہوا وہ مسافر ہے اور وہ قصر نماز پڑھے گا ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۷۶ ، فتاوٰی رضویہ ، جلد۳ ص۶۶۷)

m ساڑھے ستاون میل (57½ Mile) کے کلومیٹر92.54 ہوتے ہیں ۔ مندرجہ ذیل حساب ملاحظہ ہو :-

1Mile = 1.60934 k.m. i.e.

57.5 Mile = 92.53705 K.M………….Say = 92.54 k.m.

m سفر میں نماز قصر کرنے کے تعلق سے چند احادیث کریمہ پیش خدمت ہیں:-

حدیث: صحیحین میں ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ فرماتی ہیں ’’ نماز دو رکعت فرض کی گئی۔ پھر حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ہجرت فرمائی تو چا رفرض کردی گئیںاور سفر کی نماز اسی پہلے فرض پر چھوڑی گئی ۔‘‘

حدیث: صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ’’اللہ عزوجل نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی زبانی حضر میں چار رکعتیں فرض کیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں ۔‘‘

حدیث: ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے سفر کی نماز دو (۲)رکعتیں مقرر فرمائیں اور یہ پوری ہیں کم نہیں یعنی اگرچہ بظاہر دو (۲)رکعتیں کم ہوگئیں مگر ثواب میں یہ دو رکعتیں چار کے برابر ہیں۔‘‘